Dosti ar Sohbat by Syed Zaheer Hussain Refai دوستی اور صحبت سید ظہیر حسین شاہ رفاعی
اس دن گہرے دوست
ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے ماسوا متقین کے ۔سورہ زخرف
يٰوَيْلَتٰى
لَيْتَنِيْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلًا
28
ہائے افسوس ! کاش
میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا .سورہ فرقان
آیت کی تفسیربحوالہ تفسیر ابن کثیر
وقال عبد الرزاق أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي
رضي الله عنه { ٱلاَْخِلاَءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلاَّ
ٱلْمُتَّقِينَ } قال خليلان مؤمنان، وخليلان كافران، فتوفي أحد المؤمنين، وبشر
بالجنة، فذكر خليله، فقال اللهم إن فلاناً خليلي، كان يأمرني بطاعتك وطاعة رسولك،
ويأمرني بالخير، وينهاني عن الشر، وينبئني أني ملاقيك
، اللهم فلا تضله بعدي حتى تريه مثلما أريتني، وترضى عنه كما
رضيت عني، فيقال له اذهب فلو تعلم ماله عندي، لضحكت كثيراً، وبكيت قليلاً. قال ثم
يموت الآخر، فتجتمع أرواحهما، فيقال ليثنِ أحدكما على صاحبه، فيقول كل واحد منهما
لصاحبه نعم الأخ، ونعم الصاحب، ونعم الخليل. وإذا مات أحد الكافرين، وبشر بالنار،
ذكر خليله فيقول اللهم إن خليلي فلاناً كان يأمرني بمعصيتك ومعصية رسولك، ويأمرني
بالشر، وينهاني عن الخير، ويخبرني أني غير ملاقيك، اللهم فلا تهده بعدي حتى تريه
مثل ما أريتني، وتسخط عليه كما سخطت علي. قال فيموت الكافر الآخر، فيجمع بين
أرواحهما، فيقال ليثنِ كل واحد منكما على صاحبه، فيقول كل واحد منهما لصاحبه بئس
الأخ، وبئس الصاحب، وبئس الخليل! رواه ابن أبي حاتم، وقال ابن عباس رضي الله عنهما
ومجاهد وقتادة صارت كل خلة عداوة يوم القيامة، إلا المتقين، وروى الحافظ ابن عساكر
في ترجمة هشام بن أحمد عن هشام بن عبد الله بن كثير، حدثنا أبو جعفر محمد بن الخضر
بالرقة عن معافى، حدثنا حكيم بن نافع عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله
عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم
" لو أن رجلين تحابا في الله،
أحدهما بالمشرق والآخر بالمغرب، لجمع الله تعالى بينهما يوم القيامة، يقول هذا
الذي أحببته فيَّ "
امیرالمومنین
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان
میں سے ایک کا انتقال ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوش خبری
ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی
دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت
کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے
ملنا ہے پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو
وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہوجائے جس طرح مجھ
سے راضی ہوا ہے اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لیے جو
کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ
ہوتا پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم
آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا
اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا دو کافر جو آپس میں
ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو
اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا
تیری اور تیرے نبی کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا
بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے
میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح
ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں
جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو تو ہر
ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا حضرت ابن عباس اور حضرت
مجاہد اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر
پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لیے آپس میں
دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن
اللہ انھیں جمع کر کے فرمائے گ
روحوں کے لشکر اور دوستی
عَنْ
عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ
مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ
حضرت عائشہ سے
روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا
‘ کہ
تمام ارواح کے لشکر ایک جگہ جمع تھے ‘ بس جس جس روح میں وہاں پہچان ہوگئی یہاں بھی ان میں باہم دوستی
ہوگی اور جس جس میں وہاں پہچان نہ ہوئی ‘ تو یہاں بھی بیگانگی رہے گی۔بخاری
اسلام کی دوستی افضل
حَدَّثَنَا
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ
قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يَعْلَی بْنَ حَکِيمٍ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ
ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ عَاصِبٌ رَأْسَهُ بِخِرْقَةٍ فَقَعَدَ عَلَی
الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ
النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنْ أَبِي بکْرِ بْنِ
أَبِي قُحَافَةَ وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ النَّاسِ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ
أَبَا بَکْرٍ خَلِيلًا وَلَکِنْ خُلَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ سُدُّوا عَنِّي
کُلَّ خَوْخَةٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَکْرٍ
حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) اپنے مرض میں جس مرض میں آپ نے وصال فرمایا، اپنا سر ایک پٹی سے باندھے
ہوئے باہر نکلے اور منبر پر بیٹھ گئے، پھر اللہ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ لوگو
! ابوبکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ اپنی جان
اور اپنے مال سے مجھ پر احسان کرنے والا کوئی نہیں اور اگر میں لوگوں میں سے کسی
کو خلیل بناتا، تو یقیناً ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیل بناتا، لیکن اسلام کی دوستی
افضل ہے، میری طرف سے ہر کھڑکی کو جو اس مسجد میں ہے، بند کردو، سوائے ابوبکر رضی
اللہ عنہ کی کھڑکی کے۔ بخاری
اللہ اور مسلمانوں کے دشمنوں سے دوستی
حَدَّثَنَا
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ
أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي
رَافِعٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعَثَنِي
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ
وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ انْطَلِقُوا حَتَّی تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا
ظَعِينَةً مَعَهَا کِتَابٌ فَخُذُوا مِنْهَا قَالَ فَانْطَلَقْنَا تَعَادَی بِنَا
خَيْلُنَا حَتَّی أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ قُلْنَا
لَهَا أَخْرِجِي الْکِتَابَ قَالَتْ مَا مَعِي کِتَابٌ فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ
الْکِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ قَالَ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا
بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ مِنْ
حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَی نَاسٍ بِمَکَّةَ مِنْ الْمُشْرِکِينَ
يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا حَاطِبُ مَا هَذَا
قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي کُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا
فِي قُرَيْشٍ يَقُولُ کُنْتُ حَلِيفًا وَلَمْ أَکُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا وَکَانَ
مَنْ مَعَکَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ مَنْ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ أَهْلِيهِمْ
وَأَمْوَالَهُمْ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِکَ مِنْ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ
أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا يَحْمُونَ قَرَابَتِي وَلَمْ أَفْعَلْهُ ارْتِدَادًا
عَنْ دِينِي وَلَا رِضًا بِالْکُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُ قَدْ صَدَقَکُمْ فَقَالَ عُمَرُ
يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ إِنَّهُ
قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيکَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَی مَنْ شَهِدَ
بَدْرًا فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ فَأَنْزَلَ
اللَّهُ السُّورَةَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي
وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِيَائَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ کَفَرُوا
بِمَا جَائَکُمْ مِنْ الْحَقِّ إِلَی قَوْلِهِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَائَ السَّبِيلِ
حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ مجھے زبیر اور مقداد (رضی اللہ عنہ)
کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھیجا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے
فرمایا تم لوگ جاؤ حتی کہ (مقام) روضہ خاخ تک پہنچو۔ وہاں تمہیں ایک کجاوہ نشین
عورت ملے گی جس کے پاس ایک خط ہوگا، وہ خط اس سے لے لو، حضرت علی (رضی اللہ عنہ)
فرماتے ہیں کہ ہمارے گھوڑے تیزی کے ساتھ ہمیں لے اڑے حتی کہ روضہ خاخ پہنچ گئے،
وہاں ہمیں ایک کجاوہ نشین عورت ملی، ہم نے اس سے کہا خط نکال، اس نے کہا میرے پاس
کوئی خط نہیں، ہم نے اس سے کہا کہ یا تو خط نکال دے ورنہ ہم تیرے کپڑے اتار
(کرتلاشی) لیں گے، تو اس نے اپنی چوٹی میں سے خط نکالا، ہم وہ خط لے کر رسول اللہ
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو اس میں لکھا ہوا تھا حاطب بن ابی بلتعہ
کی جانب سے مشرکین مکہ کے نام، انھیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض
معاملات (جنگ) کی اطلاع دے رہے تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاطب
سے فرمایا : حاطب یہ کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا یا رسول اللہ ! مجھ پر جلدی نہ
کیجئے، میں ایسا آدمی ہوں کہ قریش سے میرا تعلق ہے، یعنی میں ان کا حلیف ہوں اور
میں ان کی ذات سے نہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جو مہاجر ہیں، ان
سب کے رشتہ دار ہیں جو ان کے مال، اولاد کی حمایت کرسکتے ہیں، چونکہ ان سے میری
قرابت نہیں تھی اس لیے میں نے چاہا کہ ان پر کوئی ایسا احسان کردوں جس سے وہ میری رشتہ
داری کی حفاظت کریں اور یہ کام میں نے اپنے دین سے پھرجانے اور اسلام لانے کے بعد
کفر پر راضی ہونے کے سبب سے نہیں کیا ہے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
نے فرمایا : دیکھو، حاطب نے تم سے سچ سچ کہہ دیا ہے، حضرت عمر (رض) نے عرض کیا یا
رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن ماردوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) نے فرمایا (نہیں نہیں کہ) یہ بدر میں شریک تھے اور تمہیں کیا معلوم ہے ؟
اللہ تعالیٰ نے حاضرین بدر کی طرف التفات کرکے فرمایا تھا، کہ تم جو تمہارا جی
چاہے، عمل کرو کہ میں تمہیں بخش چکا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی کہ
اے ایمان والو ! تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ کہ تم ان سے اپنی محبت
ظاہر کرو، آخر آیت (فَقَدْ ضَلَّ سَوَا ءَ
السَّبِيْلِ ) 2 ۔ البقرۃ : 108) تک۔
ابراہیم علیہ السلام اللہ کے دوست
حَدَّثَنَا
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ أَنَّ مُعَاذًا رَضِيَ
اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا قَدِمَ الْيَمَنَ صَلَّی بِهِمْ الصُّبْحَ فَقَرَأَ
وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ لَقَدْ
قَرَّتْ عَيْنُ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ زَادَ مُعَاذٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ
سَعِيدٍ عَنْ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ
مُعَاذًا إِلَی الْيَمَنِ فَقَرَأَ مُعَاذٌ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ سُورَةَ
النِّسَائِ فَلَمَّا قَالَ وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا قَالَ رَجُلٌ
خَلْفَهُ قَرَّتْ عَيْنُ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ
حضرت معاذ (رضی اللہ عنہ) بن جبل جب یمن میں آئے تو لوگوں کو صبح کی نماز
پڑھاتے ہوئے یہ آیت پڑھی کہ : اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دوست بنالیا۔ تو
ایک آدمی نے کہا ابراہیم (علیہ السلام) کی ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہوگئی معاذ نے بواسطہ
شعبہ، حبیب، سعید، عمرو اس روایت میں زیادتی اس طرح بیان کی ہے کہ نبی (صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ (رض) کو جب یمن بھیجا تو معاذ (رض) نے صبح کی نماز
میں سورت نساء پڑھی جب یہ آیت آئی کہ اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دوست
بنالیا۔ تو ایک آدمی نے پیچھے سے کہا ابراہیم (علیہ السلام) کی ماں کی آنکھ ٹھنڈی
