اذان کی فرضیت و فضیلت و احکامات
اللہم
صلی علی محمد و علی آلہ وصحبہ وسلم
اذان کی فرضیت و فضیلت احکامات کے حوالے سے احادیث کی روشنی یہ کتاب
عارضی نشر کی جار ہی ہے۔اگر آپ اس کتاب میں کسی مقام پر کسی بھی قسم کی غلط
دیکھیں مہربانی فرماکر 03044653433 نمبر پر وٹس ایپ فرمائیں۔تاکہ ہارڈ کاپی میں وہ
غلطی شامل نہ ہو۔پروف ریڈنگ کے فرائض سر انجام دے کر آپ بھی اپنے لیے صدقہ جاریہ
کا دروازہ کھولیں۔اس کتاب کو خو د بھی پڑھیں ۔اپنے عزیزواقارب دوست احباب و دیگر
گروپس میں صدقہ جاریہ کے طور پر اس کتاب کو شئیر فرمائیں
سید ظہیر حسین شاہ رفاعی
رفاعی اسلامک ریسرچ سینٹر
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ
اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى
ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَ Ḍ
اے ایمان والو !
جب جمعہ کے دن نماز (جمعہ) کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو، اور
خریدو فروخت چھوڑ دو ، یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے اگر تم جانتے ہو .(تبیان
القرآن از علامہ غلام رسول احمد سعیدی)
بلند آواز سے اذان دینے کی فضیلت
حَدَّثَنَا
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَة
الْأَنْصَارِيِّ ، ثُمَّ الْمَازِنِيِّ عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ،
أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ لَهُ: إِنِّي أَرَاكَ
تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ، فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ
فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ، فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ
مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ
الْقِيَامَةِ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابو
سعید خدری ؓ صحابی نے ان سے بیان کیا کہ میں
دیکھتا ہوں کہ تمہیں بکریوں اور جنگل میں رہنا پسند ہے۔ اس لیے جب تم جنگل میں اپنی
بکریوں کو لیے ہوئے موجود ہو اور نماز کے لیے اذان دو تو تم بلند آواز سے اذان دیا
کرو۔ کیونکہ جن و انس بلکہ تمام ہی چیزیں جو مؤذن کی آواز سنتی ہیں قیامت کے دن اس
پر گواہی دیں گی۔ ابوسعید ؓ نے فرمایا کہ یہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا
ہے۔بخاری 609
جہاں اذان ہوتی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم وہاں حملہ نہ کرتے
حَدَّثَنَا
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ
، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَزَا بِنَا قَوْمًا لَمْ يَكُنْ يَغْزُو
بِنَا حَتَّى يُصْبِحَ وَيَنْظُرَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ،
وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَخَرَجْنَا
إِلَى خَيْبَرَ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ لَيْلًا، فَلَمَّا أَصْبَحَ وَلَمْ
يَسْمَعْ أَذَانًا رَكِبَ وَرَكِبْتُ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ
قَدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَخَرَجُوا
إِلَيْنَا بِمَكَاتِلِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْا النَّبِيَّ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ، مُحَمَّدٌ
وَالْخَمِيسُ، قَالَ: فَلَمَّا رَآهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ،
خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ
الْمُنْذَرِينَ.
انس
بن مالک رضی اللہ عنہہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ ہمیں
ساتھ لے کر کہیں جہاد کے لیے تشریف لے جاتے، تو فوراً ہی حملہ نہیں کرتے تھے۔ صبح ہوتی
اور پھر آپ انتظار کرتے اگر اذان کی آواز سن لیتے تو حملہ کا ارادہ ترک کردیتے اور
اگر اذان کی آواز نہ سنائی دیتی تو حملہ کرتے تھے۔ انس ؓ نے کہا کہ ہم خیبر کی طرف
گئے اور رات کے وقت وہاں پہنچے۔ صبح کے وقت جب اذان کی آواز نہیں سنائی دی تو آپ
اپنی سواری پر بیٹھ گئے اور میں ابوطلحہ ؓ کے پیچھے بیٹھ گیا۔ چلنے میں میرے قدم نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک سے چھو چھو جاتے تھے۔ انس ؓ نے کہا
کہ خبیر کے لوگ اپنے ٹوکروں اور کدالوں کو لیے ہوئے (اپنے کام کاج کو) باہر نکلے۔ تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا،
اور چلا اٹھے کہ محمد والله محمد ( ﷺ ) پوری
فوج سمیت آگئے۔ انس ؓ نے کہا کہ جب نبی کریم ﷺ نے انہیں
دیکھا تو آپ نے فرمایا الله أكبر، الله أكبر خیبر پر خرابی آگئی۔ بیشک
جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر جائیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوگی۔بخاری
610
اذان سن کر کیا کہنا چاہیے
حَدَّثَنَا
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ
ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي
سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ.
حضرت
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
ﷺ نے فرمایا کہ جب تم اذان سنو تو جس طرح مؤذن
کہتا ہے اسی طرح تم بھی کہو۔بخاری 611
جب مؤذن حی علی الصلاۃ کہے تو کیا کہنا چاہیے
حَدَّثَنَا
إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ،
قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى نَحْوَهُ. قَالَ يَحْيَى : وَحَدَّثَنِي بَعْضُ إِخْوَانِنَا
، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا قَالَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ:
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَقَالَ: هَكَذَا سَمِعْنَا
نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ
یحییٰ
نے کہا کہ مجھ سے میرے بعض بھائیوں نے حدیث بیان کی کہ جب مؤذن نے حى على الصلاة کہا تو معاویہ ؓ نے
لا حول ولا قوة إلا بالله کہا اور کہنے لگے کہ ہم نے نبی کریم ﷺ سے ایسا
ہی کہتے سنا ہے۔بخاری
اذان کے بعد کی دعا پڑھنے کی فضیلت
حَدَّثَنَا
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ
، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ
قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ، اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ
وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ
مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔بخاری
614
رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اذان سن کر یہ
کہے اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت
محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته
اسے قیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔
اذان کے لیے قرعہ اندازی
حَدَّثَنَا
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ
سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْ
يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا
إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي
التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ
وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا.
نبی
کریم ﷺ
نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اذان کہنے اور نماز پہلی صف میں پڑھنے
سے کتنا ثواب ملتا ہے۔ پھر ان کے لیے قرعہ ڈالنے کے سوائے اور کوئی چارہ نہ باقی رہتا،
تو البتہ اس پر قرعہ اندازی ہی کرتے اور اگر لوگوں کو معلوم ہوجاتا کہ نماز کے لیے
جلدی آنے میں کتنا ثواب ملتا ہے تو اس کے لیے دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے۔ اور
اگر لوگوں کو معلوم ہوجاتا کہ عشاء اور صبح کی نماز کا ثواب کتنا ملتا ہے، تو ضرور
گھسیٹتے ہوئے ان کے لیے آتے۔بخاری
615
تیز بارش اور اذان
حَدَّثَنَا
مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ،
وَعَبْدِ الْحَمِيدِ صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ ، وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ
، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ
فِي يَوْمٍ رَدْغٍ، فَلَمَّا بَلَغَ الْمُؤَذِّنُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ،
فَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ
بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: فَعَلَ هَذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ
وَإِنَّهَا عَزْمَةٌ.
ابن
عباس ؓ نے ایک دن ہم کو جمعہ کا خطبہ دیا۔ بارش کی وجہ سے اس دن اچھی خاصی کیچڑ ہو
رہی تھی۔ مؤذن جب حى على الصلاة پر پہنچا تو آپ نے اس سے الصلاة في الرحال کہنے
کے لیے فرمایا کہ لوگ نماز اپنی قیام گاہوں پر پڑھ لیں۔ اس پر لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے
لگے۔ ابن عباس ؓ نے کہا کہ اسی طرح مجھ سے جو افضل تھے، انہوں نے بھی کیا تھا اور اس
میں شک نہیں کہ جمعہ واجب ہے۔بخاری
616
ابن مکتوم نابینا موذن
حَدَّثَنَا
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ،
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ،
فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، ثُمَّ
قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى لَا يُنَادِي حَتَّى يُقَالَ لَهُ أَصْبَحْتَ
أَصْبَحْتَ.
