غیبت کے نقصانات مؤلف سید ظہیر حسین شاہ رفاعی Ghibat k Nuqsanat by Syed Zaheer Hussain Shah Refai
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہم صلی علی محمد و علی آلہ وصحبہ وسلم
غیبت کے
نقصانات کے حوالے سےقرآن و احادیث کی
روشنی میں یہ کتاب عارضی طورپرنشر کی جار ہی ہے۔اگر آپ اس کتاب میں کسی مقام
پر کسی بھی قسم کی غلطی دیکھیں مہربانی فرماکر 03044653433 نمبر پر وٹس ایپ
فرمائیں۔تاکہ ہارڈ کاپی میں وہ غلطی شامل نہ ہو۔پروف ریڈنگ کے فرائض سر انجام دے
کر آپ بھی اپنے لیے صدقہ جاریہ کا دروازہ کھولیں۔اس کتاب کو خو د بھی پڑھیں ۔اپنے
عزیزواقارب دوست احباب و دیگر گروپس میں صدقہ جاریہ کے طور پر اس کتاب کو شئیر
فرمائیں
سید ظہیر حسین
شاہ رفاعی
رفاعی اسلامک ریسرچ سینٹر
غیبت اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا
يٰٓاَيُّهَا
الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ ۡ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ
اِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا ۭ اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ
مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِيْمٌ
اے
ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچو، بیشک بعض گمان گناہ ہیں اور نہ تم (کسی کے متعلق)
تجسس کرو اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو، کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ
وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے سو تم اس کو ناپسند کرون گے، اور اللہ سے ڈرتے، بیشک
اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، بےحد رحم فرمانے والا ہے ۔ترجمہ تبیان القرآن آیت
12
غیبت کرنے والوں پر عذاب کا مشاہدہ
وعن
أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لما عرج بي ربي مررت بقوم لهم أظفار من
نحاس يخمشون وجوههم وصدورهم فقلت من هؤلاء يا جبريل ؟ قال هؤلاء الذين يأكلون لحوم
الناس ويقعون في أعراضهم :مشکوٰۃ المصابیح حدیث نمبر: 4939
اور
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے مجھے معراج کی رات
اوپر لے گیا تو عالم بالا میں میرا گزر کچھ ایسے لوگوں پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے
تھے اور وہ ان ناخنوں سے اپنے چہروں کو کھرچ رہے تھے ان کی اس حالت کو دیکھ کر میں
نے پوچھا کہ جبرائیل یہ کون لوگ ہیں انہوں نے جواب دیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا
گوشت کھاتے یعنی لوگوں کی غیبت کرتے ہیں ان کی عزت و آبرو کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔
مسلمانوں کی غیبت کرنے سے سخت بدبو کا اٹھنا
حَدَّثَنَا
عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ
حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ
عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَفَعَتْ
رِيحُ جِيفَةٍ مُنْتِنَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ الرِّيحُ هَذِهِ رِيحُ الَّذِينَ يَغْتَابُونَ الْمُؤْمِنِينَ:مسند
احمدحدیث نمبر: 14258
حضرت
جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک مردار کی بدبو اٹھنے
لگی نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیسی بدبو ہے یہ ان لوگوں کی بدبو ہے
جو مومنین کی غیبت کرتے ہیں۔
جس کسی نے غیبت کا نوالہ کھایا
حَدَّثَنَا
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْمِصْرِيُّ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْ
أَبِيهِ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ وَقَّاصِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ أَنَّهُ
حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَکَلَ
بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَکْلَةً فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّمَ
وَمَنْ کُسِيَ ثَوْبًا بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَکْسُوهُ مِثْلَهُ مِنْ
جَهَنَّمَ وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَائٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُومُ
بِهِ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَائٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی مسلمان کی غیبت کا نوالہ
کھایا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اسے اس کے مثل جہنم کا نوالہ کھلائیں گے اور جس نے
کسی مسلمان کی برائی کا لباس پہنا اللہ اسے اس کے مثل جہنم کا لباس پہنائیں گے اور
جس شخص نے کسی کو شہرت و ریاکاری اور دکھلاوے کے مقام پر کھڑا کیا یا کسی شخص کی وجہ
سے ریاکاری و شہرت کے مقام پر کھڑا ہوا تو اللہ قیامت کے روز اس سے ریاکاری اور شہرت