ہوگئی۔ بخاری
دوست کی تعریف میں مبالغہ کرنا
حَدَّثَنَا
آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي
بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا ذُکِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَی عَلَيْهِ رَجُلٌ خَيْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْحَکَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ يَقُولُهُ
مِرَارًا إِنْ کَانَ أَحَدُکُمْ مَادِحًا لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ کَذَا
وَکَذَا إِنْ کَانَ يُرَی أَنَّهُ کَذَلِکَ وَحَسِيبُهُ اللَّهُ وَلَا يُزَکِّي
عَلَی اللَّهِ أَحَدًا قَالَ وُهَيْبٌ عَنْ خَالِدٍ وَيْلَکَ
عبدالرحمن بن ابی بکرہ، ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اپنے والدسے روایت کرتے ہیں ۔کہ
ایک آدمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا اور اس کی
تعریف کی، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ افسوس تجھ پر تو نے اپنے
دوست کی گردن توڑ دی اور چند بار یہی کلمات فرمائے (پھر فرمایا) اگر تم میں سے کسی
کی تعریف کرنی ہی تو کہے کہ میں ایسا ایسا گمان کرتا ہوں، اگر اس کے خیال میں ایسا
ہے اور اس کو سمجھنے والا اللہ ہے اور اللہ پر کسی کی پا کیزگی بیان نہیں کرنی
چاہیے، وہیب نے خالد سے ویک کی بجائے ویلک کا لفظ نقل کیا۔بخاری
شیاطین کے دوست
حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا ابْنُ
جُرَيْجٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَی بْنُ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ
عُرْوَةَ يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْکُهَّانِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسُوا بِشَيْئٍ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ
فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّيْئِ يَکُونُ حَقًّا فَقَالَ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْکَ الْکَلِمَةُ مِنْ الْحَقِّ
يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ
فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَکْثَرَ مِنْ مِائَةِ کَذْبَةٍ
حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) سے کاہنوں کے متعلق دریافت کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے
فرمایا کہ یہ کوئی چیز نہیں ہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) وہ کبھی ایسی باتیں کہتے ہیں جو صحیح ہوتی ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ بات اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اس کو شیطان اچک لیتا ہے اور
اپنے دوست کے کان میں ڈال دیتا ہے جس طرح ایک مرغ دوسرے مرغ کے کان میں آواز پہنچا
دیتا ہے پھر وہ کاہن اس میں سو جھوٹ سے زیادہ ملا دیتے ہیں۔ بخاری
اللہ کے دوست سے دشمنی کرنا
حَدَّثَنِي
مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ کَرَامَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنِي شَرِيکُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ
أَبِي نَمِرٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَالَ مَنْ عَادَی لِي وَلِيًّا
فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْئٍ أَحَبَّ
إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ
بِالنَّوَافِلِ حَتَّی أُحِبَّهُ فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ کُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي
يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا
وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ وَلَئِنْ
اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْئٍ أَنَا فَاعِلُهُ
تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَکْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَکْرَهُ
مَسَائَتَهُ
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) روایت
کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے جس
نے میرے دوست سے دشمنی کی میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔ اور میرا بندہ میری فرض
کی ہوئی چیزوں کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا ہے اور میرا بندہ ہمیشہ نوافل کے ذریعے
مجھ سے قرب حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، جب میں اس سے
محبت کرنے لگتا ہوں تو اس کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ
ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور
اس کا پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اور اگر وہ مجھ سے کوئی چیز مانگتا ہے تو
میں اسے دیتا ہوں اور اگر مجھ سے پناہ مانگے تو پناہ دیتا ہوں اور جس کام کو کرنے
والا ہوتا ہوں اس کے کرنے میں مجھے تردد نہیں ہوتا۔ جس قدر مجھے نفس مومن سے تردد
ہوتا ہے کہ وہ موت کو مکروہ سمجھتا ہے اور میں اس کے برا سمجھنے کو مکروہ سمجھتا
ہوں۔بخاری
میرے دوست نے سچ فرمایا
حَدَّثَنِي
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا
عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ لَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَکَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَتَّی يَقُولُوا
هَذَا اللَّهُ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ
جَائَنِي نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ فَقَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا اللَّهُ
فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ قَالَ فَأَخَذَ حَصًی بِکَفِّهِ فَرَمَاهُمْ ثُمَّ قَالَ
قُومُوا قُومُوا صَدَقَ خَلِيلِي
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے
مجھے ارشاد فرمایا اے ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) یہ لوگ تجھ سے ہمیشہ پوچھتے رہیں گے
یہاں تک کہ وہ کہیں گے کہ یہ تو اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا حضرت ابوہریرہ
(رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کچھ دیہاتی لوگ آکر
کہنے لگے اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ تو اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا راوی
کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) نے مٹھی بھر کر کنکریاں ان کو مار کر
کہا اٹھو چلے جاؤ۔ میرے دوست (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ فرمایا۔ مسلم
میرے دوست نے وصیت کی
و
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ
الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ
شُعْبَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي
ذَرٍّ قَالَ إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ وَإِنْ كَانَ
عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ
حضرت ابوذر (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ میرے پیارے دوست (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) نے مجھے یہ وصیت فرمائی کہ میں سنوں اور اطاعت کروں اگرچہ امیر ہاتھ
پاؤں کٹا ہوا غلام ہی کیوں نہ ہو۔ بخاری
طاقتور دوست قبیلے
حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا
سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ
الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ وَأَسْلَمُ
وَغِفَارُ وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًی دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ
حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا قبیلہ قریش، انصار، مزنیہ، جہنیہ، اسلم، غفار، اشجع
دوست ہیں اور ان کا حمایتی کوئی نہیں ماسوا اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) کے۔ مسلم
شیاطین
کا اپنے دوستوں کو الہام کرنا
حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا سِمَاکٌ عَنْ
عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ
إِلَی أَوْلِيَائِهِمْ يَقُولُونَ مَا ذَبَحَ اللَّهُ فَلَا تَأْکُلُوا وَمَا
ذَبَحْتُمْ أَنْتُمْ فَکُلُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَأْکُلُوا
مِمَّا لَمْ يُذْکَرْ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ
حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ آیت قرآنی وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَی
أَوْلِيَائِهِمْ (شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں
میں وسوسہ ڈالتے ہیں) کا شان نزول یہ ہے کہ یہودی کہتے تھے کہ جس کو اللہ نے ذبح
کیا (یعنی ازخود مرگیا) اس کو تم نہیں کھاتے ہو اور جس کو تم خود ذبح کرتے ہو اس
کو کھالیتے ہو۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ان (جانوروں) کا گوشت مت
کھاؤ جن پر (بوقت ذبحہ) اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ابوداؤد
جو دوست تقدیر پر کلام کرے
حَدَّثَنَا
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا
سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ
نَافِعٍ قَالَ کَانَ لِابْنِ عُمَرَ صَدِيقٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُکَاتِبُهُ
فَکَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّکَ
تَکَلَّمْتَ فِي شَيْئٍ مِنْ الْقَدَرِ فَإِيَّاکَ أَنْ تَکْتُبَ إِلَيَّ فَإِنِّي
سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ
سَيَکُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُکَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ اہل شام میں سے ایک شخص ابن عمر (رضی اللہ عنہ) کا
دوست تھا اور ان سے خط و کتابت رکھتا تھا تو ابن عمر (رضی اللہ عنہ) نے اسے لکھا
کہ مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ تم تقدیر کے بارے میں گفتگو کرتے ہو پس آئندہ مجھ سے خط
و کتابت بالکل نہ کرنا کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا
ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میری امت میں بیشک عنقریب ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کو
جھٹلائیں گے۔ ابوداؤد
دوست کی شناخت اور نماز فجر کا تعین
أَخْبَرَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ قَالَ
حَدَّثَنِي سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی أَبِي بَرْزَةَ
فَسَأَلَهُ أَبِي کَيْفَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
يُصَلِّي الْمَکْتُوبَةَ قَالَ کَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا
الْأُولَی حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَکَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ حِينَ يَرْجِعُ
أَحَدُنَا إِلَی رَحْلِهِ فِي أَقْصَی الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيتُ
مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ وَکَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَائَ الَّتِي
تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ وَکَانَ يَکْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ
بَعْدَهَا وَکَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ
جَلِيسَهُ وَکَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَی الْمِائَةِ
حضرت ابوبرزہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرے والد نے ان سے دریافت فرمایا کہ
رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرض نمازیں کس طریقہ سے ادا فرمایا کرتے تھے۔
انھوں نے فرمایا کہ نماز ظہر کہ جس کو تم اول نماز کہتے ہو اس وقت ادا فرماتے کہ
جس وقت سورج ڈھل جاتا اور نماز عصر اس وقت ادا فرماتے تھے کہ ہم میں سے کوئی شخص
اپنے گھر پر پہنچ جاتا اور وہ شخص مدینہ منورہ کے کنارہ میں ہوتا نماز عصر ادا کر
کے اور سورج صاف اور اونچائی پر ہوتا تھا اور ابوبرزہ نے نماز مغرب کے متعلق جو
فرمایا وہ میں بھول گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز عشاء میں تاخیر
کرنے کو پسند فرماتے تھے کہ جس کو تم لوگ عتمہ سے تعبیر کرتے ہو اور نماز عشاء سے
قبل سونے کو برا تصور فرماتے تھے اور اسی طریقہ سے نماز عشاء کے فراغت کے بعد
گفتگو کو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز فجر اس وقت ادا فرماتے کہ جس وقت
ہر ایک شخص اپنے دوست کی شناخت کرلیتا (روشنی ہوجاتی) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) اس میں ساٹھ آیات سے لے کر ایک سو آیات کریمہ تک تلاوت فرماتے۔ نسائی
دوست سے حدیث سننے کی خواہش کرنا
أَخْبَرَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی قَالَ
حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ أَتَيْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ
وَکَانَ لِي أَخًا صَدِيقًا فَقُلْتُ يَا أَبَا عَمْرٍو حَدِّثْنِي مَا