رسول
اللہ ﷺ
نے فرمایا کہ بلال تو رات رہے اذان دیتے ہیں۔ اس لیے تم لوگ کھاتے پیتے رہو۔
یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں۔ راوی نے کہا کہ وہ نابینا تھے اور اس وقت تک اذان
نہیں دیتے تھے جب تک ان سے کہا نہ جاتا کہ صبح ہوگئی۔ صبح ہوگئی۔بخاری
سفر میں اذان دینا
حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ
الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ
، قَالَ: أَتَى رَجُلَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
يُرِيدَانِ السَّفَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
إِذَا أَنْتُمَا خَرَجْتُمَا فَأَذِّنَا، ثُمَّ أَقِيمَا، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا
أَكْبَرُكُمَا.
دو
شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے یہ کسی سفر میں جانے والے تھے۔
آپ ﷺ
نے ان سے فرمایا کہ دیکھو جب تم سفر میں نکلو تو (نماز کے وقت راستے میں) اذان دینا پھر اقامت کہنا، پھر جو شخص تم میں عمر
میں بڑا ہو نماز پڑھائے۔بخاری 630
حَدَّثَنَا
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُهَاجِرِ
أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ،
قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ
فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ، فَقَالَ لَهُ: أَبْرِدْ،
ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ، فَقَالَ لَهُ: أَبْرِدْ،
ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ، فَقَالَ لَهُ: أَبْرِدْ،
حَتَّى سَاوَى الظِّلُّ التُّلُولَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ
گرمی کے موسم میں ظہر کی اذان.
حضرت ابوذرغفاری ؓ سے روایت ہے
وہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ مؤذن نے اذان دینی چاہی
تو آپ ﷺ
نے فرمایا ٹھنڈا ہونے دے۔ پھر مؤذن نے اذان دینی چاہی تو آپ ﷺ نے پھر
یہی فرمایا کہ ٹھنڈا ہونے دے۔ یہاں تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہوگیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا
کہ گرمی کی شدت دوزخ کی بھاپ سے پیدا ہوتی ہے۔بخاری 629
شدید سرد رات اور اذان
حَدَّثَنَا
مُسَدَّدٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ
بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، قَالَ: أَذَّنَ ابْنُ
عُمَرَ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ بِضَجْنَانَ، ثُمَّ قَالَ: صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ،
فَأَخْبَرَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ
يَأْمُرُ مُؤَذِّنًا يُؤَذِّنُ، ثُمَّ يَقُولُ عَلَى إِثْرِهِ: أَلَا
صَلُّوا فِي الرِّحَالِ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ أَوِ الْمَطِيرَةِ فِي السَّفَرِ.
عبداللہ
بن عمر ؓ نے ایک سرد رات میں مقام ضجنان پر اذان دی پھر فرمایا ألا صلوا في الرحال
کہ لوگو! اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو اور ہمیں آپ نے بتلایا کہ نبی کریم ﷺ مؤذن
سے اذان کے لیے فرماتے اور یہ بھی فرماتے کہ مؤذن اذان کے بعد کہہ دے کہ لوگو! اپنے
ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔ یہ حکم سفر کی حالت میں یا سردی یا برسات کی راتوں میں تھا۔بخاری
جمعہ کے دن دوسری اذان دینا
حَدَّثَنَا
آدَمُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ
، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: كَانَ النِّدَاءُ يَوْمَ
الْجُمُعَةِ أَوَّلُهُ إِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ
عَنْهُمَا، فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَثُرَ النَّاسُ
زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَى الزَّوْرَاءِ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ:
الزَّوْرَاءُ مَوْضِعٌ بِالسُّوقِ بِالْمَدِينَةِ.
نبی
کریم ﷺ
اور ابوبکر اور عمر ؓ کے زمانے میں جمعہ کی پہلی اذان اس وقت دی جاتی تھی جب
امام منبر پر خطبہ کے لیے بیٹھتے لیکن عثمان ؓ کے زمانہ میں جب مسلمانوں کی کثرت ہوگئی
تو وہ مقام زوراء سے ایک اور اذان دلوانے لگے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری (رح)) فرماتے ہیں کہ زوراء مدینہ کے بازار میں ایک جگہ
ہے۔بخاری 912
عیدین کے دن اذان
وأَخْبَرَنِي
عَطَاءٌ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ،
قَالَا: لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى.
حضرت
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ عیدالفطر
اور عید الاضحی کی نماز کے لیے نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کے عہد میں اذان نہیں دی جاتی
تھی۔بخاری 960
اذان سن کر شیطان کا بھاگنا
حَدَّثَنَا
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ
أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ،
أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا نُودِيَ
لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ،
فَإِذَا قَضَى النِّدَاءَ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ،
حَتَّى إِذَا قَضَى التَّثْوِيبَ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ
وَنَفْسِهِ، يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ
حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى.
نبی
کریم ﷺ
نے فرمایا جب نماز کے کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوزمارتا(ہواخارج
کرتا) ہوا بڑی تیزی کے ساتھ پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے۔ تاکہ اذان کی آواز نہ سن سکے اور
جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے۔ لیکن جوں ہی تکبیر شروع ہوئی وہ پھر
پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے۔ جب تکبیر بھی ختم ہوجاتی ہے تو شیطان دوبارہ آجاتا ہے اور
نمازی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کر فلاں بات یاد کر۔ ان باتوں
کی شیطان یاد دہانی کراتا ہے جن کا اسے خیال بھی نہ تھا اور اس طرح اس شخص کو یہ بھی
یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔بخاری
608
اذان دینے والوں کی فضیلت
حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ
يَحْيَی عَنْ عَمِّهِ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَجَائَهُ
الْمُؤَذِّنُ يَدْعُوهُ إِلَی الصَّلَاةِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ
صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا
يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت
طلحہ بن یحییٰ ؓ نے اپنے چچا سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت معاویہ بن ابی
سفیان کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک مؤذن آیا جو آپ کی نماز کی طرف بلارہا تھا تو حضرت
معاویہ ؓ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے مؤذن قیامت کے دن
لمبی گردنوں والے ہوں گے۔مسلم 852
شیطان کا اذان سن کر چھتیس میل دور بھاگنا
حَدَّثَنَا
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ
قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ
عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَائَ بِالصَّلَاةِ ذَهَبَ
حَتَّی يَکُونَ مَکَانَ الرَّوْحَائِ قَالَ سُلَيْمَانُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الرَّوْحَائِ
فَقَالَ هِيَ مِنْ الْمَدِينَةِ سِتَّةٌ وَثَلَاثُونَ مِيلًا
حضرت
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شیطان جب اذان کی آواز سنتا ہے
تو روحا مقام تک بھاگ جاتا ہے سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے ابوسفیان سے روحا کے بارے
میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا روحا مدینہ سے چھتیس میل دور ہے۔مسلم 854
جنات وغیرہ کو بھگانے کے لیے اذان دینا
حَدَّثَنِي
أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ
عَنْ سُهَيْلٍ قَالَ أَرْسَلَنِي أَبِي إِلَی بَنِي حَارِثَةَ قَالَ وَمَعِي غُلَامٌ
لَنَا أَوْ صَاحِبٌ لَنَا فَنَادَاهُ مُنَادٍ مِنْ حَائِطٍ بِاسْمِهِ قَالَ وَأَشْرَفَ
الَّذِي مَعِي عَلَی الْحَائِطِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِأَبِي فَقَالَ
لَوْ شَعَرْتُ أَنَّکَ تَلْقَ هَذَا لَمْ أُرْسِلْکَ وَلَکِنْ إِذَا سَمِعْتَ صَوْتًا
فَنَادِ بِالصَّلَاةِ فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ
اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ وَلَّی وَلَهُ
حُصَاص
حضرت سہیل سے روایت ہے کہ مجھے میرے
والد نے بنی حارثہ کی طرف بھیجا میرے ساتھ ایک لڑکا یا نوجوان تھا تو اس کو ایک پکارنے
والے نے اس کا نام لے کر پکارا اور میرے ساتھی نے دیوار پر دیکھا تو کوئی چیز نہ تھی
میں نے یہ بات اپنے باپ کو ذکر کی تو انہوں نے کہا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تمہارے ساتھ
یہ واقعہ پیش آنے والا ہے تو میں تجھے نہ بھیجتا لیکن جب تو ایسی آواز سنے تو اذان
