Shab E Barat ar Shaban ki Fazilat by Syed Zaheer Hussain Refai.شب برات اور شعبان کی فضیلت سید ظہیر حسین شاہ رفاعی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہم صلی علی محمد وعلی آلہ وصحبہ
وسلم
شب برات اور شعبان کی فضیلت کے حوالے سے
قرآن و حدیث کی روشنی میں عارضی طور پر یہ کتاب نشر کی جارہی ہے۔اگر آپ دوران
مطالعہ کسی مقام پر کوئی لفظی یا معنوی غلطی نظر آے براہ کرم 03044653433 پر وٹس ایپ
کر دیں تاکہ جب یہ کتاب پرنٹ کروائی جاے اس غلطی سے بچا جا سکے۔اس صدقہ جاریہ کا
حصہ بنیں خود بھی پڑھیں اور باقی مسلمانوں کو بھی پڑھنے کی ترغیب دیں۔شکریہ
سید ظہیر حسین شاہ
رفاعی
رفاعی اسلامک سرچ
سینٹر
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حٰـمۗ
Ǻڔ
وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ Ąڒ
اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ Ǽ فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ
حَكِيْمٍ Ćۙ
حامیم ۔ اس واضح کتاب کی قسم ۔ بیشک ہم نے اس کتاب
کو برکت والی رات میں نازل فرمایا، بیشک ہم عذاب سے ڈرانے والے ہیں ۔ اس رات میں
ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے ۔تبیان القرآن۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کثرت سے شعبان میں روزے
رکھنا
عَنْ
عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّی نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّی
نَقُولَ لَا يَصُومُ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ اسْتَکْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ أَکْثَرَ
صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ
حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے۔کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) روزہ رکھتے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب افطار نہ کریں گے اور افطار کرتے
جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب روزہ نہ رکھیں گے اور میں نے نہیں دیکھا کہ نبی
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان کے سوا کسی مہینہ پورے روزے رکھے ہوں اور نہ
شعبان کے مہینہ سے زیادہ کسی مہینہ میں آپ کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھا۔بخاری
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ
اللَّهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهُ قَالَتْ لَمْ يَکُنْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا أَکْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ فَإِنَّهُ کَانَ
يَصُومُ شَعْبَانَ کُلَّهُ وَکَانَ يَقُولُ خُذُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ
فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّی تَمَلُّوا وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَی
النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ
قَلَّتْ وَکَانَ إِذَا صَلَّی صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے
ہیں ان سے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا ) نے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) شعبان سے زیادہ کسی مہینہ میں روزے نہیں رکھتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) شعبان کے پورے مہینہ میں روزے رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اتنا ہی عمل
اختیار کرو۔ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو اللہ تعالیٰ نہیں اکتا جاتا جب تک کہ تم نہ
اکتا جاؤ اور سب سے محبوب نماز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک وہ
تھی جس پر ہمیشگی کی جائے اگرچہ کم ہی ہو
اور جب کوئی نماز پڑھتے تو اس پر ہمیشگی کرتے۔ بخاری
عَنْ
خَالِدٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ
الصِّيَامِ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
کَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ کُلَّهُ وَيَتَحَرَّی صِيَامَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ
جبیر بن نفیر (رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عائشہ صدیقہ
(رضی اللہ عنہا ) سے روزوں کے متعلق دریافت فرمایا تو انہوں نے فرمایا رسول کریم
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پورے ماہ شعبان میں روزے رکھتے تھے اور آپ (صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم) پیر اور جمعرات کے دن کے روزے کا خیال فرماتے تھے۔ سنن نسائی
عَنْ أُمِّ
سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ لَا
يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ
ام سلمہ (رضی اللہ عنہا ) سے روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) کبھی دو ماہ پے درپے اور مسلسل روزے نہ رکھتے علاوہ ماہ شعبان اور ماہ رمضان