حَدَّثَتْکَ بِهِ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَتْ کَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ
وَيُحْيِي آخِرَهُ
ابواسحاق (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ میں اسود بن یزید کے پاس آیا وہ
میرے بھائی اور دوست تھے۔ میں نے کہا اے ابوعمرو مجھے وہ باتیں بتائیں جو ام
المومنین (عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) نے آپ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) کی نماز کے متعلق بیان کی ہیں کہنے لگے ام المومنین نے فرمایا رسول اللہ
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے پہلے حصہ میں آرام فرماتے اور آخری حصہ میں
جاگتے تھے۔ نسائی
میرے دوست کی تین وصیتیں
أَخْبَرَنَا
سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ
عَنْ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي شِمْرٍ عَنْ
أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ النَّوْمِ عَلَی وِتْرٍ وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ
أَيَّامٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ وَرَکْعَتَيْ الضُّحَی
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ مجھے میرے دوست (رسول اللہ (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی (1) وتر پڑھنے کے بعد سونا۔ (2)
ہر ماہ تین روزے رکھنا۔ اور (3) فجر کی دو سنتیں (ضرور) پڑھنا۔ نسائی
آج دوست دوست سے بے خبر ہوجاے گا
أَخْبَرَنَا
أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ
النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَکَّةَ فِي عُمْرَةِ
الْقَضَائِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ
يَقُولُ خَلُّوا بَنِي الْکُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ الْيَوْمَ نَضْرِبْکُمْ عَلَی
تَنْزِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ
خَلِيلِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ
صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَرَمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تَقُولُ
الشِّعْرَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلِّ عَنْهُ
فَلَهُوَ أَسْرَعُ فِيهِمْ مِنْ نَضْحِ النَّبْلِ
انس (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس
وقت قضا عمرہ ادا فرمانے کے واسطے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو حضرت عبداللہ بن روحہ
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے چلتے ہوئے یہ اشعار پڑھ رہے تھے۔ اے مشرکین
کی اولاد ! تم لوگ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راستہ سے ہٹ جاؤ آج ہم
تم کو ان کے حکم سے اس طرح قتل کریں گے جس سے سر گردن سے الگ ہوجائے گا اور دوست
دوست سے بےخبر ہوجائے گا۔ یہ بات سن کر حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا اے
عبداللہ ! آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں حرم شریف میں تم شعر
پڑھ رہے ہو ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عمر ! اس کو چھوڑ دو یہ
اشعار کفار کے دلوں میں تیر سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔نسائی
یا اللہ اپنے دوستوں میں سے دوست عطا فرما
قَالَ قَالَ
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ
اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي
فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ
حسن بن علی رضی
اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کچھ کلمات
سکھائے تاکہ میں انھیں وتر میں پڑھا کروں اللَّهُمَّ اهْدِنِي (اے اللہ ! مجھے
ہدایت دے ان لوگوں کے ساتھ جنہیں تو نے ہدایت دی، مجھے عافیت عطا فرما ان لوگوں کے
ساتھ جن کو تو نے عافیت بخشی، مجھے اپنے دوستوں میں سے ایک دوست بنا۔ترمذی
اپنے دوست پر فی سبیل اللہ خرچ کرنا
عَنْ
ثَوْبَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ
الدِّينَارِ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَی عِيَالِهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ
الرَّجُلُ عَلَی دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ
عَلَی أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
حضرت ثوبان رضی
اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بہترین دینار
وہ ہے جسے کوئی شخص اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا پھرے یا وہ دینار جو جہاد میں
جانے کے اپنی سواری پر یا اپنے دوستوں پر فی سبیل اللہ خرچ کرتا ہے۔ترمذی
دوستوں کے ساتھ بھلائی باپ کے ساتھ ظلم
عَنْ
عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ إِذَا فَعَلَتْ أُمَّتِي خَمْسَ عَشْرَةَ خَصْلَةً حَلَّ بِهَا
الْبَلَائُ فَقِيلَ وَمَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِذَا کَانَ
الْمَغْنَمُ دُوَلًا وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمًا وَالزَّکَاةُ مَغْرَمًا وَأَطَاعَ
الرَّجُلُ زَوْجَتَهُ وَعَقَّ أُمَّهُ وَبَرَّ صَدِيقَهُ وَجَفَا أَبَاهُ
وَارْتَفَعَتْ الْأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ وَکَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ
أَرْذَلَهُمْ وَأُکْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَةَ شَرِّهِ وَشُرِبَتْ الْخُمُورُ
وَلُبِسَ الْحَرِيرُ وَاتُّخِذَتْ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ وَلَعَنَ آخِرُ
هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا فَلْيَرْتَقِبُوا عِنْدَ ذَلِکَ رِيحًا حَمْرَائَ
أَوْ خَسْفًا وَمَسْخًا
حضرت علی بن ابی
طالب (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر
میری امت میں پندرہ خصلتیں آجائیں گی تو ان پر مصیبتیں نازل ہوں گی عرض کیا گیا یا
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کیا ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے
فرمایا جب مال غنیمت ذاتی دولت بن جائے گی امانت کو لوگ مال غنیمت سمجھنے لگیں گے
زکوۃ کو جرمانہ سمجھا جائے گا شوہر بیوی کی اطاعت اور ماں کی نافرمانی کرے گا
دوستوں کے ساتھ بھلائی اور باپ کے ساتھ ظلم و زیادتی کرے گا مسجد میں لوگ زور زور
سے باتیں کریں گے ذلیل قسم کے لوگ حکمران بن جائیں گے کسی شخص کی عزت اس کے شر سے
محفوظ رہنے کے لیے جائے گی شراب پی جائے گی ریشمی کپڑا پہنا جائے گا گانے بجانے
والیاں لڑکیاں اور گانے کا سامان گھروں میں رکھا جائے گا اور امت کے آخری لوگ
پہلوں پر لعن طعن کریں گے پس اس وقت لوگ عذابوں کے منتظر رہیں یا تو سرخ آندھی یا
خسف یا پھر چہرے مسخ ہوجانے والا عذاب۔ترمذی
قابل رشک دوست کون
عَنْ أَبِي
أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ
أَغْبَطَ أَوْلِيَائِي عِنْدِي لَمُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ ذُو حَظٍّ مِنْ الصَّلَاةِ
أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَأَطَاعَهُ فِي السِّرِّ وَكَانَ غَامِضًا فِي
النَّاسِ لَا يُشَارُ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ وَكَانَ رِزْقُهُ كَفَافًا فَصَبَرَ
عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ نَقَرَ بِيَدِهِ فَقَالَ عُجِّلَتْ مَنِيَّتُهُ قَلَّتْ
بَوَاكِيهِ قَلَّ تُرَاثُهُ
حضرت ابوامامہ (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) نے فرمایا میرے دوستوں میں سب سے قابل رشک وہ شخص ہے جو کم مال والا نماز
میں زیادہ حصہ رکھنے والا اور اپنے رب کی اچھی طرح عبادت کرنے والا ہے نیز یہ کہ
جو خلوت میں بھی اپنے رب کی اطاعت کرے لوگوں میں چھپا رہے اور اس کی طرف انگلیوں
سے اشارے نہ کئے جائیں اس کا زرق بقدر کفایت ہو اور وہ اسی پر صبر کرتا ہو پھر نبی
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں ہاتھوں سے چٹکیاں بجائیں اور فرمایا اس کی موت
جلدی آئے اور اس پر رونے والیاں کم ہوں اور ساتھ ہی ساتھ اس کی میراث بھی کم ہو۔ ترمذی۔
آدمی دوست کے دین پر
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ عَلَی دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ
أَحَدُکُمْ مَنْ يُخَالِلُ
حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) نے ارشاد فرمایا آدمی اپنے دوست کے دین پر ہے پس تم میں سے ہر ایک کو دیکھنا
چاہیے کہ وہ کس کو دوست بنا رہا ہے۔ترمذی
ابوجہل کے دوست
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَجَائَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ أَلَمْ أَنْهَکَ عَنْ
هَذَا أَلَمْ أَنْهَکَ عَنْ هَذَا أَلَمْ أَنْهَکَ عَنْ هَذَا فَانْصَرَفَ
النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَبَرَهُ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ
إِنَّکَ لَتَعْلَمُ مَا بِهَا نَادٍ أَکْثَرُ مِنِّي فَأَنْزَلَ اللَّهُ
فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَوَاللَّهِ
لَوْ دَعَا نَادِيَهُ لَأَخَذَتْهُ زَبَانِيَةُ اللَّهِ
حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل آیا اور کہنے لگا کیا میں نے تمہیں اس
سے منع نہیں کیا (تین مرتبہ یہی جملہ دھرایا) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز
سے فارغ ہوئے تو اسے ڈانٹا۔ وہ کہنے لگا تم جانتے ہو کہ مجھ سے زیادہ کسی کے ہم
نشین نہیں ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں (فَلْيَدْعُ نَادِيَه 17 سَ نَدْعُ
الزَّبَانِيَةَ 18) 96 ۔ العلق : 17 ۔ 18) (پس وہ اپنی مجلس
والوں کو بلالے ہم بھی موکلین دوزخ کو بلائیں گے) ۔ حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ)
فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم اگر وہ اپنے دوستوں کو بلا لیتا تو اللہ کے فرشتے اسے
پکڑ لیتے۔ترمذی
اللہ کا دوست
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْرَأُ إِلَی کُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خِلِّهِ وَلَوْ
کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا وَإِنَّ
صَاحِبَکُمْ خَلِيلُ اللَّهِ
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) نے فرمایا کہ میں ہر دوست کی دوستی سے بری ہوں۔ اگر میں کسی کو دوست بناتا
ہوں تو ابن ابی قحافہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) کو دوست بناتا لیکن تمہارا صاحب(نبی
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا) اللہ دوست
ہے۔ترمذی
اللہ سے اچھا دوست مانگنا
حَدَّثَنَا
عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ
حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ حُرَيْثِ
بْنِ قَبِيصَةَ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي
جَلِيسًا صَالِحًا قَالَ فَجَلَسْتُ إِلَی أَبِي هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ إِنِّي
سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِي جَلِيسًا صَالِحًا فَحَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ
سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّ
اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ
الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ صَلَاتُهُ فَإِنْ صَلُحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ
وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ فَإِنْ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ شَيْئٌ
قَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ
فَيُکَمَّلَ بِهَا مَا انْتَقَصَ مِنْ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ يَکُونُ سَائِرُ
عَمَلِهِ عَلَی ذَلِکَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ أَبُو
عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ وَقَدْ رَوَی بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَسَنِ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ
قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ وَالْمَشْهُورُ هُوَ قَبِيصَةُ
بْنُ حُرَيْثٍ وَرُوِي عَنْ أَنَسِ بْنِ حَکِيمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ
النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا
حریث بن قبیصہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو میں نے دعا مانگی اے اللہ
مجھے نیک ہمنشین عطاء فرما۔ فرماتے ہیں پھر میں ابوہریرہ (رض رضی اللہ عنہ) کے
ساتھ بیٹھ گیا اور ان سے کہا میں نے اللہ تعالیٰ سے اچھے ہم نشین کا سوال کیا تھا
لہٰذا مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث سنائیے جو آپ نے سنی
ہیں شاید اللہ تعالیٰ مجھے اس سے نفع پہنچائے ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا
میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) نے فرمایا کہ قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے جس عمل کا حساب ہوگا وہ نماز
ہے اگر یہ صحیح ہوئی تو کامیاب ہوگیا اور نجات پالی اور اگر یہ صحیح نہ ہوئی تو یہ