دیا کرو میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے سنا وہ نبی کریم ﷺ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ
ﷺ نے فرمایا جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیرتا ہے اور اس کے لئے گوز ہوتا ہے۔مسلم
858
نابینا شخص اذان سن کر کہاں نماز ادا کرے
حَدَّثَنَا
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَيَعْقُوبُ
الدَّوْرَقِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا
الْفَزَارِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ
الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْمَی فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ
يَقُودُنِي إِلَی الْمَسْجِدِ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ فَرَخَّصَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّی دَعَاهُ
فَقَالَ هَلْ تَسْمَعُ النِّدَائَ بِالصَّلَاةِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَجِبْ
نبی
ﷺ کی خدمت میں ایک نابینا آدمی آیا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرا کوئی ایسا
رہبر نہیں ہے جو مجھے مسجد کی طرف لے کر آئے اس نے رسول اللہ ﷺ سے یہ اس لئے پوچھا
تاکہ اسے اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت مل جائے آپ ﷺ نے اسے اجازت دے دی جب وہ
پشت پھیر کر جانے لگا تو آپ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا کیا تو نماز کے لئے اذان کی
آواز سنتا ہے اس نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تیرے لئے ضروری ہے کہ مسجد
میں آکر نماز پڑھ۔مسلم 1486
اذان سن کر مسجد سے نماز پڑھے بغیر نکلنا
حَدَّثَنَا
أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ
بْنِ الْمُهَاجِرِ عَنْ أَبِي الشَّعْثَائِ قَالَ کُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ
مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْمَسْجِدِ
يَمْشِي فَأَتْبَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ بَصَرَهُ حَتَّی خَرَجَ مِنْ الْمَسْجِدِ
فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَی أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت
ابوشعثاء ؓ فرماتے ہیں کہ ہم مسجد میں حضرت ابوہریرہ ؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے تو مؤذن
نے اذان دی تو ایک آدمی کھڑا ہو اور مسجد سے جانے لگا حضرت ابوہریرہ اپنی نگاہ سے
اس کا پیچھا کرتے رہے یہاں تک کہ وہ مسجد سے نکل گیا پھر حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا
کہ اس آدمی نے حضرت ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔مسلم 1489
مرغ کی اذان (آواز)سن کر کیا کہے
حَدَّثَنِي
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ الْأَعْرَجِ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ
إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَکَةِ فَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّهَا
رَأَتْ مَلَکًا وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ
الشَّيْطَانِ فَإِنَّهَا رَأَتْ شَيْطَانًا
نبی
ﷺ نے فرمایا جب تم مرغ کی اذان سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو کیونکہ وہ
فرشتہ کو دیکھتا ہے اور جب تم گدھے کی ہینگ سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ
وہ شیطان کو دیکھتا ہے۔مسلم 6920
مؤذن کی مغفرت اور اس کے لیے گواہی
أَخْبَرَنَا
إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا:
حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،
عَنْمُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، سَمِعَهُ مِنْ فَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
يَقُولُ: الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ بِمَدِّ صَوْتِهِ وَيَشْهَدُ لَهُ
كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ.
ابوہریرہ
ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسے رسول اللہ ﷺ کی زبان
مبارک کو یہ کہتے سنا ہے: مؤذن کی آواز جہاں
تک پہنچتی ہے اس کی مغفرت کردی جائے گی، اور تمام خشک وتر اس کی گواہی دیں گے ۔نسائی
635
مؤذن کو تمام نمازیوں کے برابر ثواب
أَخْبَرَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ،
قال: حَدَّثَنِي أَبِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ
الْكُوفِيِّ، عَنْالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ
عَلَى الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ، وَالْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ بِمَدِّ صَوْتِهِ
وَيُصَدِّقُهُ مَنْ سَمِعَهُ مِنْ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ
صَلَّى مَعَهُ.
براء
بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر صلاۃ یعنی رحمت بھیجتا
ہے اور فرشتے ان کے لیے صلاۃ بھیجتے یعنی ان کے حق میں دعا کرتے ہیں، اور مؤذن کو
جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے بخش دیا جاتا ہے، اور خشک وتر میں سے جو بھی اسے سنتا
ہے اس کی تصدیق کرتا ہے، اور اسے ان تمام کے برابر ثواب ملے گا جو اس کے ساتھ صلاۃ
پڑھیں گے ۔نسائی 647
چرواہے کا پہاڑ کی چوٹی پر اذان دینے کی فضیلت
أَخْبَرَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو
بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ حَدَّثَهُ،
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَعْجَبُ رَبُّكَ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ
فِي رَأْسِ شَظِيَّةِ الْجَبَلِ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ
اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ
يَخَافُ مِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ.
عقبہ
بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے
سنا: تمہارا رب اس بکری کے چرواہے سے خوش ہوتا
ہے جو پہاڑ کی چوٹی کے کنارے پر اذان دیتا اور نماز پڑھتا ہے، اللہ عزوجل فرماتا ہے:
دیکھو میرے اس بندے کو یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے، یہ مجھ سے ڈرتا
ہے، میں نے اپنے (اس) بندے کو بخش دیا، اور اسے جنت میں داخل کردیا ہے
۔نسائی 667
بغیر اجرت کے اذان دینے والا افضل مؤذن
أَخْبَرَنَا
أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قال: حَدَّثَنَا
حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ،
عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي
الْعَاصِ، قال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنِي إِمَامَ
قَوْمِي، فَقَالَ: أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ،
وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا.
عثمان
بن ابی العاص ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:
اللہ کے رسول! مجھے میرے قبیلے کا امام بنا دیجئیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم ان کے امام ہو (لیکن)
ان کے کمزور لوگوں کی اقتداء کرنا اور
ایسے شخص کو مؤذن رکھنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے ۔نسائی
673
مؤذن کے لیے جن وانس کی گواہی
أَخْبَرَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ
مَالِكٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ
الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيُّ الْمَازِنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ
أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ لَهُ:
إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ، فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ
أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ، فَارْفَعْ صَوْتَكَ، فَإِنَّهُ
لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ
لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.نسائی673
عبداللہ
بن عبدالرحمٰن بن صعصعہ انصاری مازنی روایت کرتے ہیں کہ ابو سعید خدری ؓ نے ان سے کہا کہ میں تمہیں دیکھتا
ہوں کہ تم بکریوں اور صحراء کو محبوب رکھتے ہو، تو جب تم اپنی بکریوں میں یا اپنے جنگل
میں رہو اور نماز کے لیے اذان دو تو اپنی آواز بلند کرو کیونکہ مؤذن کی آواز جو
بھی جن و انس یا کوئی اور چیز سنے گی تو وہ
قیامت کے دن اس کی گواہی دے گی، میں نے رسول اللہ
ﷺ سے ایسا ہی سنا ہے۔ نسائی
673
یقین سے اذان دینے کی فضیلت
أَخْبَرَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو
بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ حَدَّثَهُ، أَنَّ
عَلِيَّ بْنَ خَالِدٍ الزُّرَقِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّضْرَ بْنَ سُفْيَانَ
حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ
رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ بِلَالٌ يُنَادِي،
فَلَمَّا سَكَتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
مَنْ قَالَ مِثْلَ هَذَا يَقِينًا دَخَلَ الْجَنَّةَ.