کے مقام پر کھڑا کرے گا۔ابوداود
غیبت اور پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنے والے پر عذاب قبر
حَدَّثَنَا
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ،
وَوَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ،
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ جَدِيدَيْنِ، فَقَالَ: إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ،
وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ
مِنْ بَوْلِهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ:سنن ابن
ماجہ حدیث نمبر: 347
عبداللہ
بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر
دو نئی قبروں کے پاس سے ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو
رہا ہے (کہ جس سے بچنا مشکل تھا) ، ایک شخص
تو پیشاب (کی چھینٹوں) سے نہیں بچتا تھا، اور دوسرا غیبت (چغلی)
کیا کرتا تھا ۔
غیبت پر نماز دوبارہ پڑھنے روزہ دوبارہ رکھنے کا حکم
وعن
ابن عباس أن رجلين صليا صلاة الظهر أو العصر وكانا صائمين فلما قضى النبي صلى الله
عليه وسلم الصلاة قال أعيدا وضوءكما وصلاتكما وامضيا في صومكما واقضيا يوما آخر
. قالا لم يا رسول الله ؟ قال اغتبتم فلاناترجمہ:مشکوٰۃ المصابیح حدیث نمبر: 4771
اور
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن دو آدمیوں نے جو روزہ دار تھے آنحضرت ﷺ کریم
کے پیچھے ظہر یا عصر کی نماز پڑھی جب آنحضرت ﷺ نماز پڑھ چکے تو ان دونوں سے فرمایا
کہ تم دونوں دوبارہ وضو کرو اپنی نماز کو لوٹاؤ اور اپنے اس روزے کو پورا کرو اور
اس کے بدلے میں احتیاطا دوسرے دن کا روزہ رکھ لو۔ ان دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ
ایسا کیوں؟ یعنی وضو، نماز اور روزے کو لوٹانا کس سبب سے ہے؟ آپ نے فرمایا اس لئے
کہ تم نے فلاں شخص کی غیبت کی ہے۔
غیبت زنا سے بدترین
وعن
أبي سعيد وجابر قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الغيبة أشد من الزنا . قالوا
يا رسول الله وكيف الغيبة أشد من الزنا ؟ قال إن الرجل ليزني فيتوب فيتوب الله عليه
وفي رواية فيتوب فيغفر الله له وإن صاحب الغيبة لا يغفر له حتى يغفرها له صاحبه
. وفي روايةترجمہ:مشکوٰۃ المصابیح حدیث
نمبر: 4772
اور
حضرت ابوسعید ؓ اور حضرت جابر ؓ دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا
غیبت کرنا زنا کرنے سے زیادہ سخت برائی ہے، صحابہ نے یہ سن کر عرض کیا یا رسول اللہ
غیبت زنا سے زیادہ سخت برائی کس طرح سے ہے؟ آپ نے فرمایا اس طرح کہ جب آدمی زنا کرتا
ہے تو توبہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے اور ایک روایت
میں یہ الفاظ ہیں کہ توبہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے لیکن غیبت کرنے
والے کو اللہ تعالیٰ نہیں بخشتا جب تک کہ اس کو وہ شخص معاف نہ کر دے جس کی اس نے غیبت
کی ہے یعنی زنا کاری چونکہ اللہ کی معصیت و نافرمانی ہے اس لئے وہ ان کی توبہ قبول
کرلیتا ہے اور اس کو بخش دیتا ہے جبکہ غیبت کرنا حق العباد سے تعلق رکھتا ہے اس لئے
اللہ تعالیٰ غیبت کرنے والے کو اس وقت تک نہیں بخشتا جب تک وہ شخص اس کو معاف نہ کر
دے جس کی اس نے غیبت کی ہے
مسلمانوں کی غیبت اور عیب تلاش کرنے والوں کی گھروں میں رسوائی
حَدَّثَنَا
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ
عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ
الْأَسْلَمِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا
مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلْ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ لَا تَغْتَابُوا
الْمُسْلِمِينَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعْ عَوْرَاتِهِمْ
يَتَّبِعْ اللَّهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ يَتَّبِعْ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي
بَيْتِهِ:مسند احمدحدیث نمبر: 18944
حضرت
ابوبرزہ اسلمی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا اے وہ لوگو! جو زبان سے ایمان
لے آئے ہو لیکن ان کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کی غیبت مت کیا کرو اور
ان کے عیوب تلاش نہ کیا کرو، کیونکہ جو شخص ان کے عیوب تلاش کرتا ہے، اللہ اس کے عیوب
تلاش کرتا ہے اور اللہ جس کے عیوب تلاش کرنے لگ جاتا ہے، اسے گھر بیٹھے رسوا کردیتا
ہے۔
غیبت نہ کرنے والا کا اللہ ضامن
خصال
ست؛ ما من مسلم يموت في واحدة منهن؛ إلا كانت ضامنا على الله ان يدخله الجنة: 1- رجل
خرج مجاهدا، فإن مات في وجهه؛ كان ضامنا على الله. 2- ورجل تبع جنازة، فإن مات في وجهه؛
كان ضامنا على الله. 3- ورجل عاد مريضا، فإن مات في وجهه؛ كان ضامنا على الله. 4- ورجل
توضا فاحسن الوضوء، ثم خرج إلى المسجد لصلاته، فإن مات في وجهه؛ كان ضامنا على الله.