بھی نقصان اور گھاٹے میں رہا اگر فرائض میں کچھ نقص ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا
کہ اس کے نوافل کو دیکھو اگر ہوں تو ان سے اس کمی کو پورا کردو پھر اس کا ہر عمل
اسی طرح ہوگا
جس کا کوئی ولی نہ ہو
حَدَّثَنَا
بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَکِيمِ بْنِ حَکِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ
حُنَيْفٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ کَتَبَ عُمَرُ
بْنُ الْخَطَّابِ إِلَی أَبِي عُبَيْدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَی مَنْ لَا مَوْلَی لَهُ
وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ
عَائِشَةَ وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي کَرِبَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے
میری وساطت سے حضرت ابوعبیدہ کو لکھا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے
فرمایا جس شخص کا کوئی ولی نہ ہو۔ اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
اس کے ولی ہیں اور جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا ماموں اس کا وارث ہے۔ترمذی
خواب عقلمند کو سناؤ یا اپنے دوست کو
حَدَّثَنَا
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ
قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَی بْنُ عَطَائٍ قَال سَمِعْتُ وَکِيعَ بْنَ عُدُسٍ عَنْ
أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْئٌ مِنْ أَرْبَعِينَ جُزْئًا مِنْ
النُّبُوَّةِ وَهِيَ عَلَی رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يَتَحَدَّثْ بِهَا فَإِذَا
تَحَدَّثَ بِهَا سَقَطَتْ قَالَ وَأَحْسَبُهُ قَالَ وَلَا يُحَدِّثُ بِهَا إِلَّا
لَبِيبًا أَوْ حَبِيبًا
حضرت ابوزین عقیلی (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن کا خواب نبوت کے چالیس اجزا میں سے ایک جز ہے اور یہ
کسی شخص کے لیے اس وقت تک پرندے کے مانند ہے جب تک وہ اسے کسی کے سامنے بیان نہ
کرے اگر اس نے بیان کردیا تو گویا کہ وہ اڑ گیا راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا کہ اپنا خواب کسی عقلمند یا دوست
کے سامنے ہی بیان کرو۔ترمذی
دوست سے ملنے کا طریقہ
حَدَّثَنَا
سُوَيْدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ عُبَيْدِ
اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ
الرَّجُلُ مِنَّا يَلْقَی أَخَاهُ أَوْ صَدِيقَهُ أَيَنْحَنِي لَهُ قَالَ لَا
قَالَ أَفَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ قَالَ لَا قَالَ أَفَيَأْخُذُ بِيَدِهِ
وَيُصَافِحُهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ
حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر ہم میں سے کوئی اپنے کسی بھائی یا دوست
کو ملے تو کیا اس کے لیے جھکے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں۔ عرض
کیا تو کیا اس سے گلے مل کر اس کا بوسہ لے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے
فرمایا نہیں۔ اس نے پوچھا کیا اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے۔ آپ (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں۔ترمذی
انبیاء کے دوست
حَدَّثَنَا
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ
أَبِيهِ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِکُلِّ نَبِيٍّ وُلَاةً
مِنْ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ وَلِيِّي أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ
أَوْلَی النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ
حضرت عبداللہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) نے فرمایا ہر نبی کے نبیوں میں سے دوست ہوتے ہیں۔ میرے دوست میرے والد اور
میرے رب کے دوست (ابراہیم علیہ السلام) ہیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے
یہ آیت پڑھی (اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِيْمَ لَلَّذِيْنَ
اتَّبَعُوْهُ وَھٰذَا النَّبِىُّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاللّٰهُ وَلِيُّ
الْمُؤْمِنِيْنَ ) 3 ۔ آل عمران : 68) ۔
(ترجمہ۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی تابعداری
کی اور یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جو اس پر ایمان لائے اور اللہ مومنوں
کے دوست ہیں)۔ترمذی
دوست کو جہنم کا آگ کا طوق پہنانا
حَدَّثَنَا
أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ عَنْ نَافِعِ
بْنِ عَيَّاشٍ مَوْلَى عَقِيلَةَ بِنْتِ طَلْقٍ الْغِفَارِيِّ عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ
أَنْ يُطَوِّقَ حَبِيبَهُ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَلْيُطَوِّقْهُ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ
وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ فَلْيُسَوِّرْهُ
بِسِوَارٍ مِنْ ذَهَبٍ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَهُ حَلْقَةً مِنْ
نَارٍ فَلْيُحَلِّقْهُ حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِالْفِضَّةِ
الْعَبُوا بِهَا لَعِبًا الْعَبُوا بِهَا لَعِبًا
حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) نے فرمایا جو شخص اپنے کسی دوست کو جہنم کی آگ کا طوق پہنانا چاہیے اسے سونے
کا ہار پہنا دے اور جو اسے آگ کے کنگن پہنانا چاہے وہ اسے سونے کے کنگن پہنا دے
اور جو اسے آگ کا چھلا پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا چھلا پہنا دے البتہ چاندی
استعمال کرلیا کرو اور اس کے ذریعے ہی دل بہلا لیا کرو (یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا)۔مسند
احمد
لعنت کرنے والا دوست
حَدَّثَنَا
مَنْصُورٌ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ
أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قَالَ لَا يَنْبَغِي لِلصَّدِيقِ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا
حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) نے فرمایا صدیق یا دوست کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ لعنت کرنے والا ہو۔ مسند
احمد
دوست کو ہنسانے کے لیے مرتبے سے گر پڑنا
حَدَّثَنَا
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الزُّبَيْرُ
بْنُ سَعِيدٍ فَذَكَرَ حَدِيثًا عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ وَحَدَّثَ
صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ أَيْضًا عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ
لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يُضْحِكُ بِهَا جُلَسَاءَهُ يَهْوِي بِهَا مِنْ
أَبْعَدِ مِنْ الثُّرَيَّا
حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ جناب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) نے ارشاد فرمایا بعض اوقات آدمی اپنے دوستوں کو ہنسانے کے لیے کوئی بات کرتا
ہے لیکن اس کے نتیجے میں ثریا ستارے سے بھی دور کے فاصلے سے گرپڑتا ہے۔ مسند احمد
اللہ اپنے دوست کو آگ میں نہ گراے گا
حَدَّثَنَا
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَصَبِيٌّ فِي الطَّرِيقِ
فَلَمَّا رَأَتْ أُمُّهُ الْقَوْمَ خَشِيَتْ عَلَى وَلَدِهَا أَنْ يُوطَأَ
فَأَقْبَلَتْ تَسْعَى وَتَقُولُ ابْنِي ابْنِي وَسَعَتْ فَأَخَذَتْهُ فَقَالَ
الْقَوْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُلْقِيَ ابْنَهَا فِي
النَّارِ قَالَ فَخَفَّضَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
فَقَالَ وَلَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُلْقِي حَبِيبَهُ فِي النَّارِ
حضرت انس (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) اپنے چند صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے ساتھ کہیں جا رہے تھے، راستے
میں ایک بچہ پڑا ہوا تھا، اس کی ماں نے جب لوگوں کو دیکھا تو اسے خطرہ ہوا کہ کہیں
بچہ لوگوں کے پاؤں میں روندا نہ جائے، چنانچہ وہ دوڑتی ہوئی " میرا بیٹا میرا
بیٹا " پکارتی ہوئی آئی اور اسے اٹھالیا، لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ عورت اپنے بیٹے کو کبھی آگ میں نہیں ڈال سکتی، نبی (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں خاموش کروا دیا اور فرمایا اللہ بھی اپنے دوست کو
آگ میں نہیں ڈالے گا۔ مسند احمد
بد ترین بندے کون
حَدَّثَنَا
سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي الْحُسَيْنِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ
الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ خِيَارُ عِبَادِ اللَّهِ الَّذِينَ إِذَا رُءُوا ذُكِرَ اللَّهُ
وَشِرَارُ عِبَادِ اللَّهِ الْمَشَّاءُونَ بِالنَّمِيمَةِ الْمُفَرِّقُونَ بَيْنَ
الْأَحِبَّةِ الْبَاغُونَ الْبُرَآءَ الْعَنَتَ
حضرت عبدالرحمن بن غنم (رضی اللہ عنہ) سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ کے
بہترین بندے وہ لوگ ہوتے ہیں کہ انھیں دیکھ کر اللہ یاد آجائے اور اللہ کے بدترین
بندے وہ ہوتے ہیں جو چغل خوری کرتے ہیں، دوستوں کے درمیان تفریق پیدا کرتے ہیں،
باغی، بیزار اور متعنت ہوتے ہیں۔مسند احمد
قیامت کے دن دوست کا دوست کو یاد رکھنا
حَدَّثَنَا
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ
أَبِي عِمْرَانَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ
يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَذْكُرُ الْحَبِيبُ حَبِيبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قَالَ يَا عَائِشَةُ أَمَّا عِنْدَ ثَلَاثٍ فَلَا أَمَّا عِنْدَ الْمِيزَانِ
حَتَّى يَثْقُلَ أَوْ يَخِفَّ فَلَا وَأَمَّا عِنْدَ تَطَايُرِ الْكُتُبِ فَإِمَّا
أَنْ يُعْطَى بِيَمِينِهِ أَوْ يُعْطَى بِشِمَالِهِ فَلَا وَحِينَ يَخْرُجُ عُنُقٌ
مِنْ النَّارِ فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ وَيَتَغَيَّظُ عَلَيْهِمْ وَيَقُولُ ذَلِكَ
الْعُنُقُ وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ وُكِّلْتُ بِمَنْ ادَّعَى
مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَوُكِّلْتُ بِمَنْ لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ
وَوُكِّلْتُ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ قَالَ فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ وَيَرْمِي
بِهِمْ فِي غَمَرَاتٍ وَلِجَهَنَّمَ جِسْرٌ أَدَقُّ مِنْ الشَّعْرِ وَأَحَدُّ مِنْ
السَّيْفِ عَلَيْهِ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ يَأْخُذُونَ مَنْ شَاءَ اللَّهُ
وَالنَّاسُ عَلَيْهِ كَالطَّرْفِ وَكَالْبَرْقِ وَكَالرِّيحِ وَكَأَجَاوِيدِ
الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ وَالْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ رَبِّ سَلِّمْ رَبِّ سَلِّمْ
فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَخْدُوشٌ مُسَلَّمٌ وَمُكَوَّرٌ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں
عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا قیامت کے دن کوئی دوست اپنے دوست کو یاد رکھے گا ؟ نبی
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عائشہ رضی اللہ عنہا! تین جگہوں پر تو بالکل نہیں، ایک
تو میزان عمل کے پاس، جب تک کہ اس کے اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری یا ہلکا نہ ہوجائے
دوسرے اس وقت جب ہر ایک کا نامہ اعمال دیا جائے گا کہ وہ دائیں ہاتھ میں آتا ہے یا
بائیں ہاتھ میں اور تیسرے اس وقت جب جہنم سے ایک گردن باہر نکلے گی، وہ غیظ و غضب
سے ان پر الٹ پڑے گی اور تین مرتبہ کہے گی کہ مجھے تین قسم کے لوگوں پر مسلط کیا
گیا ہے، مجھے مسلط کیا گیا ہے اس شخص پر جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبود ٹھہراتا رہا
ہے، مجھے مسلط کیا گیا ہے اس شخص پر جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور
مجھے ہر ظالم سرکش پر مسلط کیا گیا ہے، پھر وہ انھیں لپیٹے گی اور جہنم کی تاریکیوں
میں پھینک دے گی۔ اور جہنم پر ایک پل ہوگا جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی
دھار سے زیادہ تیز ہوگا، اس پر کانٹے اور آنکڑے ہوں گے جو ہر اس شخص کو پکڑ لیں گے
جسے اللہ چاہے گا، پھر کچھ لوگ اس پر پلک جھپکنے کی مقدار میں، کچھ بجلی کی طرح،
کچھ ہوا کی طرح اور کچھ تیز رفتار گھوڑوں کی طرح اور کچھ دوسرے سواروں کی طرح سے
گذر جائیں گے اور فرشتے یہ کہتے ہوں گے کہ پروردگار ! بچانا، بچانا، اسی طرح کچھ
لوگ صحیح سلامت بچ جائیں گے، کچھ زخمی ہو کر بچ جائیں گے اور کچھ چہروں کے بل جہنم
میں گرپڑیں گے۔ مسند احمد
فاجر کی دوستی مت اختیار کرو
أَخْبَرَنَا
مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ وَهُوَ يُوصِي رَجُلا:
" لا تَعْتَرِضْ فِيمَا لا يَعْنِيكَ، وَاعْتَزِلْ عَدُوَّكَ، وَاحْذَرْ
خَلِيلَكَ إِلا الأَمِينَ، وَلا أَمِينَ إِلا مَنْ خَشِيَ اللَّهَ، وَلا تَصْحَبْ