ترجمہ:ابوہریرہ
ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ
تھے کہ بلال ؓ کھڑے ہو کر اذان دینے لگے، جب وہ خاموش ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے یقین کے ساتھ اس طرح کہا، وہ جنت میں داخل
ہوگا ۔نسائی
اذان کی
ابتداءکیسے ہوئی
حَدَّثَنَا
عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،
وَحَدِيثُ
عَبَّادٍ أَتَمُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ،
قَالَ زِيَادٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ
بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ: اهْتَمَّ
النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ كَيْفَ يَجْمَعُ النَّاسَ
لَهَا، فَقِيلَ لَهُ: انْصِبْ رَايَةً عِنْدَ حُضُورِ الصَّلَاةِ فَإِذَا
رَأَوْهَا آذَنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ، قَالَ:
فَذُكِرَ لَهُ الْقُنْعُ يَعْنِي الشَّبُّورَ، وَقَالَ زِيَادٌ: شَبُّورُ
الْيَهُودِ فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ، وَقَالَ: هُوَ مِنْ أَمْرِ الْيَهُودِ،
قَالَ: فَذُكِرَ لَهُ النَّاقُوسُ، فَقَالَ: هُوَ مِنْ أَمْرِ
النَّصَارَى، فَانْصَرَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ وَهُوَ
مُهْتَمٌّ لِهَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُرِيَ الْأَذَانَ
فِي مَنَامِهِ، قَالَ: فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي
لَبَيْنَ نَائِمٍ وَيَقْظَانَ إِذْ أَتَانِي آتٍ فَأَرَانِي الْأَذَانَ، قَالَ:
وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدْ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ
فَكَتَمَهُ عِشْرِينَ يَوْمًا، قَالَ: ثُمَّ أَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُخْبِرَنِي
؟ فَقَالَ: سَبَقَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ فَاسْتَحْيَيْتُ، فَقَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بِلَالُ، قُمْ فَانْظُرْ
مَا يَأْمُرُكَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ فَافْعَلْهُ، قَالَ: فَأَذَّنَ
بِلَالٌ، قَالَ أَبُو بِشْرٍ: فَأَخْبَرَنِي أَبُو عُمَيْرٍ، أَنَّ
الْأَنْصَارَ تَزْعُمُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ لَوْلَا أَنَّهُ كَانَ
يَوْمَئِذٍ مَرِيضًا لَجَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مُؤَذِّنًا.
ابو
عمیر بن انس اپنے ایک انصاری چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم
ﷺ فکرمند ہوئے کہ لوگوں کو کس طرح نماز
کے لیے اکٹھا کیا جائے؟ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ نماز کا وقت ہونے پر ایک جھنڈا
نصب کر دیجئیے، جسے دیکھ کر ایک شخص دوسرے کو باخبر کر دے، آپ ﷺ کو یہ
رائے پسند نہ آئی۔ پھر آپ ﷺ سے ایک بگل
١ ؎ کا ذکر کیا گیا، زیاد کی روایت
میں ہے: یہود کے بگل (کا ذکر کیا گیا) تو یہ تجویز بھی آپ ﷺ کو پسند
نہیں آئی، آپ ﷺ نے فرمایا:
اس میں یہودیوں کی مشابہت ہے ۔ پھر آپ
ﷺ سے ناقوس کا ذکر کیا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا:
اس میں نصرانیوں کی مشابہت ہے ۔ پھر عبداللہ بن زید بن عبدربہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس
سے لوٹے، وہ بھی (اس مسئلہ میں) رسول اللہ
ﷺ کی طرح فکرمند تھے، چناچہ انہیں خواب
میں اذان کا طریقہ بتایا گیا۔ عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں: وہ صبح تڑکے ہی رسول اللہ ﷺ کے پاس
آئے، آپ کو اس خواب کی خبر دی اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کچھ سو رہا
تھا اور کچھ جاگ رہا تھا کہ اتنے میں ایک شخص
(خواب میں) میرے پاس آیا اور اس نے
مجھے اذان سکھائی، راوی کہتے ہیں: عمر بن خطاب ؓ اس سے پہلے یہ خواب دیکھ چکے تھے لیکن
وہ اسے بیس دن تک چھپائے رہے، پھر انہوں نے اسے نبی اکرم ﷺ کو بتایا
تو آپ نے ان سے فرمایا: تم کو کس چیز نے اسے
بتانے سے روکا؟ ، انہوں نے کہا: چونکہ مجھ سے پہلے عبداللہ بن زید ؓ نے اسے آپ سے
بیان کردیا اس لیے مجھے شرم آرہی تھی. اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلال! اٹھو اور جیسے عبداللہ بن زید تم کو کرنے
کو کہیں اسی طرح کرو ، چناچہ بلال ؓ نے اذان دی. ابوبشر کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوعمیر
نے بیان کیا کہ انصار سمجھتے تھے کہ اگر عبداللہ بن زید ان دنوں بیمار نہ ہوتے تو رسول
اللہ ﷺ
ان ہی کو مؤذن بناتے۔ابو داود
498
اذان کے کلمات اور صحابی کاخواب
حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا
أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ
بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ
بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ،
قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلَاةِ، طَافَ
بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ، فَقُلْتُ: يَا
عَبْدَ اللَّهِ، أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ ؟ قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ ؟
فَقُلْتُ: نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ
عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ ؟ فَقُلْتُ لَهُ:
بَلَى،
قَالَ: فَقَالَ: تَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ،
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا
اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ
مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ،
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ،
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ،
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: ثُمَّ اسْتَأْخَرَ عَنِّي غَيْرَ
بَعِيدٍ، ثُمَّ قَالَ: وَتَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ: اللَّهُ
أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ،
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ،
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ
الصَّلَاةُ،اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ،
فَلَمَّا أَصْبَحْتُ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ، فَقَالَ: إِنَّهَا لَرُؤْيَا
حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ
فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ، فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ
فَجَعَلْتُ أُلْقِيهِ عَلَيْهِ وَيُؤَذِّنُ بِهِ، قَالَ: فَسَمِعَ ذَلِكَ
عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ، وَيَقُولُ:
وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ
مَا رَأَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
فَلِلَّهِ الْحَمْدُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَكَذَا رِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ،
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ،
وقَالَ فِيهِ ابْنُ إِسْحَاق: عَنْ الزُّهْرِيِّ، اللَّهُ أَكْبَرُ
اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، وقَالَ مَعْمَرٌ،وَيُونُسُ:
عَنْ الزُّهْرِيِّ فِيهِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ،
لَمْ يُثَنِّيَا.