5- ورجل اتى إماما، لا ياتيه إلا ليعزره ويوقره، فإن مات في وجهه ذلك؛ كان ضامنا على
الله. 6- ورجل في بيته، لا يغتاب مسلما، ولا يجر إليهم سخطا ولا نقمة، فإن مات؛ كان
ضامنا على الله).۔سلسلہ الصحیحہ
سیدہ
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھ
خصائل ایسی ہیں کہ اگر کوئی مسلمان کسی ایک کو اپنا کر فوت ہو جائے تو اللہ تعالیٰ
کی اس کے بارے میں ذمہ داری ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا: (۱) وہ آدمی جو جہاد کرنے کے لیے نکلا
اور اسی سمت میں فوت ہو گیا، اللہ تعالیٰ ایسے آدمی (کی جنت) کا ضامن ہے، (۲) ایسا آدمی جو کسی جنازہ کے پیچھے
چلا، اگر اسی سمت میں فوت ہو گیا تو اس کا ذمہ دار بھی اللہ تعالیٰ ہوگا، (۳) وہ آدمی جو کسی مریض کی تیمارداری
کرنے کے لیے گیا، اگر اسی طرف ہی فوت ہو گیا تو اس کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہوگا، (۴) وہ آدمی جس نے وضو کیا، پھر ادائیگی
نماز کے لیے مسجد کی طرف نکلا، اگر اسی سمت میں فوت ہو گیا تو اللہ تعالیٰ اس کا ضامن
ہو گا، (۵) وہ
آدمی جو کسی (اسلامی) خلیفہ کے پاس آیا تاکہ اس کی پشت پناہی اور تعظیم و تکریم کرے،
اگر وہ اسی سمت میں فوت ہو گیا تو اللہ تعالیٰ اس کا ضامن ہو گا اور (۶) وہ آدمی جو گھر میں رہتا ہے، نہ وہ
کسی مسلمان کی غیبت کرتا ہے اور نہ کسی کے لیے غصے یا سزا کا باعث بنتا ہے، اگر وہ
اسی حالت میں فوت ہو گیا تو اس (کی جنت) کا ضامن بھی اللہ تعالیٰ ہو گا۔
غیبت نہ کرنے کا مصطفوی حکم
حَدَّثَنَا
بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ
بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قَالَ إِيَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا
وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَکُونُوا
عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بد گمانی سے بچو اس لئے کہ بد گمانی سب سے زیادہ
جھوٹی بات ہے اور نہ کسی کے عیوب کی جستجو کرو اور نہ ایک دوسرے پر حسد کرو اور نہ
غیبت کرو اور نہ بغض رکھو اور اللہ کے بندے بھائی بن کر رہو۔بخاری
نہ کسی کسے بغض رکھو نہ کسی سے غیبت کرو
حَدَّثَنَا
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِيثِ
وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا
وَلَا تَدَابَرُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بدگمانی سے بچو اس لئے کہ بدگمانی سب سے زیادہ
جھوٹی بات ہے اور کسی کے عیوب کی جستجو نہ کرو اور نہ اس کی ٹوہ میں لگے رہو اور (بیع
میں) ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو اور نہ حسد کرو اور نہ بغض رکھو اور نہ کسی کی غیبت
کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ۔بخاری
تین دن سے زیادہ ترک تعلق اور غیبت کی ممانعت
حَدَّثَنَا
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ
بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا
تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بغض نہ رکھو اور کسی سے حسد نہ کرو، اور نہ کسی
کی غیبت کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں
کہ اپنے بھائی سے تین رات سے زیادہ ترک تعلق کرے۔بخاری
بدگمانی اور غیبت سے بچنے کا حکم
حَدَّثَنَا
مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
إِيَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا
تَجَسَّسُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بدگمانی سے بچو اس لئے کہ بدگمانی سب سے زیادہ
جھوٹی بات ہے اور کسی کے عیوب کی جستجو نہ کرو اور نہ اس کی ٹوہ میں لگے رہو اور (بیع
میں) ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو اور نہ حسد کرو اور نہ بغض رکھو اور نہ کسی کی غیبت
کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ۔بخاری
غیبت کرنے والوں کو معاف فرمانا
حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ
أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ أَبِي ضَيْغَمٍ أَوْ ضَمْضَمٍ شَكَّ
ابْنُ عُبَيْدٍ كَانَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِعِرْضِي
عَلَى عِبَادِكَ
قتادہ
رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ابوضیغم
یا ابو ضمضم کی طرح ہو جائے۔ کیونکہ وہ جب صبح کرتا (ہر روز) تو کہتا :اے اللہ!میں
نے تیرے بندوں پر اپنی عزت صدقہ کی (یعنی اگر وہ میری عزت کے متعلق کوئی غیبت وغیرہ
کریں تو انہیں معاف فرما)۔ابوداود۔
حدیث کے راوی میں کلام کرنا غیبت نہیں
حَدَّثَنَا
عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ قَالَ سَأَلْتُ
سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ وَشُعْبَةَ وَمَالِکًا وَابْنَ عُيَيْنَةَ عَنْ الرَّجُلِ لَا
يَکُونُ ثَبْتًا فِي الْحَدِيثِ فَيَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيَسْأَلُنِي عَنْهُ قَالُوا
أَخْبِرْ عَنْهُ أَنَّهُ لَيْسَ بِثَبْتٍ:صحیح مسلم حدیث نمبر: 35
عمرو
بن علی، ابوحفص، یحییٰ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں نے سفیان ثوری شعبہ، مالک اور
ابن عیینہ سے پوچھا کہ لوگ مجھ سے ایسے شخص کی روایت کے بارے میں پوچھتے ہیں جو روایت
حدیث میں ثقہ و معتبر نہیں ہے ان سے ائمہ حدیث نے فرمایا کہ لوگوں کو بتادو کہ وہ راوی
ناقابل اعتبار ہے۔ (اس میں گناہ غیبت نہ ہوگا کیونکہ مقصود حفاظت دین ہے نہ کہ توہین
راوی)۔
غیبت کی جامع تعریف
حَدَّثَنَا
يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ
عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ
أَعْلَمُ قَالَ ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا يَکْرَهُ قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ کَانَ
فِي أَخِي مَا أَقُولُ قَالَ إِنْ کَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ اغْتَبْتَهُ وَإِنْ
لَمْ يَکُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ:صحیح مسلم حدیث نمبر: 6593
رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اللہ اور
اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اپنے بھائی کے اس عیب کو ذکر کرے
کہ جس کے ذکر کو وہ ناپسند کرتا ہو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ ﷺ کا کیا خیال ہے کہ
اگر واقعی وہ عیب میرے بھائی میں ہو جو میں کہوں آپ ﷺ فرمایا اگر وہ عیب اس میں ہے
جو تم کہتے ہو تبھی تو وہ غیبت ہے اور اگر اس میں وہ عیب نہ ہو پھر تو تم نے اس پر
بہتان لگایا ہے۔
غیبت سے بچنے کے لیے ایک دعا
حَدَّثَنَا
أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
بْنِ الزُّبَيْرِ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، الْمَعْنَى
عَنْسَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ
شَكَلٍ، عَنْ أَبِيهِ فِي حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ،
قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي دُعَاءً،
قَالَ: قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي،
وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي،
وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي.ترجمہ:سنن ابوداؤدحدیث نمبر: 1551
شکل
بن حمید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ
کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھا دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا۔کہو۔اللهم
إني أعوذ بک من شر سمعي، ومن شر بصري، ومن شر لساني، ومن شر قلبي، ومن شر منيي ۔اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی
برائی، نظر کی برائی، زبان کی برائی، دل کی برائی اور اپنی منی کی برائی سے
غیبت اور بہتان میں فرق
حَدَّثَنَا
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ
يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْغِيبَةُ
؟ قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيلَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ
فِي أَخِي مَا أَقُولُ، قَالَ: إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ،
وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَّهُ.ترجمہ:سنن ابوداؤدحدیث
نمبر: 4874
ابوہریرہ
ؓ سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول!
