والدین کی عظمت تالیف سید ظہیر حسین شاہ رفاع Waldain ki Azmat by Syed Zaheer Hussain Refai
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہم صلی علی محمد و علی آلہ وصحبہ وسلم
والدین کی عظمت کے حوالے سےقرآن و احادیث کی روشنی میں یہ کتاب عارضی نشر کی جار ہی ہے۔اگر
آپ اس کتاب میں کسی مقام پر کسی بھی قسم کی غلط دیکھیں مہربانی فرماکر
03044653433 نمبر پر وٹس ایپ فرمائیں۔تاکہ ہارڈ کاپی میں وہ غلطی شامل نہ ہو۔پروف
ریڈنگ کے فرائض سر انجام دے کر آپ بھی اپنے لیے صدقہ جاریہ کا دروازہ کھولیں۔اس
کتاب کو خو د بھی پڑھیں ۔اپنے عزیزواقارب دوست احباب و دیگر گروپس میں صدقہ جاریہ
کے طور پر اس کتاب کو شئیر فرمائیں
سید ظہیر حسین شاہ رفاعی
رفاعی اسلامک ریسرچ سینٹر
والدین کی عظمت
يَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ ڛ قُلْ
مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ وَالْيَتٰمٰى
وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۭ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ
اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ ٢١٥
یہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ آپ کہیے کہ
تم ماں باپ ‘ رشتہ داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں اور مسافروں پر جو اچھی چیز بھی خرچ
کرو گے ‘ تو وہ ان کا حق ہے ‘ اور تم جو نیک کام بھی کرو گے تو بیشک اللہ کو اس کا
علم ہے ۔البقرہ 215
وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ
شَـيْـــــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰي
وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ
بِالْجَـنْۢبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ۭ اِنَّ
اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرَۨا 36ۙ
اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک
نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور
قرابت دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور مجلس کے ساتھی اور مسافر اور اپنے غلاموں کے
ساتھ (نیکی کرو) بیشک اللہ مغرور متکبر کو پسند نہیں کرتا ۔النساء 36
وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ
اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ۭ
اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا
تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا
كَرِيْمًا 23
اور آپ کا رب حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی
اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا اور اگر تمہاری زندگی میں
وہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے تو ان کو اف تک نہ کہنا اور نہ ان کو
جھڑکنا اور ان سے ادب سے بات کرنا۔ الاسراء23
ماں کی نافرمانی حرام
حَدَّثَنَا سَعْدُ
بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ
، عَنْ وَرَّادٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ
الْأُمَّهَاتِ، وَمَنْعًا وَهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَكَرِهَ
لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ.
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا کہ اللہ نے تم پر ماں کی نافرمانی حرام قرار دی ہے اور (والدین کے حقوق) نہ دینا اور ناحق ان سے مطالبات کرنا بھی حرام
قرار دیا ہے، لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا
(بھی حرام قرار دیا ہے) اور قيل
وقال (فضول باتیں) کثرت سوال اور مال کی بربادی کو بھی ناپسند کیا
ہے۔بخاری
غیر مسلم
ماں سے حسن سلوک
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا
هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَخْبَرَتْنِي أَسْمَاءُ
ابْنَةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: أَتَتْنِي
أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آصِلُهَا ؟
قَالَ: نَعَمْ، قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ
تَعَالَى فِيهَا لا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي
الدِّينِ سورة الممتحنة آية 8.