فَاجِرًا كَيْ تَتَعَلَّمَ مِنْ فُجُورِهِ، وَلا تُفْشِ إِلَيْهِ سِرَّكَ،
وَاسْتَشِرْ فِي أَمْرِكَ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
امام مالک رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ
ہمیں ایک بیان کرنے والے نے بیان کیا کہ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) ایک شخص کو وصیت
فرما رہے تھے۔ کہ اس کام سے لگاؤ نہ رکھو
جس میں تمہارا کوئی مقصد نہ ہو۔ اپنے دشمن سے دور رہو۔ اپنے دوست سے ڈرو ! مگر یہ
کہ وہ امین ہو اور امین صرف وہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ اور فاجر کی دوستی
مت اختیار کرو ورنہ تم اس کی بدکاری کی باتیں سیکھ لوگے۔ اور اسے اپنا رزامت دو
اور اپنے معاملہ میں ان لوگوں سے مشورہ کرو جو اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوں۔ مؤطا
امام محمد
دوست کی عیادت
حَدَّثَنَا
عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ
بْنِ مَوْہَبٍ ، قَالَ انْطَلَقْت مَعَ سَلْمَانَ إلَی صَدِیقٍ لَہُ یَعُودُہُ
مِنْ کِنْدَۃَ ، فَقَالَ : إنَّ الْمُؤْمِنَ یُصِیبُہُ اللَّہُ بِالْبَلاَئِ ،
ثُمَّ یُعَافِیہِ فَیَکُونُ کَفَّارَۃً لِسَیِّئَاتِہِ وَیُسْتَعْتَبُ فِیمَا
بَقِیَ وَإِنَّ الْفَاجِرَ یُصِیبُہُ اللَّہُ بِالْبَلاَئِ ، ثُمَّ یُعَافِیہِ
فَیَکُونُ کَالْبَعِیرِ عَقَلَہُ أَہْلُہُ لاَ یَدْرِی لِمَ عَقَلُوہُ ، ثُمَّ
أَرْسَلُوہُ فَلاَ یَدْرِی لِمَ أَرْسَلُوہُ۔
حضرت سعید بن موھب فرماتے ہیں کہ میں حضرت سلمان کے ساتھ ان کے دوست کی
عیادت کے لیے کندہ سے چلا، آپ نے فرمایا مسلمان کو جب کوئی تکلیف اللہ پہنچاتا ہے
پھر اس کو دور کرتا ہے تو وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے، اور راضی کردیا
جاتا ہے جو کچھ باقی ہے اس میں۔ اور گناہ گار اور فاجر کو جب اللہ تعالیٰ کوئی
تکلیف پہنچاتا ہے۔ پھر اس کو عافیت دیتا ہے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہوجاتا ہے جس کا
مالک اس کی ران اور کلائی کو باندھ دے تاکہ وہ چل نہ سکے اس کو نہیں پتا کہ اس کو
کیوں باندھا گیا ہے اور پھر اس کو چھوڑ دیا جائے تو اس کو نہیں معلوم کہ کیوں
چھوڑا گیا ہے۔ ابن ابی شیبہ
جنازے کی اطلاع دوستوں کو کرنا
حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّہُ
کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یُؤْذِنَ الرَّجُلُ حَمِیمَہُ وَصَدِیقَہُ
بِالْجِنَازَۃِ۔
حضرت ابن عون فرماتے ہیں حضرت محمد اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ
آدمی جنازے کی اطلاع رشتہ داروں اور دوستوں کو کر دے۔ ابن ابی شیبہ
دوست کی عیادت کرنا
حدَّثَنَا
أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ،
أَنَّہُ دَخَلَ عَلَی صَدِیقٍ لَہُ مِنَ النَّخَعِ یَعُودُہُ ، فَمَسَحَ
جَبِینَہُ فَوَجَدَہُ یَرْشَحُ فَضَحِکَ ، فَقَالَ لَہُ بَعْضُ الْقَوْمِ : مَا
یَضْحَکُک یَا أَبَا شِبْلٍ ؟ قَالَ : ضَحِکْت مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللہِ : إنَّ
نَفْسَ الْمُؤْمِنِ تَخْرُجُ رَشْحًا ، وَإِنَّہُ یَکُونُ قَدْ عَمِلَ
السَّیِّئَۃَ فَیُشَدَّدُ عَلَیْہِ عِنْدَ الْمَوْتِ لِیَکُونَ بِہَا ، وَإِنَّ
نَفْسَ الْکَافِرِ أوِ الْفَاجِرِ لَتَخْرُجُ مِنْ شِدْقِہِ کَمَا یَخْرُجُ
نَفْسُ الْحِمَارِ ، وَإِنَّہُ یَکُونُ قَدْ عَمِلَ الْحَسَنَۃَ فَیُہَوَّنُ
عَلَیْہِ عِنْدَ الْمَوْتِ لِیَکُونَ بِہَا۔
علقمہ اپنے ایک دوست کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے جس کو (بلغم کی) بیماری
تھی، آپ نے اس کی پیشانی کو چھوا تو پسینہ نکل رہا تھا آپ یہ دیکھ کر ہنس پڑے،
لوگوں میں سے بعض نے عرض کیا اے ابو شبل ! آپ کو کس چیز نے ہنسایا۔ فرمایا : مجھ
کو عبداللہ کی بات پر ہنسی آگئی کہ مؤمن کو (جان کنی کے وقت) پسینہ نکلتا ہے تو اس
کے کچھ برے عمل ہوتے ہیں تو ان کی وجہ سے اس پر موت کے وقت کچھ سختی ہوتی ہے تاکہ
ان برائیوں کا کفارہ بن جائے، اور کافر وفاجر کی روح گدھے کے سانس کی طرح نکلتی
ہے، کیونکہ اس کے بھی کچھ اچھے اعمال ہوتے ہیں تو موت کے وقت اس پر آسانی ہوتی ہے
تاکہ یہ آسانی ان نیکیوں کا بدلہ ہوجائیں۔ ابن ابی شیبہ
دو دوستوں کا حکمت انگیز فیصلہ
حَدَّثَنَا
جَرِیرٌ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ : اسْتَوْدَعَ
رَجُلاَنِ امْرَأَۃً وَدِیعَۃً وَقَالاَ لَہَا : لاَ تَدْفَعِیہَا إِلَی وَاحِدٍ
مِنَّا حَتَّی نَجْتَمِعَ عِنْدَکَ ، ثُمَّ انْطَلَقَا فَغَابَا ، فَجَائَ
أَحَدُہُمَا إلَیْہَا فَقَالَ : أَعْطِینِی وَدِیعَتِی فَإِنَّ صَاحِبِی قَدْ
مَاتَ ، فَأَبَتْ حَتَّی کَثُرَ اخْتِلاَفُہُ إلَیْہَا ، ثُمَّ أَعْطَتْہُ ،
ثُمَّ جَائَ الآخَرُ بَعْدُ فَقَالَ : ہَاتِی وَدِیعَتِی ، فَقَالَتْ : قَدْ جَائَ
صَاحِبُک فَذَکَرَ أَنَّک قَدْ مِتَّ ، فَأَخَذَ وَدِیعَتَکُمَا مِنِّی ،
فَارْتَفَعَا إلَی عُمَرَ ، فَلَمَّا قَصَّا عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ ، قَالَ لَہَا
عُمَرُ : مَا أَرَاک إلاَّ قَدْ ضَمِنْت ، قالَتِ الْمَرْأَۃُ : یَا أَمِیرَ
الْمُؤْمِنِینَ ، اجْعَلْ عَلِیًّا بَیْنِی وَبَیْنَہُ ، قَالَ لِعَلِیٍّ : اقْضِ
بَیْنَہُمَا یَا عَلِیُّ ، قَالَ عَلِیٌّ : ہَذِہِ الْوَدِیعَۃُ عِنْدِی ، وَقَدْ
أَمَرْتُماہَا أَلاَّ تَدْفَعَ إلَی وَاحِدٍ مِنْکُمَا حَتَّی تَجْتَمِعَا
عِنْدَہَا ، فَأْتِنِی بِصَاحِبِکَ ، فَلَمْ یُضَمِّنْہَا ، قَالَ : فَرَأَوْا
أَنَّہُمَا إنَّمَا أَرَادَا أَنْ یَذْہَبَا بِمَالِ الْمَرْأَۃِ۔
حضرت زاذان سے مروی ہے کہ دو شخصوں نے ایک خاتون کے پاس امانت رکھوانا چاہی
اور ان دونوں نے اس سے کہا کہ ہم میں سے کسی کو یہ مت دینا مگر جب ہم دونوں ایک
ساتھ آجائیں ، پھر وہ دونوں چلے گئے اور کہیں غائب ہوگئے، پھر کچھ عرصہ بعد ان میں
سے ایک آیا اور خاتون سے کہا کہ میری امانت میرے حوالے کرو میرا دوست فوت ہوچکا
ہے، اس خاتون نے انکار کیا یہاں تک کہ ان کا اختلاف بہت زیادہ ہوگیا، پھر خاتون نے
اس کے حوالہ کردیا، پھر کچھ عرصہ بعد دوسرا آیا اور کہا کہ میری امانت میرے حوالہ
کرو ، خاتون نے کہا کہ تیرا دوست آیا تھا اور کہہ رہا تھا کہ میرا دوست فوت ہوگیا
ہے اور وہ تمہاری امانت مجھ سے لے گیا ہے، وہ دونوں جھگڑا حضرت عمر (رض) کی خدمت
میں لے گئے، جب حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کو مکمل واقعہ سنایا تو حضرت عمر (رضی
اللہ عنہ) نے اس خاتون سے فرمایا : میرا نہیں خیال مگر یہ کہ تو ضامن ہے۔ خاتون نے
عرض کیا اے امیر المؤمنین ! حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کو ہمارے درمیان حَکَم
بنادیں۔ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے حضرت علی سے فرمایا : ان کے درمیان فیصلہ کرو،
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، یہ امانت میرے پاس ہے، اور تم نے اس عورت کو یہ
حکم بھی دیا تھا کہ ہم میں سے کسی کو یہ ودیعت نہیں دینی، جب تک کہ دونوں اکٹھے
حاضر نہ ہوجائیں۔ لہٰذا پہلے تو اتنا دوسرا ساتھی لے کر آ۔ آپ نے خاتون کو ضامن
نہیں بنایا، راوی فرماتے ہیں کہ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ دونوں اس خاتون کا مال لے
جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ ابن ابی شیبہ
لوگوں
کا اعتبار اور دوست
حَدَّثَنَا
وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عن أبی إسحاق، عَنْ مُرَّۃَ، أَوْ ہُبَیْرَۃَ، قَالَ:
قَالَ عَبْدُ اللہِ: اعْتَبِرُوا النَّاسَ بِأخْدانِہِمْ۔
حضرت مرہ یا حضرت ابن ھبیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ
عنہ نے ارشاد فرمایا : لوگوں کے دوستوں کے ذریعے ان کا اعتبار کرو۔ ابن ابی شیبہ
اللہ کے دوست پریشان حال کیوں
حَدَّثَنَا
عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی
الْہُذَیْلِ ؛ أَنَّ مُوسَی ، أَوْ غَیْرَہُ مِنَ الأَنْبِیَائِ ، قَالَ : یَا
رَبِ ، کَیْفَ یَکُونُ ہَذَا مِنْک ؟ أَوْلِیَاؤُک فِی الأَرْضِ خَائِفُونَ
یُقْتَلُونَ ، وَیُطْلبُونَ وَیُقَّطَّعُون ، وَأَعْدَاؤُک یَأْکُلُونَ مَا
شَاؤُوا ، وَیَشْرَبُونَ مَا شَاؤُوا ، وَنَحْوَ ہَذَا ، فَقَالَ : انْطَلِقُوا
بِعَبْدِی إِلَی الْجَنَّۃِ ، فَیَنْظُرُ مَا لَمْ یَرَ مِثْلَہُ قَطُّ ، إِلَی
أَکْوَابٍ مَوْضُوعَۃٍ ، وَنَمَارِقَ مَصْفُوفَۃٍ وَزَرَابِیِّ مَبْثُوثَۃٍ ،
وَإِلَی الْحُورِ الْعِینِ ، وَإِلَی الثِّمَارِ ، وَإِلَی الْخَدَمِ کَأَنَّہُمْ
لُؤْلُؤٌ مَکْنُونٌ ، فَقَالَ : مَا ضَرَّ أَوْلِیَائِی مَا أَصَابَہُمْ فِی
الدُّنْیَا إِذَا کَانَ مَصِیرُہُمْ إِلَی ہَذَا ؟ ثُمَّ قَالَ : انْطَلِقُوا
بِعَبْدِی ، فَانْطَلِقْ بِہِ إِلَی النَّارِ ، فَیَخْرُجُ مِنْہَا عُنُقٌ
فَصُعِقَ الْعَبْدُ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : مَا نَفَعَ أَعْدَائِی مَا
أَعْطَیْتُہُمْ فِی الدُّنْیَا إِذَا کَانَ مَصِیرُہُمْ إِلَی ہَذَا ؟ قَالَ :
لاَ شَیْئَ۔
حضرت عبداللہ (رضی اللہ عنہ) بن ابو الھذیل سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ
السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا اے اللہ ! یہ معاملہ آپ کی طرف سے کیسا عجیب
ہوتا ہے ؟ آپ کے دوست (نیک لوگ) دنیا میں خوفزدہ رہتے ہیں ان کو قتل کیا جاتا ہے،
ان کو پکڑا جاتا ہے پھر ان کے ٹکڑے کیے جاتے ہیں اور آپ کے دشمن جو چاہتے ہیں
کھاتے ہیں اور جو چاہتے ہیں پیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : میرے بندے کو
جنت کی سیر کر واؤ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وہاں وہ نعمتیں دیکھیں جو اس سے
پہلے نہ دیکھی تھیں، رکھے ہوئے پیالے، سیدھے رکھے ہوئے تکیے اور بکھرے ہوئے کپڑے،
اور حورعین اور مختلف پھل اور خدام جیسے کہ وہ چھپے ہوئے موتی ہوں ان سب کی سیر
کروائی گئی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : جب میرے دوستوں کا ٹھکانا یہ ہو تو دنیا
میں جو بھی تکالیف انھیں پہنچے ان کو نقصان ہے ؟ پھر ارشاد فرمایا : میرے بندے کو
جہنم کی سیر کر واؤ، چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جہنم لے جایا گیا، اس میں
ایک جماعت دیکھی، ان کو دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہوگئے، پھر آپ کو
کچھ افاقہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب میرے دشمنوں کا ٹھکانا یہ ہو تو پھر
دنیا میں ان کو جو بھی نعمتیں ملیں ان کو فائدہ ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے
ارشاد فرمایا کچھ بھی نہیں۔ ابن ابی شیبہ
موت کا فرشتہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام
کا دوست
حَدَّثَنَا
عَبْدُاللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، قَالَ: أَتَی
مَلَکُ الْمَوْتِ سُلَیْمَانَ بْنَ دَاوُد ، وَکَانَ لَہُ صَدِیقًا ، فَقَالَ لَہُ
سُلَیْمَانُ : مَا لَک تَأْتِی أَہْلَ الْبَیْتِ فَتَقْبِضُہُمْ جَمِیعًا
وَتَدَعُ أَہْلَ الْبَیْتِ إِلَی جَنْبِہِمْ لاَ تَقْبِضُ مِنْہُمْ أَحَدًا ،
قَالَ : مَا أَعْلَمُ بِمَا أَقْبِضُ مِنْہَا ، إنَّمَا أَکُونُ تَحْتَ
الْعَرْشِ فَتُلْقَی إلَیَّ صِکَاکٌ فِیہَا أَسْمَائٌ۔
حضرت خیثمہ کہتے ہیں : حضرت سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) کے پاس موت کا
فرشتہ حاضر ہوا ، اور آپ (علیہ السلام) کا اس سے دوستی کا تعلق تھا۔ تو آپ نے اس
سے فرمایا : تم عجیب ہو ! ایک گھر میں آتے ہو اور تمام اہل خانہ کی ارواح قبض
کرلیتے ہو، جبکہ ان کے پہلو (میں موجود گھر) کے اہل خانہ کو (زندہ سلامت) چھوڑ
دیتے ہو، ان میں سے ایک کی بھی روح قبض نہیں کرتے (یہ کیا ماجرا ہے) ؟ موت کے
فرشتہ نے (جواب میں) عرض کیا : مجھے کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ مجھے کس کی روح قبض کرنی
ہے۔ میں تو عرش کے نیچے (دست بستہ) ہوتا ہوں، تو ایک پرچی میری جانب گرادی جاتی ہے
، اس میں (ان لوگوں کے) نام درج ہوتے ہیں (جن کی مجھے روح قبض کرنا ہوتی ہے) ۔ ابن
ابی شیبہ
یا اللہ ایسے دوست عطا فرما
حَدَّثَنَا
عَفَّانُ، قَالَ: حدَّثَنَا الْمُبَارَکُ ، عَنِ الْحَسَنِ، أن دَاوُدَ
النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اللَّہُمَّ إنِّی
أَسْأَلُک مِنَ الإِخْوَانَ وَالأَصْحَابَ وَالْجِیرَانَ وَالْجُلَسَائَ مَنْ
إنْ نَسِیت ذَکَّرُونِی، وَإِنْ ذَکَرْت أَعَانُونِی، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ
الأَصْحَابِ وَالإِخْوَانِ وَالْجِیرَانِ وَالْجُلَسَائِ مَنْ إنْ نَسِیت لَمْ
یُذَکِّرُونِی، وَإِنْ ذَکَرْت لَمْ یُعِینُونِی۔
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ داؤد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے
اللہ تعالیٰ ! آپ مجھے ایسے بھائی ، دوست، پڑوسی اور ہم نشین عطا فرما دیجئے کہ
اگر میں بھول جاوں تو وہ مجھے یاد کروادے، اور یاددہانی میں (نیکی کے کاموں میں)
میری معاونت کریں۔ اور مجھے ایسے بھائیوں، دوستوں، پڑوسیوں اور ہم نشینوں سے اپنی
پناہ میں لے لیجئے جو بھولنے پر یاد نہ کروائیں، اور یاد آنے پر میری معاونت نہ
کریں۔۔ ابن ابی شیبہ