غیبت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
تمہارا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا کہ اسے ناگوار ہو عرض کیا گیا: اور اگر میرے بھائی میں وہ چیز پائی
جاتی ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ چیز اس کے اندر ہے جو تم کہہ رہے ہو تو تم
نے اس کی غیبت کی، اور اگر جو تم کہہ رہے ہو اس کے اندر نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان
باندھا ۔
مسلمانوں کی غیبت اور ان کے عیب تلاش کرنے کی ممانعت
حَدَّثَنَا
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ،
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ
سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ،
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا
مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ لَا تَغْتَابُوا
الْمُسْلِمِينَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَاتِهِمْ
يَتَّبِعُ اللَّهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي
بَيْتِهِ:سنن ابوداؤدحدیث نمبر: 4880
رسول
اللہ ﷺ
نے فرمایا: اے وہ لوگو! جو ایمان لائے
ہو اپنی زبان سے اور حال یہ ہے کہ ایمان اس کے دل میں داخل نہیں ہوا ہے مسلمانوں کی
غیبت نہ کرو اور ان کے عیوب کے پیچھے نہ پڑو، اس لیے کہ جو ان کے عیوب کے پیچھے پڑے
گا، اللہ اس کے عیب کے پیچھے پڑے گا، اور اللہ جس کے عیب کے پیچھے پڑے گا، اسے اسی
کے گھر میں ذلیل و رسوا کر دے گا ۔
روزے کی ڈھال غیبت سے پھاڑنا
أَخْبَرَنَا
يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،
قَالَ: حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِي سَيْفٍ،
عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ،
قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ يَقُولُ: الصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا.ترجمہ:سنن نسائی حدیث
نمبر: 2235
ابوعبیدہ
عامر بن عبداللہ الجراح رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: روزہ ڈھال ہے جب تک کہ وہ اسے (جھوٹ و غیبت وغیرہ کے ذریعہ) پھاڑ نہ دے ۔
غیبت روزے جیسی ڈھال کو چیر دیتی ہے
أَخْبَرَنَا
عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى
أَبِي عُيَيْنَةَ عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِي سَيْفٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ
عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ
رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا
لَمْ يَخْرِقْهَا قَالَ أَبُو مُحَمَّد يَعْنِي بِالْغِيبَةِ
حضرت
ابوعبیدہ بن جراح بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ
ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے روزہ ایک ڈھال ہے جب تک اسے پھاڑ نہ دیا جائے۔ امام ابومحمد
دارمی فرماتے ہیں یعنی غیبت کے ذریعے اسے پھاڑ نہ دیا جائے۔ سنن دارمی جلد
صحابہ اور رسول اللہ کے درمیان غیبت پر مختصر مکالمہ
وعن
أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال أتدرون ما الغيبة ؟ قالوا الله ورسوله
أعلم . قال ذكرك أخاك بما يكره . قيل أفرأيت إن كان في أخي ما أقول ؟ قال إن
كان فيه ما تقول فقد اغتبته وإن لم يكن فيه ما تقول فقد بهته . رواه مسلم . وفي رواية
إذا قلت لأخيك ما فيه فقد اغتبته وإذا قلت ما ليس فيه فقد بهته :مشکوٰۃ المصابیح حدیث
نمبر: 4731
اور
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن صحابہ کرام سے فرمایا کہ کیا
تم جانتے ہو غیبت کس کو کہتے ہیں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ
جانتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی کا ذکر اس طرح
کرو کہ جس کو وہ اگر سن لے تو ناپسند کرے۔ بعض صحابہ کرام نے یہ سن کر عرض کیا یا رسول
اللہ ﷺ یہ بتائیے کہ اگر میرے اس بھائی میں جس کا میں نے برائی کے ساتھ ذکر کیا ہے
وہ عیب ہوں جو میں نے بیان کیا ہے تو کیا جب بھی غیبت ہوگی یعنی میں نے ایک شخص کے
بارے میں اس کے پیٹھ پیچھے یہ ذکر کیا کہ اس میں فلاں برائی ہے جب کہ اس میں وہ واقعتًا
برائی ہو اور میں نے جو کچھ کہا ہے وہ سچ ہو اور ظاہر ہے کہا اگر وہ شخص اپنے بارے
میں میرے اس طرح ذکر کرنے کو سنے تو یقینًا خوش ہوگا تو کیا میرا اس کی طرف کسی برائی
کو منسوب کرنا جو درحقیقت اس میں ہے غیبت کہلائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم نے اس کی جس