ترجمہ:عبداللہ
بن زید ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ناقوس
کی تیاری کا حکم دینے کا ارادہ کیا تاکہ لوگوں کو نماز کی خاطر جمع ہونے کے لیے اسے
بجایا جاسکے تو ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ ایک شخص کے ہاتھ میں ناقوس ہے، میں نے اس سے پوچھا: اللہ
کے بندے! کیا اسے فروخت کرو گے؟ اس نے کہا: تم اسے کیا کرو گے؟ میں نے کہا: ہم اس کے
ذریعے لوگوں کو نماز کے لیے بلائیں گے، اس شخص نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز
نہ بتادوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے، تو اس نے کہا: تم اس طرح کہو الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد
أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن
محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله أكبر
الله أكبر لا إله إلا الله اللہ سب سے بڑا
ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں
کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود
برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ
کے رسول ہیں، نماز کے لیے آؤ، نماز کے لیے آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی
طرف آؤ، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں: پھر وہ شخص مجھ سے تھوڑا پیچھے ہٹ گیا، زیادہ دور نہیں
گیا پھر اس نے کہا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اس طرح کہو: الله أكبر الله أكبر
أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الفلاح
قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله ۔ پھر جب صبح
ہوئی تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ میں نے دیکھا تھا
اسے آپ سے بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
ان شاء اللہ یہ خواب سچا ہے ، پھر فرمایا:
تم بلال کے ساتھ اٹھ کر جاؤ اور جو کلمات تم نے خواب میں دیکھے ہیں وہ انہیں
بتاتے جاؤ تاکہ اس کے مطابق وہ اذان دیں کیونکہ ان کی آواز تم سے بلند ہے. چناچہ
میں بلال کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا، میں انہیں اذان کے کلمات بتاتا جاتا تھا اور وہ اسے
پکارتے جاتے تھے۔ وہ کہتے ہیں. تو عمر بن خطاب ؓ نے اسے اپنے گھر میں سے سنا تو وہ
اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور کہہ رہے تھے: اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم! جس نے
آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے بھی اسی طرح دیکھا ہے جس طرح عبداللہ ؓ نے دیکھا
ہے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الحمدللہ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح
زہری کی روایت ہے، جسے انہوں نے سعید بن مسیب سے، اور سعید نے عبداللہ بن زید ؓ سے
روایت کیا ہے، اس میں ابن اسحاق نے زہری سے یوں نقل کیا ہے: الله أكبر الله أكبر
الله أكبر الله أكبر (یعنی چار بار) اور معمر اور یونس نے زہری سے صرف الله أكبر الله أكبر کی روایت کی ہے، اسے انہوں نے دہرایا نہیں ہے۔ابو
داود 499
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک صحابی کواذان سکھانا
حَدَّثَنَا
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، وَسَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ،
وَحَجَّاجٌ، وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ،
حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، أَنَّ
ابْنَ مُحَيْرِيزٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ
رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ
كَلِمَةً وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، الْأَذَانُ: اللَّهُ
أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ
أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ،
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ
اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ،
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ،
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ،
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ،
وَالْإِقَامَةُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ
اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ
أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ،
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ،
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ،
قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ
اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، كَذَا فِي كِتَابِهِ فِي
حَدِيثِ أَبِي مَحْذُورَةَ.
ابن
محیریز کا بیان ہے
کہ
ابو محذورہ ؓ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں
اذان کے انیس کلمات اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے، اذان کے کلمات یہ ہیں: الله أكبر
الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا
الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن لا إله إلا الله
أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى
على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله
إلا الله ۔ اور اقامت کے کلمات یہ ہیں: الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر
أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد
أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح قد قامت
الصلاة قد قامت الصلاة الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله ۔ ہمام بن یحییٰ کی کتاب
میں ابومحذورہ کی جو حدیث مذکور ہے، وہ اسی طرح ہے (یعنی اقامت کے سترہ کلمات مذکور ہیں) ابوداود
جو اذان دے وہ ہی اقامت کہنے کا حقدار
حَدَّثَنَا
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ
غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ يَعْنِي الْأَفْرِيقِيَّ،
أَنَّهُ سَمِعَزِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ
زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ، قَالَ: لَمَّا كَانَ أَوَّلُ أَذَانِ
الصُّبْحِ، أَمَرَنِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
فَأَذَّنْتُ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أُقِيمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ،
فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَشْرِقِ إِلَى الْفَجْرِ، فَيَقُولُ:
لَا حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، نَزَلَ فَبَرَزَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيَّ
وَقَدْ تَلَاحَقَ أَصْحَابُهُ يَعْنِي فَتَوَضَّأَ، فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ
يُقِيمَ، فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ هُوَ أَذَّنَ، وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ،
قَالَ: فَأَقَمْتُ.
زیاد
بن حارث صدائی ؓ کہتے ہیں کہ جب صبح کی پہلی
اذان کا وقت ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے
(اذان دینے کا) حکم دیا تو میں نے اذان
کہی، پھر میں کہنے لگا: اللہ کے رسول! اقامت کہوں؟ تو آپ مشرق کی طرف فجر کی روشنی
دیکھنے لگے اور فرما رہے تھے: ابھی نہیں (جب تک طلوع فجر نہ ہوجائے) ، یہاں تک کہ جب فجر
طلوع ہوگئی تو آپ ﷺ اترے اور وضو کیا، پھر میری طرف واپس پلٹے اور صحابہ
کرام اکھٹا ہوگئے، تو بلال ؓ نے تکبیر کہنی چاہی تو رسول اللہ ﷺ نے ان
سے فرمایا: صدائی نے اذان دی ہے اور جس نے
اذان دی ہے وہی تکبیر کہے ۔ زیاد ؓ کہتے ہیں: تو میں نے تکبیر کہی۔ابو داود 514
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا بلند گھر کی چھت پر اذان دینا
حَدَّثَنَا
أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ،
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ،
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ،عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ،
قَالَتْ: كَانَ بَيْتِي مِنْ أَطْوَلِ بَيْتٍ حَوْلَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ
بِلَالٌ يُؤَذِّنُ عَلَيْهِ الْفَجْرَ، فَيَأْتِي بِسَحَرٍ فَيَجْلِسُ عَلَى
الْبَيْتِ يَنْظُرُ إِلَى الْفَجْرِ، فَإِذَا رَآهُ تَمَطَّى، ثُمَّ قَالَ:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْمَدُكَ وَأَسْتَعِينُكَ عَلَى قُرَيْشٍ أَنْ يُقِيمُوا دِينَكَ،
قَالَتْ: ثُمَّ يُؤَذِّنُ، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُهُ
كَانَ تَرَكَهَا لَيْلَةً وَاحِدَةً تَعْنِي هَذِهِ الْكَلِمَاتِ.
قبیلہ
بنی نجار کی ایک عورت کہتی ہے مسجد کے اردگرد
گھروں میں سب سے اونچا میرا گھر تھا، بلال ؓ اسی پر فجر کی اذان دیا کرتے تھے، چناچہ
وہ صبح سے کچھ پہلے ہی آتے اور گھر پر بیٹھ جاتے اور صبح صادق کو دیکھتے رہتے، جب
اسے دیکھ لیتے تو انگڑائی لیتے، پھر کہتے:
اے اللہ! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں اور تجھ ہی سے قریش پر مدد چاہتا ہوں کہ
وہ تیرے دین کو قائم کریں ، وہ کہتی ہے: پھر وہ اذان دیتے، قسم اللہ کی، میں نہیں جانتی
کہ انہوں نے کسی ایک رات بھی ان کلمات کو ترک کیا ہو۔ابو داود
519
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا دوران اذان گردن گھمانا
حَدَّثَنَا
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ يَعْنِي ابْنَ الرَّبِيعِ. ح وحَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ
سُفْيَانَ، جَمِيعًا عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ،
قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ
وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، فَخَرَجَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ،
فَكُنْتُ أَتَتَبَّعُ فَمَهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ بُرُودٌ
يَمَانِيَةٌ قِطْرِيٌّ، وَقَالَ مُوسَى: قَالَ: رَأَيْتُ بِلَالًا خَرَجَ
إِلَى الْأَبْطَحِ فَأَذَّنَ، فَلَمَّا بَلَغَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ،
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، لَوَى عُنُقَهُ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَمْ يَسْتَدِرْ،
ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ الْعَنَزَةَ، وَسَاقَ حَدِيثَهُ.