میرے دوست نے مجھے سات باتوں کی وصیت کی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا
إسْمَاعِیلُ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : وَرُبَّمَا قَالَ : قَالَ أَصْحَابُنَا ،
عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : أَوْصَانِی خَلِیلِی بِسَبْعٍ : حُبِّ الْمَسَاکِینِ
، وَأَنْ أَدْنُوَ مِنْہُمْ ، وَأَنْ أَنْظُرَ إِلَی مَنْ أَسْفَلَ مِنِّی ،
وَلاَ أَنْظُرَ إِلَی مَنْ فَوْقِی ، وَأَنْ أَصِلَ رَحِمِی وَإِنْ جَفَانِی ،
وَأَنْ أُکْثِرَ مِنْ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ ، وَأَنْ
أَتَکَلَّمَ بِمُرِّ الْحَقِّ وأن لاَ تَأْخُذُنِی فِی اللہِ لَوْمَۃُ لاَئِمٍ
، وَأَن لاَ أَسْأَلَ النَّاسَ شَیْئًا۔
حضرت ابوذر (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے دوست نے مجھے
سات باتوں کی وصیت کی۔ مساکین سے محبت کرنے اور مجھے ان کے قریب ہونے کی وصیت کی۔
اور یہ بات کہ میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھوں اور اپنے سے اوپر والے کو نہ دیکھوں
اور یہ کہ میں رشتہ داروں سے صلہ رحمی کروں اگرچہ وہ میرے ساتھ جفا کریں اور یہ کہ
میں لا حول ولا قوۃ الا باللہ کثرت سے پڑھوں اور یہ کہ میں کڑوا سچ بھی کہہ دوں
اور یہ کہ اللہ کے معاملہ میں مجھے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ ہو
اور یہ کہ میں لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کروں۔ ابن ابی شیبہ
مردے سچے دوست
حَدَّثَنَا
أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ
بْنِ عَلِیٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبِی ، قَالَ : قِیلَ لِعَلِیٍّ : مَا
شَأْنُک یَا أَبَا حَسَنٍ جَاوَرْت الْمَقْبَرَۃَ ، قَالَ : إنِّی أَجِدُہُمْ
جِیرَانَ صِدْقٍ ، یَکُفُّونَ السَّیِّئَۃَ وَیُذَکِّرُونَ الآخِرَۃَ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اے ابوالحسن ! کیا بات ہے کہ آپ
قبرستان والوں کی مجاورت کرتے ہو ؟ آپ (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : میں نے انھیں سچا
دوست پایا ہے۔ یہ برائی سے روکتے اور آخرت یاد دلاتے ہیں۔ ابن ابی شیبہ
آدمی کے تین دوست
حَدَّثَنَا
أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ ، قَالَ
سَمِعْتہ یَقُولُ : مَثَلُ ابْنِ آدَمَ وَمَثَلُ الْمَوْتِ مَثَلُ رَجُلٍ کَانَ
لَہُ ثَلاَثَۃُ أَخِلاَئٍ ، فَقَالَ لأَحَدِہِمْ : مَا عِنْدَکَ ، فَقَالَ :
عِنْدِی مَالُک فَخُذْ مِنْہُ مَا شِئْت ، وَمَا لَمْ تَأْخُذْ فَلَیْسَ لَک ،
ثُمَّ قَالَ لِلآخَرِ : مَا عِنْدَکَ ، قَالَ : أَقُومُ عَلَیْک فَإِذَا مِتّ
دَفَنْتُک وَخَلَّیْتُک ، ثُمَّ قَالَ لِلثَّالِثِ : مَا عِنْدَکَ ، فَقَالَ :
أَنَا مَعَک حَیْثُمَا کُنْت ، قَالَ : فَأَمَّا الأَوَّلُ فَمَالُہُ ، مَا
أَخَذَ فَلَہُ ، وَمَا لَمْ یَأْخُذْ فَلَیْسَ لَہُ ، وَأَمَّا الثَّانِی
فَعَشِیرَتُہُ ، إذَا مَاتَ قَامُوا عَلَیْہِ ، ثُمَّ خَلَّوْہُ ، وَأَمَّا
الثَّالِثُ : فَعَمَلُہُ حَیْثُمَا کَانَ ؛ کَانَ مَعَہُ وَحَیْثُمَا دَخَلَ دَخَلَ
مَعَہُ۔
حضرت سماک، حضرت نعمان بن بشیر کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں
نے انھیں کہتے سنا۔ ابن آدم اور موت کی مثال یہ ہے جیسے ایک آدمی کے تین دوست ہوں۔
وہ ان میں سے ایک دوست سے کہے۔ تیرے پاس کیا ہے ؟ وہ دوست کہے۔ میرے پاس تیرا مال
ہے۔ پس تو اس میں سے جو چاہے لے لے اور جو تو نہ لے سکے تو پھر وہ تیرا نہیں ہے۔
پھر اس آدمی نے دوسرے سے پوچھا۔ تیرے پاس کیا ہے ؟ اس نے کہا جب تو مرجائے گا تو
میں تجھے دفن کروں گا اور تجھے اکیلا چھوڑ دوں گا۔ پھر اس آدمی نے تیسرے سے کہا۔
تیرے پاس کیا ہے ؟ اس نے کہا : تم جہاں ہو گے میں تمہارے ساتھ رہوں گا۔ حضرت نعمان
نے فرمایا : پس پہلا دوست اس کا مال ہے کہ جو اس نے لے لیا وہ اس کا ہے اور جو اس
نے نہ لیا وہ اس کا نہیں ہے اور جو دوسرا ہے وہ اس کا قبیلہ، برادری ہے۔ جب یہ
مرجائے گا تو یہ اس کے پاس رہیں گے پھر اس کو اکیلا چھوڑ دیں گے اور تیسرا اس کا
عمل ہے جو اس کے ساتھ ہوگا وہ جہاں بھی ہو اور جہاں وہ جائے گا یہ بھی ساتھ جائے
گا۔ ابن ابی شیبہ
پسندیدہ دوست کون
حَدَّثَنَا
غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَیْمُونَ بْنَ
أَبِی شَبِیبٍ یُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : أَتَمَنَّی
لِحَبِیبِی أَنْ یَقِلَّ مَالُہُ أَوْ یُعَجَّلَ مَوْتُہُ۔
حضرت عبادہ بن صامت (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں : میں اپنے دوست کے لیے اس
بات کو پسند کرتا ہوں کہ اس کا مال کم ہو یا اس کی موت جلدی آئے۔ ابن ابی شیبہ
خاص ترین دوست کون
حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ
عُمَیْرٍ ، قَالَ : کَانَ لِرَجُلٍ ثَلاَثَۃُ أَخِلاَّئِ بَعْضُہُمْ أَخَصُّ
بِہِ مِنْ بَعْضٍ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ بِہِ نَازِلَۃٌ فَلَقِیَ أَخَصَّ
الثَّلاَثَۃِ بِہِ ، فَقَالَ : یَا فُلاَنُ ، إِنَّہُ قَدْ نَزَلَ بِی کَذَا
وَکَذَا ، وَإِنِّی أُحِبُّ أَنْ تُعِینَنِی ، قَالَ : مَا أَنَا بِالَّذِی
أَفْعَلُ ، فَانْطَلَقَ إِلَی الَّذِی یَلِیہِ فِی الْخَاصَّۃِ ، فَقَالَ : یَا
فُلاَنُ ، إِنَّہُ قَدْ نَزَلَ بِی کَذَا وَکَذَا ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ
تُعِینَنِی ، فَقَالَ : أَنْطَلِقُ مَعَک حَتَّی تَبْلُغَ الْمَکَانَ الَّذِی
تُرِیدُ، فَإِذَا بَلَغْتَ رَجَعْتُ وَتَرَکْتُک ، فَانْطَلَقَ إِلَی أَخَسِّ
الثَّلاَثَۃِ ، فَقَالَ : یَا فُلاَنُ ، إِنَّہُ قَدْ نَزَلَ بِی کَذَا وَکَذَا
فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تُعِینَنِی ، قَالَ : أَنَا أَذْہَبُ مَعَک حَیْثُمَا
ذَہَبْت ، وَأَدْخُلُ مَعَک حَیْثُمَا دَخَلْت ، قَالَ : فَأَمَّا الأَوَّلُ
فَمَالُہُ ، خَلَفَہُ فِی أَہْلِہِ فَلَمْ یَتْبَعْہُ مِنْہُ شَیْئٌ ،
وَالثَّانِی أَہْلُہُ وَعَشِیرَتُہُ ذَہَبُوا بِہِ إِلَی قَبْرِہِ ، ثُمَّ
رَجَعُوا وَتَرَکُوہُ ، وَالثَّالِثُ عَمَلُہُ ہُوَ حَیْثُمَا ذَہَبَ وَیَدْخُلُ
مَعَہُ حَیْثُ مَا دَخَلَ۔
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کے تین دوست تھے۔
ان میں سے بعض، بعض سے زیادہ خاص تھے۔ آپ (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں : پس اس آدمی پر
کوئی مصیبت نازل ہوگئی۔ چنانچہ وہ اپنے دوستوں میں سے خاص ترین کو ملا اور کہا :
اے فلاں ! مجھ پر ایسی ایسی مصیبت اتری ہے اور میں تم سے مدد لینا پسند کرتا ہوں۔
اس دوست نے کہا : میں تو یہ کام نہیں کرتا۔ پس یہ آدمی اس کے بعد والے خاص دوست کے
پاس چلا گیا اور کہا : اے فلاں ! مجھ پر ایسی ایسی مصیبت اتری ہے۔ اور میں تم سے
مدد لینا پسند کرتا ہوں۔ اس دوست نے کہا : میں تمہارے ساتھ وہاں تک چلوں گا جہاں
تم جانا چاہو۔ پھر جب تم پہنچ جاؤ گے تو میں واپس آجاؤں گا تمہیں چھوڑ دوں گا۔ پھر
یہ آدمی سب سے گھٹیا دوست کے پاس چلا گیا اور کہا : اے فلاں ! معاملہ کچھ یوں ہے
کہ مجھ پر ایسی ایسی مصیبت اتری ہے میں آپ کی مدد لینا چاہتا ہوں۔ اس دوست نے کہا
: میں تمہارے ساتھ جاؤں گا جہاں تم جاؤ گے اور جہاں تم داخل ہوگے وہاں میں داخل
ہوگا۔ حضرت عبید فرماتے ہیں : پس پہلا دوست اس کا مال ہے جس کو اس نے اپنے گھر
والوں میں چھوڑ دیا ہے۔ اس مال میں سے کوئی چیز اس کے پیچھے نہیں گئی۔ دوسرا دوست
اس کے اہل و خاندان ہے جو اس کے ساتھ اس کی قبر تک جاتے ہیں پھر اس کو چھوڑ کر
واپس آجاتے ہیں۔ تیسرا دوست اس کے عمل ہیں جو اس کے ساتھ ہیں جہاں وہ جائے گا اور
اس کے ساتھ اندر جائیں گے جہاں وہ داخل ہوں گے۔ ابن ابی شیبہ
اللہ کے دوستوں کی صفات
أَخْبَرَنَا
أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ
کَامِلٍ الْقَاضِی إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ : عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ
مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ
شَدَّادٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ
سِنَانٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ حَدَّثَہُ
وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ : ((أَلاَ إِنَّ
أَوْلِیَائَ اللَّہِ الْمُصَلُّونَ مَنْ یُقِمِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ الَّتِی
کُتِبْنَ عَلَیْہِ وَیَصُومُ رَمَضَانَ یَحْتَسِبُ صَوْمَہُ یَرَی أَنَّہُ عَلَیْہِ
حَقٌّ ، وَیُعْطِی زَکَاۃَ مَالِہِ یَحْتَسِبُہَا ، وَیَجْتَنِبُ الْکَبَائِرَ
الَّتِی نَہَی اللَّہُ عَنْہَا))۔ ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً سَأَلَہُ فَقَالَ : یَا
رَسُولَ اللَّہِ مَا الْکَبَائِرُ؟ فَقَالَ : ((ہُنَّ تِسْعٌ الشِّرْکُ إِشْرَاکٌ
بِاللَّہِ ، وَقَتْلُ نَفْسٍ مُؤْمِنٍ بِغَیْرِ حَقٍّ ، وَفِرَارٌ یَوْمَ
الزَّحْفِ ، وَأَکَلُ مَالُ الْیَتِیمِ ، وَأَکْلُ الرِّبَا ، وَقَذْفُ
الْمُحْصَنَۃِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ الْمُسْلِمَیْنِ ، وَاسْتِحْلاَلُ
الْبَیْتِ الْحَرَامِ قِبْلَتِکُمْ أَحْیَائً وَأَمْوَاتًا ، ثُمَّ قَالَ : لاَ
یَمُوتُ رَجُلٌ لَمْ یَعْمَلْ ہَؤُلاَئِ الْکَبَائِرَ ، وَیُقِیمُ الصَّلاَۃَ ،
وَیُؤْتِی الزَّکَاۃَ إِلاَّ کَانَ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی دَارٍ أَبْوَابُہَا مَصَارِیعُ مِنْ
ذَہَبٍ))۔ سَقَطَ مِنْ کِتَابِی أَوْ مِنْ کِتَابِ شَیْخِی السِّحْرُ۔ [ضعیف۔
أخرجہ الحاکم]
عبید بن عمیر اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع میں فرمایا : خبردار ! اللہ کے دوست نمازی ہیں جو پانچوں
نمازیں قائم کرتے ہیں جو ان پر فرض کی گئی ہیں اور رمضان کے روزے رکھتے ہیں اجر
وثواب کی نیت سے، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ ان پر فرض ہیں اور اپنے مال کی زکوۃ دیتے
ہیں ثواب کی امید سے اور ان کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع
کیا ہے۔ پھر ایک آدمی نے سوال کیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! کبیرہ گناہ کیا ہے
؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ نو (٩) ہیں : اللہ تعالیٰ کے ساتھ
شرک کرنا اور مومن کو بلاوجہ قتل کرنا اور میدان جنگ سے بھاگنا، یتیم کا مال
کھانا، سود کھانا، پاکدامنہ پر تہمت لگانا، مسلم والدین کی نافرمانی کرنا، بیت
الحرام کو حلال کرنا جبکہ وہ تمہارے زندوں اور مردوں کا قبلہ ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں مرتا وہ شخص جو یہ کبیرہ گناہ نہیں کرتا اور وہ
نماز قائم کرتا ہے، زکوۃ دیتا ہے تو ہوگا وہ اپنے گھر کے دروازے پر اپنے نبی (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جس کے دروازے کے پاٹ سونے کے ہوں گے۔ بیہقی
آج دوست دوست سے جدا کر دیا جاےگا
أَخْبَرَنَا
أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ
رَحِمَہُ اللَّہُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ
الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ السَّلِیطِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ
الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ :
دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَکَّۃَ وَابْنُ رَوَاحَۃَ آخِذٌ بِغَرْزِہِ وَہُوَ
یَقُولُ :
خَلُّوا بَنِی
الْکُفَّارِ عَنْ سَبِیلِہِ الْیَوْمَ نَضْرِبُکُمْ
عَلَی تَنْزِیلِہِ
ضَرْبًا یُزِیلُ
الْہَامَ عَنْ مَقِیلِہِ وَیُذْہِلُ الْخَلِیلَ
عَنْ خَلِیلِہِ
یَا
رَبُّ إِنِّی مُؤْمِنٌ بِقِیلِہِ
حضرت انس (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ
میں داخل ہوئے اور ابن رواحہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری کی موہار پکڑے
ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے : اے کفار ! آج ان کا راستہ خالی کر دو ۔ مقابلہ میں
اترنے والے کی آج گردنیں اتاردی جائے گی۔ جو ان کی گردنیں تن سے جدا کریں گے اور
دوست کو دوست سے جدا کردیا جائے گا۔ اے میرے رب ! میں ان کی بات پر ایمان لایا
ہوں۔ بیقہی
دوست کی گواہی
أَخْبَرَنَا
أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ
الْمُقْرِئُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ
بْنُ مُوسَی عَنِ الزِّنَجِیِّ بْنِ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلاَئَ بْنَ
عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَذْکُرُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ
عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : لاَ تَجُوزُ شَہَادَۃُ ذِی الْخُلَّۃِ وَلاَ
ذِی الْجِنَّۃِ وَلاَ ذِی الْحِنَّۃِ الْمَحْقُودِ ۔ کَذَا قَالَ۔ [ضعیف]
حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
نے فرمایا : دوست، مجنون اور کینہ والے مجنون کی شہادت بھی قبول نہ ہوگی۔ ابن ابی
شیبہ
میرے بندوں میں میرے دوست
قال الله
تعالى: "ألا إن أوليائي من عبادي، وأحبائي من خلقي، الذين يذكرون بذكري وأذكر
بذكرهم". (الحكيم) (حل عن عمرو بن الجموح) .