برائی کا ذکر کیا ہے اگر وہ واقعی اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر
اس میں وہ برائی موجود نہیں ہے جس کو تم نے ذکر کیا ہے تم نے اس پر بہتان لگایا یعنی
یہی تو غیبت ہے کہ تم کسی کا کوئی عیب اس کے پیٹھ پیچھے بالکل سچ بیان کرو اور اگر
تم اس کے عیب کو بیان کرنے میں سچے نہیں ہو کہ تم نے اس کی طرف جس عیب کی نسبت کی ہے
وہ اس میں موجود نہیں ہے تو یہ افتراء اور بہتان ہے جو بذات خود ایک بہت بڑا گناہ ہے۔مشکوۃ
غیبت کرنے والے کو منع کرنے کا فائدہ
وعن
أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من اغتيب عنده أخوه المسلم وهو يقدر على نصره
فنصره نصره الله في الدينا والآخرة . فإن لم ينصره وهو يقدر على نصره أدركه الله
به في الدنيا والآخرة . رواه في شرح السنةترجمہ:مشکوٰۃ المصابیح حدیث نمبر: 4876
اور
حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نے فرمایا جس شخص کے سامنے اس کے
مسلمان بھائی کی غیبت کی جائے اور وہ اس مسلمان بھائی کی مدد کرے بشرطیکہ وہ مدد کرنے
پر قادر ہو تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی مدد کرے گا۔ اور اگر وہ مدد کرنے
پر قادر ہونے کے باوجود اس کی مدد نہ کرے تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا مواخذہ
کرے گا۔
اپنے مسلمان بھائی کی غیبت منع کرنے پر اجر
وعن
أسماء بنت يزيد قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من ذب عن لحم أخيه بالمغيبة
كان حقا على الله أن يعتقه من النار . رواه البيهقي في شعب الإيمانترجمہ:مشکوٰۃ المصابیح
اور
حضرت اسماء بنت یزید ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے مسلمان بھائی
کے پیٹھ پیچھے اس کا گوشت کھانے سے باز رکھے یعنی اس کے سامنے اگر کوئی شخص مسلمان
بھائی کی برائی اور غیبت کر رہا ہو تو اس کو اس حرکت سے روکے تو اس کا اللہ پر یہ حق
ہے کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ سے آزاد کرے گا۔
مسلمان بھائی کی آبروریزی پر اس کی مدد کا حکم
وعن
أبي الدرداء قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ما من مسلم يرد عن عرض أخيه
إلا كان حقا على الله أن يرد عنه نار جهنم يوم القيامة . ثم تلا هذه الآية ( وكان
حقا علينا نصر المؤمنين )رواه في شرح السنة:مشکوٰۃ المصابیح حدیث نمبر: 4878
اور
حضرت ابودرداء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو مسلمان
کسی مسلمان بھائی کی آبرو ریزی یعنی اس کی غیبت کرنے سے روکے اور اس کا دفعیہ کرے
تو اللہ پر اس کا حق ہے کہ وہ اس قیامت کے دن دوزخ کی آگ سے بچائے یا اس سے دوزخ کی
آگ کو دور کر دے پھر نبی ﷺ نے اپنے قول کان حقا کو ثابت کرنے کے لئے یہ آیت پڑھی،
آیت (وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ
) 30۔ الروم 47) یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
کہ مومنین کی مدد کرنا ہم پر واجب ہے۔
مسلمان بھائی کی عزت پر مدد کرنے پر اللہ کی مدد
وعن
جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ما من امرئ مسلم يخذل امرأ مسلما في موضع ينتهك
فيه حرمته وينتقص فيه من عرضه إلا خذله الله تعالى في موطن يحب فيه نصرته وما من امرئ
مسلم ينصر مسلما في موضع ينتقص فيه عرضه وينتهك فيه حرمته إلا نصره الله في موطن يحب
فيه نصرته :مشکوٰۃ المصابیح
اور
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی اس موقع
پر مدد کرے اور غیبت کرنے والے کو غیبت سے نہ روکے جہاں اس کی بےحرمتی کی جاتی ہو اور
اس کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچایا جاتا ہو تو اللہ بھی اس موقع پر اس شخص کی مدد
نہیں کرے گا جہاں وہ اللہ کی مدد کو پسند کرتا ہے اور جو مسلمان شخص اپنے مسلمان بھائی
کی اس موقع پر مدد کرے جہاں اس کی بےحرمتی کی جاتی ہو اور اس کی عزت و آبرو کو نقصان
پہنچایا جاتا ہو تو اللہ بھی اس موقع پر اس شخص کی مدد کرے گا جہاں وہ اللہ کی مدد
کو پسند کرتا ہے۔
کسی چھوٹے قد والے کو چھوٹے قد والا کہنا
حَدَّثَنَا
وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ أَنَّ
عَائِشَةَ حَكَتْ امْرَأَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ذَكَرَتْ قِصَرَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اغْتَبْتِيهَا:مسند
احمدحدیث نمبر: 23942
حضرت
عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نےنبی ﷺ کی موجود گی میں ایک عورت کے چھوٹے قدکا