ابوجحیفہ
ؓ کہتے ہیں کہ میں مکہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس
آیا، آپ چمڑے کے ایک لال خیمہ میں تھے، بلال ؓ باہر نکلے پھر اذان دی، میں انہیں
اپنے منہ کو ادھر ادھر پھیرتے دیکھ رہا تھا، پھر رسول اللہ ﷺ نکلے،
آپ یمنی قطری چادروں سے بنے سرخ جوڑے پہنے ہوئے تھے، موسیٰ بن اسماعیل اپنی روایت
میں کہتے ہیں کہ ابوحجیفہ نے کہا: میں نے بلال ؓ کو دیکھا کہ وہ ابطح کی طرف نکلے پھر
اذان دی، جب حي على الصلاة اور حي
على الفلاح پر پہنچے تو اپنی گردن دائیں اور
بائیں جانب موڑی اور خود نہیں گھومے۔پھر وہ اندر گئے اور نیزہ نکالا، پھر راوی نے پوری
حدیث بیان کی۔ابو داود 520
اذان اور اقامت کے درمیان دعا کی فضیلت
حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ،
عَنْ أَبِي إِيَاسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُرَدُّ الدُّعَاءُ بَيْنَ
الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ.ت
انس
بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی
۔ابو داود521
اذان کے بعد کی دعا پر شفاعت واجب ہونا
حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ،
وَحَيْوَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ
عَلْقَمَةَ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ
بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا
يَقُولُ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً،
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
لِي الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا
لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ تَعَالَى، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ،
فَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ، حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ.
عبداللہ
بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے
نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: جب تم مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی وہی کہو جو
وہ کہتا ہے، پھر میرے اوپر درود بھیجو، اس لیے کہ جو شخص میرے اوپر ایک بار درود بھیجے
گا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار اپنی رحمت نازل فرمائے گا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے میرے
لیے وسیلہ طلب کرو، وسیلہ جنت میں ایک ایسا مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کے ایک بندے کے
علاوہ کسی اور کو نہیں ملے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا، جس شخص نے میرے
لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی ۔ابو داود
523
اذان کا جواب کن کلمات کے ساتھ دے
حَدَّثَنَا
ابْنُ السَّرْحِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ
وَهْبٍ، عَنْ حُيَيٍّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْحُبُلِيَّ،
عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا
رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ يَفْضُلُونَنَا، فَقَالَ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ كَمَا يَقُولُونَ، فَإِذَا
انْتَهَيْتَ فَسَلْ تُعْطَهْ.
عبداللہ
بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا:
اے اللہ کے رسول! مؤذنوں کو ہم پر فضیلت حاصل ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم بھی اسی طرح کہو جس طرح وہ کہتے ہیں (یعنی اذان کا جواب دو ) ، پھر جب تم اذان ختم
کرلو تو (اللہ تعالیٰ سے) مانگو، تمہیں دیا جائے گا ۔حدیث 523
(ب)اذان کا جواب کن کلمات کے ساتھ دے
حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا
إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ خُبِيبِ
بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسَافٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ،
عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،
أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:
إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ
أَحَدُكُمْ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَإِذَا قَالَ: أَشْهَدُ
أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا
اللَّهُ، فَإِذَا قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ،
قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ:
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ،
ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا
قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ،
قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ: لَا
إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِنْ قَلْبِهِ،
دَخَلَ الْجَنَّةَ.
عمر
بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مؤذن: الله أكبر الله أكبر کہے تو تم میں سے جو (اخلاص کے ساتھ) الله أكبر الله أكبر کہے، پھر جب وہ أشهد أن لا إله إلا الله کہے تو یہ بھی
أشهد أن لا إله إلا الله کہے، اور جب وہ
أشهد أن محمدا رسول الله کہے تو یہ
بھی أشهد أن محمدا رسول الله کہے، جب وہ
حى على الصلاة کہے تو یہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے، جب وہ
حى على الفلاح کہے تو یہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے، پھر جب وہ الله أكبر الله أكبر کہے تو یہ بھی
الله أكبر الله أكبر کہے، اور جب
وہ لا إله إلا الله کہے تو یہ بھی
لا إله إلا الله کہے تو وہ جنت میں
جائے گا ۔ابو داود 527
مغرب کی اذان کے وقت کی دعا
حَدَّثَنَا
مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ،
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ،
عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ،
قَالَتْ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
أَنْ أَقُولَ عِنْدَ أَذَانِ الْمَغْرِبِ: اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا إِقْبَالُ
لَيْلِكَ وَإِدْبَارُ نَهَارِكَ وَأَصْوَاتُ دُعَاتِكَ فَاغْفِرْ لِي.
ام
المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ مجھے رسول
اللہ ﷺ
نے سکھایا کہ میں مغرب کی اذان کے وقت کہوں:اللهم
إن هذا إقبال ليلک وإدبار نهارک وأصوات دعاتک فاغفر لي اے اللہ!
یہ تیری رات کی آمد اور تیرے دن کی رخصت کا وقت ہے، اور تیری طرف بلانے والوں کی آوازیں
ہیں تو تو میری مغفرت فرما ۔ابو داود530
جمعہ کے روز اذان کہاں دی جاے
حَدَّثَنَا
النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ
إِسْحَاقَ،عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:
كَانَ يُؤَذَّنُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
إِذَا جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ،وَأَبِي
بَكْرٍ، وَعُمَرَثُمَّ سَاقَ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ.
سائب
بن یزید ؓ کہتے ہیں جمعہ کے روز جب رسول اللہ ﷺ منبر
پر بیٹھ جاتے تو آپ کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی تھی اسی طرح ابوبکر و
عمر ؓ کے دور میں بھی مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی۔ پھر راوی نے یونس کی حدیث کی
طرح روایت بیان کی۔ ابو داود 1088
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے کان میں اذان
حَدَّثَنَا
مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي
عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ،
عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ
بِالصَّلَاةِ.
ابورافع
ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حسن
بن علی کے کان میں جس وقت فاطمہ ؓ کے ہاں ولادت ہوئی۔ اذان کہتے دیکھا جیسے نماز کے
لیے اذان دی جاتی ہے۔ابو داود
اذان
کون دے
حَدَّثَنَا
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ
يَحْيَى الصَّدَفِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
لَا يُؤَذِّنُ إِلَّا مُتَوَضِّئٌ .
ترجمہ:ابوہریرہ
ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اذان وہی دے جو باوضو ہو ۔ترمذی 200
سات سال مسلسل اذان دینے کی فضیلت
حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو
حَمْزَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ
أَذَّنَ سَبْعَ سِنِينَ مُحْتَسِبًا كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ . قَالَ
أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَثَوْبَانَ،
وَمُعَاوِيَةَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ
أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ غَرِيبٌ، وَأَبُو تُمَيْلَةَ اسْمُهُ:
يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، وَأَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ اسْمُهُ: مُحَمَّدُ
بْنُ مَيْمُونٍ، وَجَابِرُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ، ضَعَّفُوهُ تَرَكَهُ
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:
سَمِعْت الْجَارُودَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ: لَوْلَا جَابِرٌ
الْجُعْفِيُّ لَكَانَ أَهْلُ الْكُوفَةِ بِغَيْرِ حَدِيثٍ، وَلَوْلَا حَمَّادٌ
لَكَانَ أَهْلُ الْكُوفَةِ بِغَيْرِ فِقْهٍ.
عبداللہ
بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے سات سال تک ثواب کی نیت سے اذان دی اس کے
لیے جہنم کی آگ سے نجات لکھ دی جائے گی ۔ترمذی 206
اذان سن کر ایک مسنون دعا پڑھنے کی فضیلت
حَدَّثَنَا
قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ،
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا
عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ
دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ
غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ
حُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ.