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندوں میں میرے دوست اور میری مخلوق میں سے
میرے محبوب ترین افراد وہ ہیں کہ میرے ذکر کے ساتھ ان کا ذکر کیا جاتا ہے اور ان
کے ذکر کے ساتھ میرا ذکر کیا جاتا ہے۔ الحکیم، الحلیہ، بروایت عمرو بن الجموح۔ کنز
العمال
حاملین قرآن اللہ کے دوست
حملة القرآن
أولياء الله فمن عاداهم فقد عادى الله ومن والاهم فقد والى الله". (فر وابن
النجار عن ابن عمر) .
حاملین قرآن اولیاء اللہ ہیں۔ جس نے ان سے دشمنی مول لی، اس نے درحقیقت
اللہ سے جنگ مول لی۔ جس نے ان سے دوستی نبھائی، درحقیقت اللہ سے دوستی کی۔
(الفردوس للدیلمی (رح)، ابن النجار بروایت ابن عمر (رض))
کنز العمال
جس نے حاملین قرآن سے دوستی کی
حملة القرآن
هم المعلمون كلام الله والمتلبسون بنور الله، من والاهم فقد والى الله، ومن عاداهم
فقد عادى الله". (ك)في تاريخه عن علي.
حاملین قرآن کلام اللہ سکھانے والے ہیں اور اللہ کے نور کو پہننے والے ہیں۔
جس نے ان سے دوستی کی، درحقیقت الل سے دوستی کی۔ جس نے ان سے دشمنی مول لی، اس نے
درحقیقت اللہ سے جنگ مول لی۔ (المستدرک للحاکم فی تاریخہ بروایت علی (رض))۔کنز
العمال
مکار دوست سے اللہ کی پناہ
اللهم إني
أعوذ بك من خليل ماكر عيناه ترياني وقلبه يرعاني، إن رأى حسنة دفنها وإن رأى سيئة
أذاعها". "ابن النجار عن سعيد المقبري" مرسلا.
ترجمہ : اے اللہ ! میں مکار دوست سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو آنکھوں سے مجھے
دیکھے اور دل میں مجھ سے فریب رکھے۔ اگر میری کوئی نیکی دیکھے تو دفن کردے اور اگر
کوئی برائی دیکھے تو پھیلا دے۔ (ابن النجار عن سعید المعتبری مرسلا) ۔کنز العمال
اہل قرآن سے دوستی اللہ سے دوستی
أنبأنا أبو
القاسم الخضر بن الحسن بن عبد الله: أنبأنا أبو القاسم بن أبي العلى: أنبأنا علي
بن محمد الجبائي: حدثني أبو نصر عبد الوهاب ابن عبد الله: ثنا أبو محمد عبد الله
بن أحمد بن جعفر النهاوندي المقرئ المكي من حفظه: حدثني أبو علي الحسين بن بندار:
ثنا أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حفص بن عبيد الطنافسي: حدثنا أبو عمرو المقرئ حفص
ابن عمر الدوري: ثنا سوار بن الحكم عن حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس بن مالك قال:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا حملة القرآن، إن أهل السموات
يذكرونكم عند الله، تحببوا إلى الله بتوقير كتاب الله يزدكم حبا ويحببكم إلى
عباده، يا حملة القرآن، أنتم المخصوصون برحمة الله، المعلمون كلام الله المقربون
من الله، من والاهم فقد والى الله، ومن عاداهم فقد عادى الله يدفع عن قارئ القرآن
بلاء الدنيا، ويدفع عن مستمع القرآن بلاء الآخرة، يا حملة القرآن فتحببوا إلى الله
بتوقير كتابه يزدكم حبا ويحببكم إلى عباده"
حضرت انس (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) نے ارشاد فرمایا اے حاملین قرآن ! آسمانوں والے اللہ کے پاس تمہارا ذکر کرتے
ہیں پس تم اللہ کی کتاب کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرکے اللہ کے ہاں محبوبیت کا درجہ
حاصل کرو۔ وہ تم سے محبت کرے گا اور اپنے بندوں کے ہاں تم کو محبوب کردے گا۔ اے
حاملین قرآن ! تم اللہ کی رحمت کو خصوصیت کے ساتھ پانے والے ہو، کلام اللہ کو
سکھانے والے ہو، اور اللہ کا قرب پانے والے ہو۔ جس نے اہل قرآن سے دوستی کی اس نے
اللہ سے دوستی کی جس نے ان کے ساتھ دشمنی کی اس نے اللہ سے دشمنی کی۔ قرآن کے قاری
سے دنیا کی مشقت و مصیبت دفع کردی جاتی ہے اور قرآن سننے والے سے آخرت کی مصیبت
دفع کردی جاتی ہے۔ پس اے حاملین قرآن ! قرآن کو زیادہ حاصل کرو اور اللہ کے ہاں
محبوب بن جاؤ اور اس کے بندوں کے ہاں بھی محبت پاؤ۔ کنز العمال
دوست کی دوست پر فضیلت
دخل رجلان
الجنة، صلاتهما وصيامهما وحجهما وجهادهما واصطناعهما للخير واحد، ويفضل أحدهما على
صاحبه بحسن الخلق كما بين المشرق والمغرب. "الديلمي عن ابن عمر".
دو مرد جنت میں داخل ہوئے، ان لوگوں کی نماز، روزہ، حج، جہاد اور بھلائی
کرنا برابر تھا، ان میں ایک اپنے اچھے اخلاق کی بنا پر اپنے دوست پر اتنی فضیلت
رکھتا ہے جیسے مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔ (دیلمی عن ابن عمر) ۔کنز العمال
مصائب اور اللہ کے دوست
يقول البلاء كل يوم: إلى أين أتوجه؟ فيقول الله عز وجل: إلى
أحبائي، وأولي طاعتي، أبلو بك أخبارهم، وأختبر صبرهم، وأمحص بك ذنوبهم، وأرفع بك
درجاتهم، ويقول الرخاء كل يوم: إلى أين أتوجه؟ فيقول الله عز وجل: إلى أعدائي،
وأهل معصيتي، أزيد بك طغيانهم وأضاعف بك ذنوبهم، وأعجل بك لهم، وأكثر بك على
غفلتهم. "الديلمي عن أنس
مصیبت ہر روز کہتی ہے : میں کہاں کا رخ کروں ؟ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
میرے دوستوں اور میری فرمان برداری کرنے والوں کی طرف، میں تیری وجہ سے ان کی
باتیں آزماؤں گا، اور ان کے صبر کا امتحان لوں گا، ان کے گناہ مٹاؤں گا، ان کے
درجات بلند کروں گا اور راحت ہر روز کہتی ہے : میں کہاں کا رخ کروں ؟ تو اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے ۔میرے دشمنوں اور میری نافرمانی کرنے والوں کا، میں تیری وجہ سے
ان کی سرکشی بڑھاؤں گا، ان کے گناہ زیادہ کروں گا اور انھیں (عذاب دینے میں) جلدی
کروں گا اور اپنے ہاں ان کی غفلت زیادہ کروں گا۔ (الدیلمی عن انس) ۔کنز العمال
اگر اللہ کے دوستوں سے دوستی نہ کی تو
يبعث الله
تعالى يوم القيامة عبدا لا ذنب له فيقول الله عزوجل بأي الامرين أحب اليك أن أجزيك
؟ بعملك ؟ أم بنعمتي عندك قال : يا رب أنت تعلم أني لم أعصك ، قال : خذوا عبدي
بنعمة من نعمي ، فما يبقى له حسنة إلا استفرغتها تلك النعمة ، فيقول : يا رب
بنعمتك ورحمتك ، فيقول بنعمتي ورحمتي ، ويؤتى بعبد محسن في نفسه لا يرى أن له سيئة
، فيقال له : هل كنت توالي أوليائي ؟ قال : يا رب كنت من الناس سلما ، قال : فهل
كنت تعادي أعدائي ؟ قال : يا رب لم أكن أحب أن يكون بيني وبين أحد شئ فيقول الله
تعالى : وعزتي وجلالي لا ينال رحمتي من لم يوال أوليائي ، ويعاد أعدائي.(الحكيم طب
عن واثلة).
فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک بندے کو حاضر فرماے گا۔ اور اس سے
دریافت فرماے گا۔ کہ تو کیا پسند کرتا ہے کہ میں تجھے دو میں سے کسی چیز کے بدلہ
عمدہ بدلہ عطا فرماؤں، تیرے عمل کے بدلے ؟ یا اپنی اس نعمت کے بدلے جو تیرے پاس
تھی ؟ وہ بندہ کہے گا، اے میرے رب ! آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کی نافرمانی نہیں
کی، تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے بندے کو میری نعمتوں میں سے ایک نعمت کے
بدلے لے لو، چنانچہ اس کی کوئی نیکی ایسی نہ رہے گی، جسے اس نعمت نے فارغ نہ کردیا
ہو، تو وہ بندہ کہے گا، اے میرے رب ! آپ کی نعمت اور رحمت کے بدلے اللہ تعالیٰ
فرمائیں (ہاں) میری نعمت اور رحمت کے بدلے، پھر ایک نیک آدمی کو لایا جائے گا جو
یہ سمجھتا ہوگا کہ اس نے کبھی برائی نہیں کی، اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تو نے
میرے دوستوں سے محبت رکھی ؟ وہ شخص کہے گا، اے میرے رب ! میں پرامن لوگوں میں سے
تھا، اللہ تعالیٰ پھر پوچھیں گے کہ کیا تو نے میرے دشمنوں سے نفرت کی، تو وہ شخص
کہے گا کہ اے میرے رب ! میں اس بات کو پسند نہ کرتا تھا کہ میری کسی کے ساتھ بھی
ناگواری وغیرہ ہو، تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم وہ
شخص میری رحمت کا حق دار نہ ہوگا جس نے میرے اولیاء (دوستوں) سے دوستی نہ کی اور
میرے دشمنوں سے دشمنی نہ کی “۔ (الحکیم طبرانی بروایت حضرت واثلۃ (رض)) ۔کنزالعمال
قریبی دوست دوست کو کیوں دفن کرتے
يقول الله تعالى : تفضلت على عبدي بأربع خصال : سلطت الدابة
على الحبة ، ولولا ذلك لادخرتها الملوك كما يدخرون الذهب والفضة ، وألقيت النتن
على الجسد ، ولولا ذلك ما دفن خليل خليله أبدا ، وسلطت السلو على الحزن ولو لا ذلك لانقطع النسل وقضيت الاجل وأطلت
الامل ، ولو لا ذلك لخربت الدنيا ، ولم يهن ذو معيشة بمعيشته.(الخطيب عن البراء).
فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
میں نے اپنے بندے کو چار باتوں کے ساتھ فضیلت دی، میں نے دانے پر کیڑا مسلط کردیا
اگر میں ایسا نہ کرتا تو بادشاہ (گندم وغیرہ کے ) دانوں کو سونے اور چاندی کی طرح
ذخیرہ کرنے لگتے۔ اور میں نے جسم میں بدبو پیدا کردی، اگر ایسا نہ ہو تو کوئی
قریبی دوست اپنے قریبی دوست کو کبھی دفن نہ کرتا، اور میں نے تسلی کو غم پر مسلط
کردیا، اگر ایسا نہ ہو تو نسل ختم ہوجاتی اور میں نے مدت مقرر کردی اور خواہش و
آرزو کو طویل کردیا، اگر یہ نہ ہوتا تو دنیا ویران ہوجاتی، اور کوئی کام کاج والا
اپنے کام کاج میں کمزوری کا مظاہرہ نہ کرتا “۔ (خطیب بروایت حضرت براء بن عازب (رض)) ۔کنزالعمال
شراب پینے والا شیطان کادوست
لا يزال العبد في فسحة من دينه ما لم يشرب الخمر؛ فإذا
شربها خرق الله عنه ستره، وكان الشيطان وليه وسمعه وبصره ورجله يسوقه إلى كل شر،
ويصرفه عن كل خير. "طب عن قتادة بن عياش".