تذکرہ کیا۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اس کی غیبت کی۔
غیبت کرنے پر دوبارہ وضو کا حکم
حَدَّثَنَا
أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنِ الْحَارِثِ ،
قَالَ : کُنْتُ آخذًا بِیَدِ إبْرَاہِیمَ فَذَکَرْت رَجُلاً فَاغْتَبْتُہُ ، قَالَ
: فَقَالَ لِی : ارْجِعْ فَتَوَضَّأْ ، کَانُوا یَعُدُّونَ ہَذَا ہُجْرًا۔ابن ابی
شیبہ:جلد اول:حدیث نمبر 1439
حضرت
حارث کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا کہ میں نے ایک آدمی کا
ذکر کیا اور اس کی غیبت کی۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اور دوبارہ وضو کرو کیونکہ
اسلاف اسے بدترین بات شمار کیا کرتے تھے۔
کسی کٹے ہاتھ والے کو ہاتھ کٹا کہنا بھی غیبت
حَدَّثَنَا
أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ ، قَالَ : لَوْ رَأَیْت
أَقْطَعَ فَذَکَرْتہ فَقُلْت الأَقْطَعُ کَانَتْ غِیبَۃً ، قَالَ : فَذَکَرْتہ لأَبِی
إِسْحَاقَ فَقَالَ : صَدَقَ۔ابن ابی شیبہ
حضرت
شعبہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ بن قرہ نے ارشاد فرمایا : اگر تو کسی ہاتھ کٹے کو دیکھے
پھر تو نے اس کا یوں ذکر فرمایا : کہ ہاتھ کٹا تو یہ بھی غیبت ہوگی۔ راوی کہتے ہیں
کہ میں نے یہ بات حضرت ابو اسحاق کے سامنے ذکر کی ، تو آپ نے فرمایا : انہوں نے سچ
کہا۔
ابن عباس کی اپنے بیٹے کو تین باتوں کی نصیحت
(۱۶۶۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو
الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ
جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا
حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ الْعَبَّاسَ قَالَ لاِبْنِہِ
عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : إِنِّی أَرَی ہَذَا الرَّجُلَ قَدْ أَکْرَمَکَ
یَعْنِی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَدْنَی مَجْلِسَکَ وَأَلْحَقَکَ
بِقَوْمٍ لَسْتَ مِثْلَہُمْ فَاحْفَظْ عَنِّی ثَلاَثًا لاَ یُجَرِّبَنَّ عَلَیْکَ کَذِبًا
وَلاَ تُفْشِ عَلَیْہِ سِرًّا وَلاَ تَغْتَابَنَّ عِنْدَہُ أَحَدًا۔ (ت) وَرَوَاہُ غَیْرُہُ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ سنن کبری للبیہقی
حضرت
عباس نے اپنے بیٹے عبداللہ کو فرمایا : حضرت عمر نے تجھے بڑی عزت دی ہے، اپنے قریب
بٹھایا ہے اور ایسے لوگوں کے برابر تجھے بٹھایا ہے کہ تو ان جیسا نہیں تو تین باتیں
میری یاد رکھنا : کبھی جھوٹ نہ بولنا، کوئی راز ظاہرنہ کرنا اور ان کے پاس کسی کی غیبت
نہ کرنا۔
غیبت نہ کرنے پر حضور کا بیعت لینا
أَخْبَرَنَا
أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ
یَعْقُوبَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ نُعَیْمٍ حَدَّثَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ سَالِمٍ
أَنْبَأَنَا ہُشَیْمٌ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ
الصَّنْعَانِیِّ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَخَذَ
عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- کَمَا أَخَذَ عَلَی النِّسَائِ أَنْ لاَ نُشْرِکَ
بِاللَّہِ شَیْئًا وَلاَ نَسْرِقَ وَلاَ نَزْنِیَ وَلاَ نَقْتُلَ أَوْلاَدَنَا وَلاَ
یَعْضَہَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ فَمَنْ وَفَّی مِنْکُمْ فَأَجْرُہُ عَلَی اللَّہِ وَمَنْ
أَتَی مِنْکُمْ حَدًّا فَأُقِیمَ عَلَیْہِ فَہُوَ کَفَّارَتُہُ وَمَنْ سَتَرَہُ اللَّہُ
عَلَیْہِ فَأَمْرُہُ إِلَی اللَّہِ إِنْ شَائَ عَذَّبَہُ وَإِنْ شَائَ غَفَرَ لَہُ۔
سنن کبری للبیہقی
حضرت
عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے ویسے ہی
بیعت لی جیسے عورتوں سے لیتے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ شرک، چوری، زنا، اپنی اولادوں
کا قتل اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کریں۔ جس نے اس بیعت کو پورا کیا تو اس کا اجر اللہ
کے ذمے ہے اور جس نے جرم کیا اور جرم کی سزا مل گئی تو یہ اس کا کفارہ ہے اور جس مسلمان
کے گناہ پر اللہ نے پردہ ڈالا۔ اب اللہ چاہے تو سزا دے یا معاف کر دے۔
جس کی زبان سے مسلمان محفوظ نہیں ایمان اس کے دل میں نہیں اترا
أَخْبَرَنَا
عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ
حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُونُسَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ
اللَّہِ بْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا
مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِہِ وَلَمْ یَدْخُلِ الإِیمَانُ فِی قَلْبِہِ لاَ تَغْتَابُوا
الْمُسنن کبری للبیہقی
حضرت
ابو برزہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے
گروہ جو اپنی زبان قابو میں نہیں رکھتے ! ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہے، مسلمانوں
کی غیبت نہ کیا کرو۔ ان کے عیب تلاش نہ کیا کرو۔ جو اپنے مسلمان بھائی کے عیب تلاش
کرتا ہے، اللہ اس کے عیب تلاش کر کے اس کو اس کے گھر کے اندر رسوا کر دے گا۔
حضور کا غیبت کی مذمت میں اپنی آوازبلند فرمانا
عَنْ
اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: نَادٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم حَتّٰی اَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ فَقَالَ:) ((یَا مَعْشَرَ مَنْ
آمَنَ بِلِسَانِہِ وَلَمْ یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ قَلْبَہُ، لَا تَغْتَابُوْا الْمُسْلِمِیْنَ
وَلَا تَتَّبِعُوْا عَوْرَاتِھِمْ، فَاِنَّہُ مَنْ یَتَّبِعْ عَوْرَاتِھِمْ یَتَّبِعِ
اللّٰہُ عَوْرَتَہُ، وَمَنْ یَتَّبِعِ اللّٰہُ عَوْرَتَہُ یَفْضَحْہُ فِیْ بَیْتِہِ۔مسند
احمد
سیدنا
ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے اس قدر بلند آواز دی کہ جوان عورتوں نے بھی سن لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا: اے ان افراد کی جماعت جو زبان سے ایمان لائے ہو اور ابھی تک ایمان
دل میں داخل نہیں ہوا، تم مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو اور ان کے پردے والے امور کی
تلاش میں نہ لگو، جو ان کے عیبوں کو تلاش کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے عیب کی تلاش میں
پڑ جائے گا اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب کی جستجو میں پڑ جاتا ہے، اس کو اس کے گھر میں
رسوا کر دیتا ہے۔
غیبت نہ کرنے والا قیامت کے دن کہاں ہوگا
من
قل ماله، وكثر عياله، وحسنت صلاته، ولم يغتب المسلمين جاء يوم القيامة وهو معي كهاتين.
"ع والخطيب وابن عساكر عن أبي سعيد۔کنزالعمال
جس
کا مال تھوڑا ہو، عیال و اولاد زیادہ ہوں، اس کی نماز اچھی ہو اور اس نے مسلمانوں کی
غیبت نہ کی ہو تو وہ قیامت میں یوں آئے گا کہ میرے ساتھ اس طرح ہوگا (جیسے یہ دو انگلیاں
ملی ہوئی ہیں) ۔)
غیبت کا کفارہ کیا ہے
وَعَنْ
أَنَسٍقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ كَفَّارَةِ الْغِيبَةِ أَنْ تَسْتَغْفِرَ
لِمَنِ اغْتَبْتَهُ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ «. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ
فِي» الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ وَقَالَ: فِي
هَذَا الْإِسْنَاد ضعف ۔مشکوۃ
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تم نے جس
کی غیبت کی ہے اس کے لیے دعائے مغفرت کرو ، کہو : اے اللہ ! ہماری اور اس کی مغفرت
فرما ۔
غیبت کرنے والے کے لیے توبہ نہیں
وَفِي
رِوَايَةِأَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «صَاحِبُ الزِّنَا يَتُوبُ وَصَاحِبُ
الْغِيبَةِ لَيْسَ لَهُ تَوْبَةٌ» . رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ
فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
اور
انس ؓ کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ زنا کرنے والا توبہ کر لیتا ہے جبکہ غیبت کرنے
والے کے لیے توبہ نہیں ۔‘‘ (کیونکہ وہ اسے اہمیت نہیں دیتا کہ یہ بھی گناہ ہے اور وہ
توبہ نہیں کر پاتا) ۔مشکوۃ
حضور کے زمانے میں دو غیبت کرنے والی روزہ دار عورتیں
حَدَّثَنَا
يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ الْمَعْنَى
عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُمْ فِي مَجْلِسِ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ ابْنُ أَبِي
عَدِيٍّ عَنْ شَيْخٍ فِي مَجْلِسِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى رَسُولِ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ صَامَتَا وَأَنَّ
رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَاهُنَا امْرَأَتَيْنِ قَدْ صَامَتَا وَإِنَّهُمَا
قَدْ كَادَتَا أَنْ تَمُوتَا مِنْ الْعَطَشِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ أَوْ سَكَتَ ثُمَّ