المبارک کے (یعنی ان دونوں مہینے کے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل روزے
رکھتے تھے) ۔سنن نسائی
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شعبان
کی تاریخوں کا اہتمام فرمانا
عَنْ عَبْدِ
اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
تَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ
مِنْ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ
رَمَضَانَ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ثُمَّ صَامَ
حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) شعبان کی تاریخوں کو جس قدر اہتمام سے یاد رکھتے تھے اتنا کسی اور مہینہ کی
تاریخوں کو یاد نہیں رکھتے تھے پھر جب رمضان کا چاند ہوتا تو روزے رکھتے اور اگر
اس دن مطلع صاف نہ ہوتا (اور چاند نظر نہ آتا تو) شعبان کے تیس دن پورے کرتے اور
پھر روزے رکھتے ۔سنن ابو داود
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شعبان
کے روزے رمضان سے ملا دینا
عَنْ أُمِّ
سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَکُنْ
يَصُومُ مِنْ السَّنَةِ شَهْرًا تَامًّا إِلَّا شَعْبَانَ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ
حضرت ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) سال کے کسی مہینہ میں پورے مہینہ کے روزے نہیں رکھتے تھے سوائے شعبان
کے کہ اس کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان سے ملا دیتے تھے۔ ابوداود۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شعبان
سے محبت فرمانا
عَنْ عَبْدِ
اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ کَانَ أَحَبَّ الشُّهُورِ
إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ
شَعْبَانُ ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ
حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم روزہ رکھنے کے لیے شعبان کو بہت پسند فرماتے تھے پھر آپ شعبان کو رمضان سے
ملا دیتے تھے۔ ابوداود
عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ زَادَ
کَانَ يَصُومُهُ إِلَّا قَلِيلًا بَلْ کَانَ يَصُومُهُ کُلَّهُ
حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) بھی اسی کے مثل روایت ہے اس میں یہ زائد ہے
کہ آپ شعبان کے مہینہ میں اکثر دنوں میں روزے رکھتے اور بہت کم ناغہ کرتے بلکہ
سارا شعبان ہی روزے رکھتے۔ابوداود
شعبان میں اعمال اللہ کی طرف بلند ہونا
حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ
اللَّهِ لَمْ أَرَکَ تَصُومُ شَهْرًا مِنْ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ
قَالَ ذَلِکَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ وَهُوَ
شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَی رَبِّ الْعَالَمِينَ فَأُحِبُّ أَنْ
يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ
اسامہ بن زید (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ یا رسول
اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ماہ شعبان کے
علاوہ کسی دوسرے ماہ میں اس طریقہ سے (یعنی پابندی سے) روزہ رکھتا ہوا نہیں دیکھتا
ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یہ مہینہ وہ مہینہ ہے کہ جس کی
برکت (اور عظمت) سے لوگ غافل ہیں اور ماہ رجب اور ماہ رمضان کے درمیان یہ وہ مہینہ
ہے کہ جس میں انسان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے پاس اٹھائے جاتے ہیں اور میری خواہش
ہے کہ میرا عمل اس وقت پیش ہو جس وقت میرا روزہ ہو۔ سنن نسائی
رمضان کے بعد شعبان کے روزے افضل روزے
عَنْ أَنَسٍ
قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّوْمِ
أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ فَقَالَ شَعْبَانُ لِتَعْظِيمِ رَمَضَانَ قِيلَ فَأَيُّ
الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ صَدَقَةٌ فِي رَمَضَانَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا
حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَصَدَقَةُ بْنُ مُوسَی لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِذَاکَ الْقَوِيِّ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا رمضان شریف کے بعد کونسا روزہ
افضل ہے فرمایا رمضان کی تعظیم کے لیے شعبان کے روزے رکھنا۔ پوچھا گیا کونسا صدقہ
افضل ہے فرمایا رمضان میں صدقہ دینا ۔ترمذی
شعبان کے چاند کی تاریخیں گننے کا حکم
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ
أَحْصُوا هِلَالَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ
حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) نے فرمایا رمضان کے لیے شعبان کے چاند کے دن گنتے رہو۔ترمذی
شب برات کی رات اللہ کا آسمان دنیا پر نزول
فرمانا
حَدَّثَنَا
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ
بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ
قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَخَرَجْتُ
فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ أَکُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ
عَلَيْکِ وَرَسُولُهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّکَ
أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِکَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ
النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِأَکْثَرَ مِنْ
عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَکرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ
أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ
حَدِيثِ الْحَجَّاجِ و سَمِعْت مُحَمَّدًا يُضَعِّفُ هَذَا الْحَدِيثَ و قَالَ
يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ وَالْحَجَّاجُ بْنُ
أَرْطَاةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ
عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ ایک رات میں نے رسول اللہ (صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم) کو نہ پایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاش میں نکلی آپ
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بقیع میں تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا
کیا تم ڈر رہی تھی کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم نہ کریں میں نے عرض کیا یا
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے سمجھا کہ شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) کسی دوسری بیوی کے پاس تشریف لے گئے ہوں گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے
فرمایا اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات کو آسمان دنیا (اپنی شان کے مطابق)نزول
فرماتا ہے۔ اور بنوکلب کی بکریوں کے بالوں
سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ اس باب میں حضرت ابوبکر صدیق سے
بھی روایت ہے۔ترمذی
شب برات کی رات میں عبادت اور دن کے روزہ
رکھنے کا حکم
عَنْ
عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ إِذَا کَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُومُوا لَيْلَهَا
وَصُومُوا نَهَارَهَا فَإِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَی
سَمَائِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهُ أَلَا
مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ أَلَا مُبْتَلًی فَأُعَافِيَهُ أَلَا کَذَا أَلَا کَذَا
حَتَّی يَطْلُعَ الْفَجْرُ
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
نے فرمایا جب نصف شعبان کی رات ہو تو رات کو عبادت کرو اور آئندہ دن روزہ رکھو اس
لیے کہ اس میں غروب شمس سے فجر طلوع ہونے تک آسمان دنیا پر اللہ تعالیٰ نزول
فرماتے ہیں اور یہ کہتے ہیں ہے کوئی مغفرت کا طلبگار کہ میں اس کی مغفرت کروں۔
کوئی روزی کا طلبگار کہ میں اس کو روزی دوں۔ ہے کوئی بیمار کہ میں اس کو بیماری سے
عافیت دوں ہے کوئی ایسا ہے کوئی۔ یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔ ابن ماجہ
شب برات تمام مخلوق کی بخشش
عَنْ أَبِي
مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ
فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِکٍ أَوْ مُشَاحِنٍ حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ
الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ
الضَّحَّاکِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَی
عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی شب متوجہ ہوتا ہے۔ اور تمام مخلوق کی بخشش فرما دیتا
ہے۔ سوائے شرک کرنے والے اور کینہ رکھنے والے کے۔ دوسری سند سے بھی ایسا ہی مضمون
مروی ہے۔ ابن ماجہ
اے اللہ رجب اور شعبان کو ہمارے لیے
بابرکت فرما
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ رَجَبٌ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا
فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَارِكْ لَنَا فِي رَمَضَانَ وَكَانَ يَقُولُ لَيْلَةُ
الْجُمُعَةِ غَرَّاءُ وَيَوْمُهَا أَزْهَرُ
حضرت انس (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ جب رجب کا مہینہ شروع ہوتا تو نبی
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا فرماتے کہ اے اللہ ! ماہ رجب اور شعبان کو ہمارے
لیے مبارک فرما اور ماہ رمضان کی برکتیں ہمیں عطاء فرما، نیز آپ (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) یہ بھی فرماتے تھے کہ جمعہ کی رات روشن اور اس کا دن چمکتا ہوا ہوتا
ہے۔ مسند احمد
لوگ شعبان کی عظمت سے غافل ہیں
حَدَّثَنِي
أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ يَصُومُ الْأَيَّامَ يَسْرُدُ حَتَّى يُقَالَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ
الْأَيَّامَ حَتَّى لَا يَكَادَ أَنْ يَصُومَ إِلَّا يَوْمَيْنِ مِنْ الْجُمُعَةِ