بندہ جب تک شراب نہ پئے اپنے دین کی کشادگی میں رہتا ہے۔ لیکن جب شراب کو
منہ لگا لیتا ہے تو اللہ پاک اس کا پردہ چاک کردیتا ہے۔ پھر شیطان اس کا دوست بن
جاتا ہے، اس کا کان، اس کی آنکھ اور اس کا پاؤں بن جاتا ہے جس سے وہ چل کر ہر شر
کی طرف جاتا ہے اور اس کا یہ دوست ہر خیر سے اس کو روک رکھتا ہے۔ الکبیر للطبرانی
عن قتادہ بن عیاش ۔کنز العمال
جس حاکم یا والی کا دروازہ دوستوں پر بند
ہو
ما من إمام
أو وال يغلق بابه دون ذوي الحاجة والخلة والمسكنة إلا أغلق الله أبواب السماء دون
خلته وحاجته ومسكنته". "حم ت عن عمرو بن مرة"
جس حاکم یا والی کا دروازہ حاجت مندوں مسکینوں اور دوست احباب کے لیے بند
ہو اللہ پاک بھی اس کی حاجت روائی کا دروازہ بند فرما دیتا ہے۔ مسند احمد، الترمذی
عن عمرو بن مرۃ، قال الترمذی غریب ۔کنز العمال
کس شخص سے دوستی اور محبت رکھے
أوحى الله
تعالى إلى ذي القرنين وعزتي وجلالي ما خلقت خلقا أحب إلي من المعروف وسأجعل له
علما فمن رأيته حببت إليه المعروف واصطناعه وحببت إلى الناس الطلب إليه فأحبه
وتوله فإني أحبه وأتولاه ومن رأيته كرهت إليه المعروف وبغضت إلى الناس الطلب إليه
فأبغضه ولا تتوله فإنه من شر من خلقت". "الديلمي عن بكر بن عبد الله
المزني عن أبيه".
اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو وحی فرمائی : میری عزت کی قسم ! میرے جلال کی
قسم ! میں نے کوئی مخلوق نیکی سے زیادہ محبوب پیدا نہیں کی ہے۔ اور عنقریب میں اس
کی کوئی نشانی بناؤں گا۔ پس تو جس کو دیکھے کہ میں نے نیکی اور نیکی کرنا اس کے
لیے محبوب کردی ہے نیز لوگوں کو اس کے پاس نیکی کے حصول کے لیے آنا جانا محبوب
کردیا ہے۔ تو پس ایسے شخص سے تم محبت اور دوستی رکھنا۔ کیونکہ میں بھی اس سے محبت
رکھتا ہوں اور اس کو دوست رکھتا ہوں ۔ جبکہ اگر تو ایسے شخص کو دیکھے جس کے نزدیک
نیکی کو ناپسند کردیا ہے اور لوگوں کا اس سے نیکی کے لیے ملنا ناگوار کردیا ہے تو
اس سے بھی بغض رکھ اور اس سے دوستی نہ کر۔ کیونکہ وہ میری مخلوق میں بدترین انسان
ہے۔ الدیلمی عن بکر بن عبداللہ المزنی عن ابیہ ۔کنز العمال
اللہ کی رضا کی خاطر دوست سے ملاقات
زار رجل أخا
له في قرية، فأرصد الله له ملكا على مدرجته، فقال: أين تريد؟ قال: أخا لي في هذه
القرية، قال: هل له عليك من نعمة تربها 1؟ قال: لا، إلا أني أحبه في الله، قال:
فإني رسول الله إليك إن الله أحبك كما أحببته فيه". "حم، خد 2 م عن أبي
هريرة".
ایک شخص کسی بستی میں اپنے دوست سے ملاقات کرنے کے لیے گیا اللہ تعالیٰ نے
اس کے راستے میں فرشتہ بھیجا کہ اس سے کہو کہاں کا ارادہ ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا
اس بستی میں میرا ایک دوست ہے اس سے ملنے آیا ہوں۔ فرشتہ نے پوچھا : کیا تمہارے
دوست کا تمہارے اوپر کوئی احسان ہے جس کی وجہ سے میں تم اس سے ملنے جا رہے ہو ؟
جواب دیا نہیں۔ البتہ میں اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے محبت کرتا ہوں۔ فرشتے
نے کہا : میں اللہ تعالیٰ کا فرشتہ ہوں جو تیرے پاس بھیجا گیا ہوں بلاشبہ اللہ
تعالیٰ تجھ سے ایسے ہی محبت کرتا ہے جس طرح تو اپنے دوست سے کرتا ہے۔کنز العمال
مسلمان دوست کو درہم عطا کرنا
لأن أطعم أخا في الله مسلما لقمة، أحب إلي من أن أتصدق
بدرهم، ولأن أعطي أخا في الله مسلما درهما أحب إلي من أن أتصدق بعشرة ولأن أعطيه
عشرة أحب إلي من أن أعتق رقبة". "هناد هب عن بريد مرسلا".
میں اپنے کسی مسلمان دوست ( جس سے محض اللہ کے لیے دوستی ہو) کو ایک لقمہ
کھانا کھلاؤں یہ مجھے ایک درہم صدقہ کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ میں اپنے کسی مسلمان
دوست کو ایک درہم عطا کروں یہ مجھے دس درہم صدقہ کرنے سے زیادہ محبوب ہے، میں اپنے
مسلمان دوست کو دس درہم عطا کروں یہ مجھے غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔کنز
العمال
اللہ کے دوستوں پر انبیاء اور شہدا کا
رشک کرنا
إن لله عبادا ليسوا بأنبياء ولا شهداء يغبطهم النبيون
والشهداء يوم القيامة، لقربهم ومجلسهم منه قوم من أفناء الناس من نزاع 2 القبائل تصادقوا في الله
وتحابوا يضع الله لهم يوم القيامة منابر من نور فيجلسهم يخاف الناس ولايخافون، هم
أولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون". "ك عن ابن عمر".
اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ہیں جو انبیاء ہیں اور نہ شہداء بلکہ قیامت کے دن
انبیاء وشہداء کو ان پر رشک آتا ہوگا چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے قریب بیٹھے ہوں گے،
انھیں کوئی نہیں جانتا ہوگا کہ ان کا تعلق کس سے ہے وہ مختلف قبائل سے ہوں گے، وہ
اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آپس میں اکٹھے ہوں گے اور آپس میں محبت کر رہے ہوں گے
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے لیے نور کے منبر پر سجائے گا پھر انھیں ان مبنروں
پر بٹھائے گا، لوگ خوفزدہ ہوں گے جبکہ وہ بےخوف بیٹھے ہوں گے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے
دوست ہوں گے انھیں نہ خوف ہوگا اور نہ ہی غم و حزن۔کنز العمال
اللہ کی رضا کے لیے دوست سے ملاقات کی
فضیلت
ما من عبد أتاه أخوه يزوره في الله إلا نادى مناد من
السماء، أن طبت وطابت لك الجنة، وإلا قال الله عز وجل في ملكوت عرشه: عبدي زارني
وعلي قراه ولن يرضى الله تعالى لوليه بقرى دون الجنة". "ع حل وابن
النجار، ص عن أنس
جو بھی بندہ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے دوست سے ملاقات کرتا ہے
الا یہ کہ آسمان میں ایک منادی اعلان کرتا ہے : جس طرح تو خوش سے اسی طرح جنت بھی
تجھ پر خوش ہے اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے فرشتوں سے فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری
زیارت کی ہے اس کی مہمانی میرے ذمہ ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی مہمانی صرف اور صرف
جنت ہے۔کنز العمال
جب تم کسی کو اپنا دوست بناو
إذا آخيت رجلا فاسأله عن اسمه واسم أبيه، فإن كان غائبا
حفظته، وإن كان مريضا عدته، وإن مات شهدته". "هب عن ابن عمر".
جب تم کسی کو اپنا دوست بناؤ اس سے اس کا نام اور اس کے باپ کا نام دریافت
کرلو اگر وہ تمہارے پاس سے غائب ہوگیا تم اسے یاد رکھو گے اگر بیمار پڑگیا اس کی
عیادت کرو گے اگر مرگیا تم اس کے پاس حاضر ہو جاؤ گے۔کنز العمال
سچے
دوستوں سے میل جول بڑھاو
الناس سواء كأسنان المشط وإنما يتفاضلون بالعافية، والمرء
يكثر بإخوانه المسلمين، ولا خير في صحبة من لا يرى لك مثل الذي ترى له، عليك
بإخوان الصدق تعش في أكنافهم، فإنهم زينة في الرخاء وعدة في البلاء".
"الحسن بن سفيان وابن بشر الدولابي والعسكري في الأمثال، كر عن سهل بن سعد؛
عد عن أنس
لوگ آپس میں کنگھی کے داندانوں کے طرح برابر ہیں، البتہ عافیت کی وجہ سے
ایک دوسرے پر فضیلت لے جاتے ہیں، آدمی اپنے مسلمان بھائیوں سے زیادہ سے زیادہ میل
جول رکھتا ہے اس شخص کی صحبت میں کوئی بھلائی نہیں جس کے لیے تم طالب خیر ہو اور
وہ تمہارے لیے نہ ہو تمہیں سچے دوستوں سے میل جو ل بڑھانا چاہیے اور انہی کے گھروں
میں آنا جانا رکھو چونکہ سچے دوست آسائش میں تمہارے لیے زینت ہوں گے اور آزمائش کی
گھڑی میں تمہارے شانہ بشانہ ہوں گے۔۔کنز العمال
علانیہ دوست باطنی دشمن
يكون في آخر الزمان قوم إخوان العلانية، أعداء السريرة، ذلك
لرغبة بعضهم إلى بعض ورهبة بعضهم من بعض". "حم طب عن معاذ".
آخری زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے جو علانیہ دوست ہوں گے جب کہ باطنی دشمن ہوں
گے یہ اس لیے ہوگا چونکہ وہ ایک دوسرے سے رغبت رکھتے ہوں گے اور ایک دوسرے سے ڈرتے
ہوں گے۔کنز العمال
کسی دوست کی کوکوئی بات افشا کرنا
إنما يتجالس
المتجالسان بأمانة الله فلا يحل لأحدهما أن يفشي على صاحبه ما يكره، وأكرم الناس
علي جليسي". "ابن لال من طريق سلمة بن كهيل عن أبيه عن ابن مسعود".
وہ شخص جو اکٹھے مجلس میں بیٹھے ہوں ان کی یہ مجلس امانت ہے ان میں سے کسی
کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے دوست کی کوئی بات افشا کرے جسے وہ ناپسند سمجھتا ہوں
لوگوں میں سب سے زیادہ غیرت مند میرے نزدیک میرا ہم جلیس ہے۔کنز العمال
دوست کی خالص محبت کے اسباب
عن عمر قال: "إنما يصفي لك ود أخيك ثلاثا أن تبدأه
بالسلام إذا لقيته، وأن تدعوه بأحب أسمائه إليه، وأن توسع له في المجلس".
"ابن المبارك، ص هب كر
سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : تمہارے دوست کی محبت اس وقت
تمہارے لیے خالص ہوسکتی ہے جب تم تین کام کرو ، پہلا یہ کہ جب تمہاری اس سے ملاقات
ہو سلام کرنے میں پہل کرو ، دوسرا یہ کہ تم اسے اچھے سے اچھے نام سے بلاؤ ، تیسرا
یہ تم مجلس میں اس کے لیے وسعت پیدا کرو۔کنز العمال
دوستی کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ
کی وصیتیں
عن المدائني قال: قال علي بن أبي طالب: "لا تؤاخ
الفاجر فإنه يزين لك فعله، ويحب لو أنك مثله، ويزين لك أسوأ خصاله، ومدخله عليك
ومخرجه من عندك شين وعار، ولا الأحمق فإنه يجهد نفسه لك ولا ينفعك، وربما أراد أن
ينفعك فيضرك، فسكوته خير من نطقه، وبعده خير من قربه، وموته خير من حياته، ولا
الكذاب فإنه لا ينفعك معه عيش ينقل حديثك وينقل الحديث إليك وإن تحدث بالصدق فما
يصدق". "الدينوري كر".
سیدنا حضرت علی المرتضی (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں : فاجر
(گناہ گار) سے دوستی مت رکھو چونکہ وہ تمہارے سامنے ملمع سازی کرے گا وہ چاہے گا
کہ تم بھی اس جیسے ہوجاؤ وہ اپنی بری خصلتیں خوبصورت کرکے تمہارے سامنے پیش کرے گا
اس کا تمہارے پاس آنا اور جانا باعث رسوائی اور عیب ہے بیوقوف کو دوست مت بناؤ وہ
تمہارے سامنے خوب محنت و مجاہدہ سے کام لے گا مگر تمہیں نفع نہیں پہنچائے گا بسا
اوقات تمہیں نفع پہنچانے کی کوشش کرے گا لیکن نہیں نقصان پہنچا جائے گا اس کی
خاموشی بولنے سے بہتر ہے اس کا دور رہنا اس کے قریب رہنے سے بہتر ہے اس کا مرجانا
زندہ رہنے سے بہتر ہے ، جھوٹے شخص کو بھی دوست مت بناؤ چونکہ وہ تمہیں نفع نہیں
پہنچا سکتا وہ تمہاری باتیں دوسروں تک منتقل کرے گا اور دوسروں کی باتیں تمہارے
پاس لائے گا اگر تکلف کرکے سچ بولنے کی کوشش کرے گا پھر بھی سچ نہیں بولے گا ۔
(رواہ الدینوری وابن عساکر) .۔کنزالعمال
جو دوست کو جوا کھیلنے کی دعوت دے
من حلف منكم
فقال في حلفه: واللات والعزى! فليقل لا إله إلا الله، ومن قال لصاحبه: تعال
أقامرك، فليتصدق بشيء. " الشافعي، حم، ق - عن أبي هريرة".
جو شخص لات اور عزیٰ کی قسم کھائے اسے کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ پڑھ لینا
چاہے جو شخص اپنے کسی دوست سے کہے : آؤ میں تمہارے ساتھ جوا کھیلتا ہوں اسے صدقہ
کرنا چاہیے۔۔ رواہ الشافعی واحمد بن حنبل والبخاری ومسلم عن ابوہریرہ .
ماشاءا للہ پیر و مرشد
ReplyDelete