عَادَ وَأُرَاهُ قَالَ بِالْهَاجِرَةِ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهُمَا وَاللَّهِ
قَدْ مَاتَتَا أَوْ كَادَتَا أَنْ تَمُوتَا قَالَ ادْعُهُمَا قَالَ فَجَاءَتَا قَالَ
فَجِيءَ بِقَدَحٍ أَوْ عُسٍّ فَقَالَ لِإِحْدَاهُمَا قِيئِي فَقَاءَتْ قَيْحًا أَوْ
دَمًا وَصَدِيدًا وَلَحْمًا حَتَّى قَاءَتْ نِصْفَ الْقَدَحِ ثُمَّ قَالَ لِلْأُخْرَى
قِيئِي فَقَاءَتْ مِنْ قَيْحٍ وَدَمٍ وَصَدِيدٍ وَلَحْمٍ عَبِيطٍ وَغَيْرِهِ حَتَّى
مَلَأَتْ الْقَدَحَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَاتَيْنِ صَامَتَا عَمَّا أَحَلَّ اللَّهُ
وَأَفْطَرَتَا عَلَى مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمَا جَلَسَتْ إِحْدَاهُمَا
إِلَى الْأُخْرَى فَجَعَلَتَا يَأْكُلَانِ لُحُومَ النَّاسِ:مسند احمد
حضرت
عبید ؓ سے مروی ہے کہ دور نبوت میں دو عورتوں نے روزہ رکھا ہوا تھا ایک آدمی آیا
اور کہنے لگا یا رسول اللہ! ﷺ یہاں دو عورتیں ہیں جنہوں نے روزہ رکھا ہوا ہے لیکن پیاس
کی وجہ سے مرنے کے قریب ہوگئی ہیں نبی کریم ﷺ نے اس کی بات سن کر خاموشی یا اعراض فرمایا
وہ دوبارہ دوپہر کے وقت آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی! واللہ وہ مرجائیں گی نبی
کریم ﷺ نے فرمایا انہیں بلا کر لاؤ وہ دونوں آئیں تو ایک پیالہ منگوایا گیا نبی کریم
ﷺ نے ان میں سے ایک سے فرمایا کہ اس میں قے کرو اس نے قے کی تو اس میں سے خون، پیپ
اور گوشت نکلا حتی کہ آدھا پیالہ بھر گیا پھر دوسری سے بھی یہی فرمایا اس نے بھی یہی
چیزیں قے کیں حتی کہ پیالہ بھر گیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا انہوں نے اللہ کی حلال چیزوں
سے رک کر روزہ تو رکھ لیا لیکن اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اختیار کر کے روزہ توڑ
دیا یہ دونوں ایک دوسرے کے پاس بیٹھ کر لوگوں کا گوشت کھا رہی تھیں (غیبت کر رہی تھیں )
تفسیر بغوی اور غیبت کا ایک واقعہ
حضور
جب جہاد کے لیے روانہ فرماتے تو دو مالدار مسلمانوں کے ساتھ ایک نادار مسلمان کو اکٹھا
کر دیتے۔کہ یہ غریب مسلمان ان کی خدمت کرے اور مالدار اسے کھلائیں پلائیں۔اس طرح ہر
ایک کا کام چلتا رہے۔اسی طرح ایک موقع پر حضرت سلمان دو آدمیوں کے ساتھ کیے گئے تھے۔ایک
دن آپ سو گئے اور کھانا پینا تیار نہ کر سکے۔تو ان دونوں نے انہیں کھانا لینے کے لیے
حضور کی طرف بھیجا۔حضور کے باورچی خادم حضرت اسامہ تھے۔ان کے پاس کھانا ختم ہو چکا
تھا۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس کھانے میں کچھ نہیں۔جب حضرت سلمان نے ان دونوں کو آکر
بتایا۔تو دونوں ساتھیوں نے کہا کہ اسامہ نے بخل سے کام لیا۔جب دونوں حضور کے پاس حاضر
ہوئے۔آپ نے فرمایا میں تم دونوں کے منہ میں گوشت کی رنگت دیکھتا ہوں۔انہوں نے عرض
کیا ہم نے گوشت کھایاہی نہیں۔آپ نے فرمایا تم دونوں نے غیبت کی۔جو مسلمان کی غیبت کرے اس نے مسلمان کا
گوشت کھایا۔
غیبت کی تعریف بہارِ شریعت میں
مولینا
امجد علی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں غیبت کی تعریف
حضرت
مولینا امجدعلی رحمۃ اللہ علیہ نے غیبت کی تعریف اس طرح بیان کی ہے۔کسی شخص کے پوشیدہ
عیب کو اس کی برائی کرنے کے طور پر ذکر کرنا۔ (بہار شریعت)
علامہ ابن جوزی کی نظر میں غیبت کی تعریف
تو
اپنے بھائی کو ایسی چیز کے ذریعے یاد کرے کہ اگروہ سن لے یا یہ بات اسے پہنچے تو اسے
ناگوار گزرے اگر چہ تو اس میں سچاہو خواہ اس کی ذات میں کوئی نَقْص (خامی)بیان کرے
یا اس کی عَقل میں یا اس کے کپڑو ں میں یا اس کے فعل یا قول میں کوئی کمی بیان کرے
یا اس کے دین یا اس کے گھر میں کوئی نَقص (عیب)بیان کرے یا اس کی سواری یا اس کی اولاد،
اس کے غلام یااس کی کنیز میں کوئی عیب بیان کرے یااس سےمتعلق کسی بھی شے کا (برائی
کے ساتھ)تذکرہ کرے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا کہ اس کی آستین یادامن لمباہے سب غیبت
میں داخل ہیں ۔ (بَحْرُالدُّمُوع )
من
قل ماله، وكثر عياله، وحسنت صلاته، ولم يغتب المسلمين جاء يوم القيامة وهو معي كهاتين.
"ع والخطيب وابن عساكر عن أبي سعيد۔ کنزالعمال ".
جس
کا مال تھوڑا ہو، عیال و اولاد زیادہ ہوں، اس کی نماز اچھی ہو اور اس نے مسلمانوں کی
غیبت نہ کی ہو تو وہ قیامت میں یوں آئے گا کہ میرے ساتھ اس طرح ہوگا (جیسے یہ دو انگلیاں
ملی ہوئی ہیں) ۔)
Masha Allah bohat khub andazy byan ha
ReplyDeleteAllah mazeed barktain rahmtain ata farmy
ReplyDeleteماشاءاللہ و تبارک
ReplyDelete