إِنْ كَانَا فِي صِيَامِهِ وَإِلَّا صَامَهُمَا وَلَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ
مِنْ الشُّهُورِ مَا يَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ
تَصُومُ لَا تَكَادُ أَنْ تُفْطِرَ وَتُفْطِرَ حَتَّى لَا تَكَادَ أَنْ تَصُومَ
إِلَّا يَوْمَيْنِ إِنْ دَخَلَا فِي صِيَامِكَ وَإِلَّا صُمْتَهُمَا قَالَ أَيُّ
يَوْمَيْنِ قَالَ قُلْتُ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمُ الْخَمِيسِ قَالَ ذَانِكَ
يَوْمَانِ تُعْرَضُ فِيهِمَا الْأَعْمَالُ عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ وَأُحِبُّ
أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ قَالَ قُلْتُ وَلَمْ أَرَكَ تَصُومُ مِنْ
شَهْرٍ مِنْ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ قَالَ ذَاكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ
النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ وَهُوَ شَهْرٌ يُرْفَعُ فِيهِ
الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا
صَائِمٌ
حضرت اسامہ بن زید (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی کریم (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم) اتنے تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ لوگ کہتے اب نبی کریم (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناغہ نہیں کریں گے اور بعض اوقات اتنے تسلسل کے ساتھ ناغہ
فرماتے کہ یوں محسوس ہوتا کہ اب روزہ رکھیں گے ہی نہیں، البتہ ہفتہ میں دو دن ایسے
تھے کہ اگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں روزے سے ہوتے تو بہت اچھا،
ورنہ ان کا روزہ رکھ لیتے تھے اور کسی مہینے میں نفلی روزے اتنی کثرت سے نہیں
رکھتے تھے جتنی کثرت سے ماہ شعبان میں رکھتے تھے یہ دیکھ کر ایک دن میں نے عرض کیا
یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ بعض اوقات اتنے روزے رکھتے ہیں کہ
افطار کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے ہیں کہ روزے رکھتے
ہوئے دکھائی نہیں دیتے، البتہ دو دن ایسے ہیں کہ اگر آپ کے روزوں میں آجائیں تو
بہتر ورنہ آپ ان کا روزہ ضرور رکھتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے
پوچھا کون سے دو دن ؟ میں نے عرض کی پیر اور جمعرات، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) نے فرمایا ان دو دنوں میں رب العالمین کے سامنے تمام اعمال پیش کئے جاتے
ہیں، میں چاہتا ہوں کہ جب میرے اعمال پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔ پھر میں نے عرض
کیا کہ جتنی کثرت سے میں آپ کو ماہ شعبان کے نفلی روزے رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں، کسی
اور مہینے میں نہیں دیکھتا ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رجب
اور رمضان کے درمیان اس مہینے کی اہمیت سے لوگ غافل ہوتے ہیں حالانکہ اس مہینے میں
رب العالمین کے سامنے اعمال پیش کئے جاتے ہیں اس لیے میں چاہتا ہوں کہ جب میرے
اعمال پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔ مسند احمد
شب
برات میں موت کے فیصلے
حَدَّثَنَا
یَزِیدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِیُّ ، عَنِ الْمُہَاجِرِ أَبِی
الْحَسَنِ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، قَالَ : لَمْ یَکُنْ رَسُولُ اللہِ
صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی شَہْرٍ أَکْثَرَ صِیَامًا مِنْہُ فِی
شَعْبَانَ ، وَذَلِکَ أَنَّہُ تُنْسَخُ فِیہِ آجَالُ مَنْ یَمُوتُ فِی السَّنَۃِ۔
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ
روزے شعبان کے مہینے میں رکھا کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس مہینے میں ان
لوگوں کا وقت لکھا جاتا ہے جن کا اس سال انتقال ہونا ہے۔ابن شیبہ
شب برات قبولیت کی رات
أَخْبَرَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ
أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ
بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ثَوْرُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ
أَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ: مَنْ قَامَ لَیْلَتَیِ الْعِیدِ لِلَّہِ مُحْتَسِبًا
لَمْ یَمُتْ قَلْبُہُ حِینَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ۔
قَالَ
الشَّافِعِیُّ: وَبَلَغَنَا أَنَّہُ کَانَ یُقَالُ: إِنَّ الدُّعَائَ یُسْتَجَابُ
فِی خَمْسِ لَیَالٍ فِی لَیْلَۃِ الْجُمُعَۃِ وَلَیْلَۃِ الأَضْحَی وَلَیْلَۃِ
الْفِطْرِ وَأَوَّلِ لَیْلَۃِ مِنْ رَجَبٍ وَلَیْلَۃِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ۔
ابو درداء (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ جس نے عیدین کی راتیں ثواب کی نیت
سے عبادت کی اس کا دل مردہ نہیں ہوگا جب دل مردہ ہوجائیں گے۔ امام شافعی (رح)