سعد
بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا: «وأنا
أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا
وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا» اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق
نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد ﷺ اس کے
بندے اور اس کے رسول ہیں اور میں اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول
ہونے پر راضی ہوں تو اس کے (صغیرہ)
گناہ بخش دیے جائیں گے۔ ترمذی
210
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ
وسلم کا حضرت بلال رضی اللہ عنہہ کو اذان سکھانا
حَدَّثَنَا
أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ
الْمنْعِم صَاحِبُ السِّقَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُسْلِمٍ،
عَنْ الْحَسَنِ، وَعَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِبِلَالٍ: يَا بِلَالُ إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ فِي أَذَانِكَ،
وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْدُرْ، وَاجْعَلْ بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ
قَدْرَ مَا يَفْرُغُ الْآكِلُ مِنْ أَكْلِهِ وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْبِهِ وَالْمُعْتَصِرُ
إِذَا دَخَلَ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ وَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي
جابر
بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال
ؓ سے فرمایا: بلال! جب تم اذان دو تو ٹھہر
ٹھہر کر دو اور جب اقامت کہو تو جلدی جلدی کہو، اور اپنی اذان و اقامت کے درمیان اس
قدر وقفہ رکھو کہ کھانے پینے والا اپنے کھانے پینے سے اور پاخانہ پیشاب کی حاجت محسوس
کرنے والا اپنی حاجت سے فارغ ہوجائے اور اس وقت تک (اقامت کہنے کے لیے) کھڑے نہ ہو جب تک کہ مجھے نہ دیکھ لو۔ترمذی
اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں رکھنا
حَدَّثَنَا
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ
بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَجْعَلَ إِصْبَعَيْهِ
فِي أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: إِنَّهُ أَرْفَعُ لِصَوْتِكَ
مؤذن
رسول اللہ ﷺ سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا کہ وہ اپنی دونوں انگلیوں کو اپنے دونوں کانوں میں ڈال لیں،
اور فرمایا: اس سے تمہاری آواز خوب بلند ہوگی
۔ابن ماجہ
710
حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ مَرْوَانَ
بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ،
عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَصْلَتَانِ مُعَلَّقَتَانِ فِي أَعْنَاقِ الْمُؤَذِّنِينَ
لَلْمُسْلِمِينَ: صَلَاتُهُمْ، وَصِيَامُهُمْ.
عبداللہ
بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کے دو کام مؤذن کی گردنوں میں لٹکے ہوتے
ہیں: ایک نماز، دوسرے روزہ ۔ ابن ماجہ
712
بارہ سال مسلسل اذان دینے کی فضیلت
حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، قَالَا:
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ،
عَنْابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ
رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَذَّنَ ثِنْتَيْ
عَشْرَةَ سَنَةً، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَكُتِبَ لَهُ بِتَأْذِينِهِ
فِي كُلِّ يَوْمٍ سِتُّونَ حَسَنَةً، وَلِكُلِّ إِقَامَةٍ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً.
عبداللہ
بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے بارہ سال اذان دی، اس کے لیے جنت واجب
ہوگئی، اور اس کے لیے ہر روز کی اذان کے بدلے ساٹھ نیکیاں، اور ہر اقامت پہ تیس نیکیاں
لکھ دی گئیں۔ابن ماجہ 728
اذان سن کر بلاضرورت مسجد سے باہر نکلنا
حَدَّثَنَا
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا
عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ
بْنِ يُوسُف مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُثْمَانَ
بْنِ عَفَّانَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: مَنْ أَدْرَكَهُ الْأَذَانُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ خَرَجَ
لَمْ يَخْرُجْ لِحَاجَةٍ وَهُوَ لَا يُرِيدُ الرَّجْعَةَ، فَهُوَ مُنَافِقٌ.
عثمان
ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مسجد میں ہو، اور اذان ہوجائے پھر وہ بلا
ضرورت باہر نکل جائے اور واپس آنے کا ارادہ بھی نہ رکھے، تو وہ منافق ہے ۔ابن ماجہ
734
اگر کوئی راستہ بھول جاے تو اذان کہے
حَدَّثَنَا
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرِ
بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
إِذَا كُنْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَمْكِنُوا الرَّكْبَ أَسِنَّتَهَا وَلَا تَعْدُوا
الْمَنَازِلَ وَإِذَا كُنْتُمْ فِي الْجَدْبِ فَاسْتَنْجُوا وَعَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ
فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ فَإِذَا تَغَوَّلَتْ بِكُمْ الْغِيلَانُ فَبَادِرُوا
بِالْأَذَانِ وَلَا تُصَلُّوا عَلَى جَوَادِ الطُّرُقِ وَلَا تَنْزِلُوا عَلَيْهَا
فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ وَلَا تَقْضُوا عَلَيْهَا الْحَوَائِجَ
فَإِنَّهَا الْمَلَاعِنُ
حضرت
جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم سرسبز و شاداب علاقے میں سفر کرو
تو اپنی سواریوں کو وہاں کی شادابی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا کرو اور منزل سے آگے
نہ بڑھا کرو اور جب خشک زمین پر سفر کرنے لگو تو وہاں سے تیزی سے گذر جایا کرو اور
اس صورت میں رات کے اندھیرے میں سفر کرنے کو ترجیح دو کیونکہ رات کے وقت ایسا محسوس
ہوتا ہے کہ گویا زمین لپٹی جارہی ہے اور اگر راستے میں بھٹک جاؤ تو اذان دیا کرو نیز
راستے کے بیچ میں کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھا کرو اور نہ ہی وہاں پڑاؤ کرو کیونکہ وہ
سانپوں اور درندوں کے ٹھکانے ہوتے ہیں اور یہاں قضاء حاجت بھی نہ کیا کرو کیونکہ یہ
لعنت کا سبب ہے۔مسند احمد 14560
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت ابومحذورہ کواذان سکھانا
حَدَّثَنَا
عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ
مَوْلَاهُمْ عَنْ أَبِيهِ السَّائِبِ مَوْلَى أَبِي مَحْذُورَةَ وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ
الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ
قَالَ أَبُو مَحْذُورَةَ خَرَجْتُ فِي عَشَرَةِ فِتْيَانٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيْنَا فَأَذَّنُوا فَقُمْنَا
نُؤَذِّنُ نَسْتَهْزِئُ بِهِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ائْتُونِي بِهَؤُلَاءِ الْفِتْيَانِ فَقَالَ أَذِّنُوا فَأَذَّنُوا فَكُنْتُ أَحَدَهُمْ
فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ هَذَا الَّذِي سَمِعْتُ
صَوْتَهُ اذْهَبْ فَأَذِّنْ لِأَهْلِ مَكَّةَ فَمَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِهِ وَقَالَ
قُلْ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ
أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ
اللَّهِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ ارْجِعْ فَاشْهَدْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ
وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ مَرَّتَيْنِ
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَإِذَا أَذَّنْتَ
بِالْأَوَّلِ مِنْ الصُّبْحِ فَقُلْ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ الصَّلَاةُ
خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ وَإِذَا أَقَمْتَ فَقُلْهَا مَرَّتَيْنِ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ
قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ أَسَمِعْتَ قَالَ وَكَانَ أَبُو مَحْذُورَةَ لَا يَجُزُّ
نَاصِيَتَهُ وَلَا يُفَرِّقُهَا لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ
قَالَ أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي
مَحْذُورَةَ عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ قَالَ لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ خَرَجْتُ عَاشِرَ عَشَرَةٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
إِلَّا أَنَّهُ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ مَرَّتَيْنِ فَقَطْ و قَالَ
رَوْحٌ أَيْضًا مَرَّتَيْنِ۔
:حضرت
ابومحذورہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں دس نوجوانوں کے ساتھ نکلا اس وقت نبی ﷺ بھی ساتھ
تھے لیکن وہ تمام لوگوں میں ہمیں سب سے زیادہ مبغوض تھے کیونکہ ہم نے اس وقت اسلام
قبول نہیں کیا تھا مسلمانوں نے اذان دی تو ہم لوگ بھی کھڑے ہو کر ان کی نقل اتار کر
ان کا مذاق اڑانے لگے نبی ﷺ نے فرمایا ان نوجوانوں کو پکڑ کر میرے پاس لاؤ اور ہم
سے فرمایا کہ کہ اب اذان دو چناچہ سب نے اذان دی ان میں میں بھی شامل تھا نبی ﷺ نے
میری آواز سن کر فرمایا کہ اس کی آواز کتنی اچھی ہے تم جاؤ اور اہل مکہ کے لئے اذان
دو پھر نبی ﷺ نے ان کی پیشانی پر اپنا دست مبارک پھیرا اور فرمایا کہ چار مرتبہ اللہ
اکبر کہو دو مرتبہ اشہد ان لا الہ الا اللہ کہنادومرتبہ اشہد ان محمد رسول اللہ کہنا
دو دو مرتبہ حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کہنا پھر دو مرتبہ اللہ اکبر کہنا اور
پھر لا الہ الا اللہ کہنا اور جب صبح کی اذان دینا تو دو مرتبہ الصلوۃ خیرالنوم کہنا
اور جب اقامت کہو تو دو مرتبہ قدقامت الصلوۃ کہنا سنایا نہیں مروی ہے کہ اس واقعے کے
بعد سے حضرت ابومحذورہ نے کبھی اپنی پیشانی کے بال نہیں کاٹے اور نہ ہی مانگ نکالی
کیونکہ نبی ﷺ نے اس جگہ پر ہاتھ پھیرا تھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔مسند
احمد14835
بستی میں اذان نہ دینے کا وبال
حَدَّثَنَا
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ وَوَكِيعٌ قَالَ
حَدَّثَنِي زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ عَنِ السَّائِبِ قَالَ وَكِيعٌ ابْنِ حُبَيْشٍ
الْكَلَاعِيِّ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ قَالَ قَالَ لِي
أَبُو الدَّرْدَاءِ أَيْنَ مَسْكَنُكَ قَالَ قُلْتُ فِي قَرْيَةٍ دُونَ حِمْصَ قَالَ
سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ
فِي قَرْيَةٍ فَلَا يُؤَذَّنُ وَلَا تُقَامُ فِيهِمْ الصَّلَوَاتُ إِلَّا اسْتَحْوَذَ
عَلَيْهِمْ الشَّيْطَانُ عَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ
قَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ السَّائِبُ يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ فِي الصَّلَاةِ
معدان
بن ابی طلحہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابودردا نے مجھ سے پوچھا کہ تمہاری رہائش کہاں
ہے؟ میں نے بتایا کہ حمص سے پیچھے ایک بستی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے
ہوئے سنا ہے کہ جس بستی میں تین آدمی ہوں اور وہاں اذان اور اقامت ِ نماز نہ ہوتی
ہو تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے، لہذا تم جماعت ِ مسلمین کو اپنے اوپر لازم پکڑو
کیونکہ اکیلی بکری کو بھڑیا کھا جاتا ہے، ارے معدان! مدائن شہر کو لازم پکڑو۔مسند احمد26286
قبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اذان سنائی دینا
أَخْبَرَنَا
مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ لَمَّا كَانَ
أَيَّامُ الْحَرَّةِ لَمْ يُؤَذَّنْ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ ثَلَاثًا وَلَمْ يُقَمْ وَلَمْ يَبْرَحْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ مِنْ
الْمَسْجِدِ وَكَانَ لَا يَعْرِفُوَقْتَ الصَّلَاةِ إِلَّا بِهَمْهَمَةٍ يَسْمَعُهَا
مِنْ قَبْرِ النَّبِيِّ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ سعید
عبدالعزیز
بیان کرتے ہیں واقعہ حرہ کے دوران نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں
تین دن تک اذان نہیں ہوئی اور نہ ہی اقامت کہی گئی اس دوران حضرت سعید بن مسیب مسجد
میں ہی رہے انھیں نماز کے اوقات کا اس طرح سے پتہ چلتا تھا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) کی قبر مبارک سے ہلکی سی آواز آیا کرتی تھی۔ سنن دارامی 93
۲۲۹۱)
ویران جگہ اذان اور اقامت کہنے کی فضیلت
حَدَّثَنَا
مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ
، قَالَ : لاَ یَکُونُ رَجُلٌ بِأَرْضِ قِیٍّ فَیَتَوَضَّأُ ، فَإِنْ لَمْ یَجِدْ
مَائً تَیَمَّمَ ، ثُمَّ یُنَادِی بِالصَّلاَۃِ ، ثُمَّ یُقِیمُہَا ، إِلاَّ أَمَّ
مِنْ جُنُودِ اللہِ مَا لاَ یُرَی طَرَفَاہُ۔
حضرت
سلمان فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی کسی ویران جگہ ہو اور وضو کرے، اور اگر پانی نہ
ہو تو تیمم کرے، پھر اذان دے پھر اقامت کہے تو درحقیقت اللہ کے ایسے لشکروں کی امامت
کراتا ہے جس کے دونوں کناروں تک نظر نہیں جاسکتی۔ ابن ابی شیبہ
فتح مکہ کے دن کعبے کی چھت پر اذان
حَدَّثَنَا
أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أَمَرَ النَّبِیُّ صَلَّی
اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِلاَلاً أَنْ یُؤَذِّنَ یَوْمَ الْفَتْحِ فَوْقَ الْکَعْبَۃِ۔
(حضرت
ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال
کو حکم دیا کہ فتح مکہ کے دن خانہ کعبہ پر کھڑے ہو کر اذان دیں۔ ابن ابی شیبہ)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مؤذن بننے کی تمنا کرنا
حَدَّثَنَا
ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَیَانٍ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : لَوْ أَطَقْتُ
الأَذَانَ مَعَ الْخِلِّیفَی لأَذَّنْتُ۔ (٢٣٤٨)
حضرت
عمر فرماتے ہیں کہ اگر میں خلافت کی ذمہ داریوں کے ہوتے ہوئے اذان کی طاقت رکھتا تو
میں ضرور اذان دیتا۔ ابن ابی شیبہ۰)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور اذان
حَدَّثَنَا
شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : لأَنْ أَقْوَی عَلَی
الأَذَانِ أَحَبُّ ، إلَیَّ مِنْ أَنْ أَحُجَّ وَأَعْتَمِرَ وَأُجَاہِدَ۔
حضرت
سعد فرماتے ہیں کہ اذان دینا مجھے حج، عمرے اور جہاد سے زیادہ پسند ہے۔ ابن ابی شیبہ
مؤذنین کے سردار حضرت بلا ل رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا
یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَیْخٌ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ ، قَالَ
: أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَوْفٍ الشَّیْبَانِیُّ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ
، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم: بِلاَلٌ سَیِّدُ الْمُؤَذِّنِینَ یَوْمَ
الْقِیَامَۃِ ، وَلاَ یَتْبَعُہُ إِلاَّ مُؤْمِنٌ، وَالْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ
أَعْنَاقًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (طبرانی ۵۱۱۸) (
حضرت
زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا
کہ بلال قیامت کے دن مؤذنین کے سردار ہوں گے اور ان کے پیچھے صرف مومن ہی ہوگا۔ اذان
دینے والے قیامت کے دن اونچی گردنوں والے ہوں گے۔ ابن ابی شیبہ
اذان اور اقامت قبولیت دعا کی گھڑیاں
حَدَّثَنَا
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ وَاقِدٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُرَّۃَ
، حَدَّثَنَا یَزِیدُ الرَّقَاشِیُّ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی
اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا کَانَ عِنْدَ الأَذَانِ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَائِ
وَاسْتُجِیبَ الدُّعَائُ ، وَإِذَا کَانَ عِنْدَ الإِقَامَۃِ لَمْ تُرَدَّ دَعْوَۃٌ۔
(ابویعلی ۴۰۹۵۔
طیالسی ۲۱۰۶) (٢٩٨٥٨)
حضرت
انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : جب اذان کا
وقت ہوتا ہے، تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، اور دعا قبول کی جاتی ہے، اور
جب اقامت کا وقت ہوتا ہے تب تو دعا بالکل بھی رد نہیں کی جاتی۔ ابن ابی شیبہ
Comments
Post a Comment