فرماتے ہیں : دعا پانچ راتوں میں قبول کی جاتی ہے : جمعہ ‘ عید الاضحی ‘ عید الفطر ‘ رجب کی پہلی رات اور نصف شعبان کی رات۔بیہقی
شعبان کے آخری دن حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کا استقبال رمضان کا خطبہ مبارک
وعن سلمان قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في
آخر يوم من شعبان فقال : " يا أيها الناس قد أظلكم شهر عظيم مبارك شهر فيه
ليلة خير من ألف شهر جعل الله تعالى صيامه فريضة وقيام ليله تطوعا من تقرب فيه
بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه ومن أدى فريضة فيه كان كمن أدى سبعين
فريضة فيما سواه وهو شهر الصبر والصبر ثوابه الجنة وشهر المواساة وشهر يزداد فيه
رزق المؤمن من فطر فيه صائما كان له مغفرة لذنوبه وعتق رقبته من النار وكان له مثل
أجره من غير أن ينقص من أجره شيء " قلنا : يا رسول الله ليس كلنا يجد ما نفطر
به الصائم . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " يعطي الله هذا الثواب من
فطر صائما على مذقة لبن أو تمرة أو شربة من ماء ومن أشبع صائما سقاه الله من حوضي
شربة لا يظمأ حتى يدخل الجنة وهو شهر أوله رحمة وأوسطه مغفرة وآخره عتق من النار
ومن خفف عن مملوكه فيه غفر الله له وأعتقه من النار " . رواه البيهقي
حضرت سلمان فارسی (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں۔ کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) نے شعبان کے آخری دن ہمارے سامنے (جمعہ کا یا بطور تذکیر و نصیحت) خطبہ
دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو ! باعظمت مہینہ تمہارے اوپر سایہ فگن ہو رہا ہے (یعنی
ماہ رمضان آیا ہی چاہتا ہے) یہ بڑا ہی بابرکت اور مقدس مہینہ ہے یہ وہ مہینہ ہے جس
میں وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض کئے
ہیں اور اس کی راتوں قیام (عبادت خداوندی) جاگنا نفل قرار دیا ہے جو اس ماہ مبارک
میں نیکی (یعنی نفل) کے طریقے اور عمل کے بارگاہ حق میں تقرب کا طلبگار ہوتا ہے تو
وہ اس شخص کی مانند ہوتا ہے جس نے رمضان کے علاوہ کسی دوسرے مہینے میں فرض ادا کیا
ہو (یعنی رمضان میں نفل اعمال کا ثواب رمضان کے علاوہ دوسرے دنوں میں فرض اعمال کے
ثواب کے برابر ہوتا ہے) اور جس شخص نے ماہ رمضان میں (بدنی یا مالی) فرض ادا کی تو
وہ اس شخص کی مانند ہوگا جس نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں ستر فرض ادا کئے ہوں
(یعنی رمضان میں کسی ایک فرض کی ادائیگی کا ثواب دوسرے دنوں میں ستر فرض کی
ادائیگی کے ثواب کے برابر ہوتا ہے) اور ماہ رمضان صبر کا مہینہ ہے (کہ روزہ دار
کھانے پینے اور دوسری خواہشات سے رکا رہتا ہے) وہ صبر جس کا ثواب بہشت ہے ماہ
رمضان غم خواری کا مہینہ ہے لہٰذا اس ماہ میں محتاج و فقراء کی خبر گیری کرنی
چاہیے اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں (دولت مند اور مفلس ہر طرح) مومن کا (ظاہر اور
معنوی) رزق زیادہ کیا جاتا ہے جو شخص رمضان میں کسی روزہ دار کو (اپنی حلال کمائی سے)
افطار کرائے تو اس کا یہ عمل اس کے گناہوں کی بخشش و مغفرت کا ذریعہ اور دوزخ کی
آگ سے اس کی حفاظت کا سبب ہوگا اور اس کو روزہ دار کے ثواب کی مانند ثواب ملے گا
بغیر اس کے روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی ہو۔ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم
میں سب تو ایسے نہیں ہیں جو روزہ دار کی افطاری کے بقدر انتظام کرنے کی قدرت رکھتے
ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ ثواب اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی
عنایت فرماتا ہے جو کسی روزہ دار کو ایک گھونٹ لسی یا کھجور اور یا ایک گھونٹ پانی
ہی کے ذریعے افطار کرا دے اور جو شخص کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھلائے تو اللہ
تعالیٰ اسے میرے حوض (یعنی حوض کوثر) سے اس طرح سیراب کرے گا کہ وہ (اس کے بعد)
پیاسا نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ بہشت میں داخل ہوجائے اور ماہ رمضان وہ مہینہ ہے
جس کا ابتدائی حصہ رحمت ہے درمیانی حصہ بخشش ہے یعنی وہ مغفرت کا زمانہ ہے اور اس
کے آخری حصے میں دوزخ کی آگ سے نجات ہے (مگر تینوں چیزیں مومنین کے لیے ہی مخصوص
ہیں کافروں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے) اور جو شخص اس مہینے میں اپنے غلام و
لونڈی کا بوجھ ہلکا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور اسے آگ سے نجات دے گا۔
مشکوۃ
حسد کرنے والے شب برات میں بخشش سے محروم
إن الله تعالى يطلع على عباده في ليلة النصف من شعبان فيغفر
للمستغفرين، ويرحم المسترحمين، ويؤخر أهل الحقد كما هم عليه
اللہ تعالیٰ پندرھویں شعبان کی رات اپنے بندوں کی طرف خصوصی رحمت سے دیکھتے
ہیں، (تو اس رات) استغفار (رحمت) طلب کرنے والوں کی بخشش کردیتے ہیں، اور رحم طلب
کرنے والوں پر رحم کرتے ہیں اور حسد کرنے والوں کو انہی کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔کنز
العمال
Comments
Post a Comment