اسماء بنت ابی بکر ؓ فرماتی ہیں کہ میری والدہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ
میں میرے پاس آئیں، وہ اسلام سے منکر تھیں۔ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا
کیا میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کرسکتی ہوں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا
کہ ہاں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی لا ينهاكم الله عن الذين لم يقاتلوکم
في الدين یعنی اللہ پاک تم کو ان
لوگوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے ہمارے دین کے متعلق کوئی لڑائی
جھگڑا نہیں کرتے۔بخاری
نفلی عبادت
پر ماں کی خدمت کو ترجیح دینا
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
أَنَّهُ قَالَ کَانَ جُرَيْجٌ يَتَعَبَّدُ فِي صَوْمَعَةٍ فَجَائَتْ أُمُّهُ قَالَ
حُمَيْدٌ فَوَصَفَ لَنَا أَبُو رَافِعٍ صِفَةَ أَبِي هُرَيْرَةَ لِصِفَةِ رَسُولِ
اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّهُ حِينَ دَعَتْهُ کَيْفَ
جَعَلَتْ کَفَّهَا فَوْقَ حَاجِبِهَا ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا إِلَيْهِ تَدْعُوهُ
فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ أَنَا أُمُّکَ کَلِّمْنِي فَصَادَفَتْهُ يُصَلِّي فَقَالَ
اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي فَاخْتَارَ صَلَاتَهُ فَرَجَعَتْ ثُمَّ عَادَتْ فِي
الثَّانِيَةِ فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ أَنَا أُمُّکَ فَکَلِّمْنِي قَالَ اللَّهُمَّ
أُمِّي وَصَلَاتِي فَاخْتَارَ صَلَاتَهُ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا
جُرَيْجٌ وَهُوَ ابْنِي وَإِنِّي کَلَّمْتُهُ فَأَبَی أَنْ يُکَلِّمَنِي
اللَّهُمَّ فَلَا تُمِتْهُ حَتَّی تُرِيَهُ الْمُومِسَاتِ قَالَ وَلَوْ دَعَتْ
عَلَيْهِ أَنْ يُفْتَنَ لَفُتِنَ قَالَ وَکَانَ رَاعِي ضَأْنٍ يَأْوِي إِلَی
دَيْرِهِ قَالَ فَخَرَجَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْقَرْيَةِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا
الرَّاعِي فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقِيلَ لَهَا مَا هَذَا قَالَتْ مِنْ
صَاحِبِ هَذَا الدَّيْرِ قَالَ فَجَائُوا بِفُؤُوسِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ
فَنَادَوْهُ فَصَادَفُوهُ يُصَلِّي فَلَمْ يُکَلِّمْهُمْ قَالَ فَأَخَذُوا
يَهْدِمُونَ دَيْرَهُ فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ نَزَلَ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا لَهُ
سَلْ هَذِهِ قَالَ فَتَبَسَّمَ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَ الصَّبِيِّ فَقَالَ مَنْ
أَبُوکَ قَالَ أَبِي رَاعِي الضَّأْنِ فَلَمَّا سَمِعُوا ذَلِکَ مِنْهُ قَالُوا
نَبْنِي مَا هَدَمْنَا مِنْ دَيْرِکَ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ قَالَ لَا وَلَکِنْ
أَعِيدُوهُ تُرَابًا کَمَا کَانَ ثُمَّ عَلَاهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جریج اپنے عبادت خانے میں عبادت کر رہے تھے کہ
ان کی ماں آگئی حمید کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے ان کی اس طرح صفت بیان کی جس طرح
کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے صفت بیان کی تھی جس وقت ان کی ماں نے ان کو بلایا تو انہوں
نے اپنی ہتھیلی اپنی پلکوں پر رکھی ہوئی تھی پھر اپنا سر ابن جریج کی طرف اٹھا کر ابن
جریج کو آواز دی اور کہنے لگیں اے جریج میں تیری ماں ہوں مجھ سے بات کر ابن جریج اس
وقت نماز پڑھ رہے تھے ابن جریج نے کہا اے اللہ ایک طرف میری ماں ہے اور ایک طرف نماز
ہے پھر ابن جریج نے نماز کو اختیار کیا پھر ان کی ماں نے کہا اے اللہ! یہ جریج میرا
بیٹا ہے میں اس سے بات کرتی ہوں تو یہ میرے ساتھ بات کرنے سے انکار کردیتا ہے اے اللہ
ابن جریج کو اس وقت تک موت نہ دینا جب تک کہ یہ بدکار عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے آپ
ﷺ نے فرمایا اگر جریج کی ماں اس پر یہ دعا کرتی کہ وہ فتنہ میں پڑجائے تو وہ فتنے میں
مبتلا ہوجاتا آپ ﷺ نے فرمایا بھیڑوں کا ایک چرواہا تھا جو جریج کے عبادت خانہ میں ٹھہرتا
تھا (ایک دن) گاؤں سے ایک عورت نکلی تو اس چرواہے نے اس عورت کے ساتھ برا کام کیا تو
وہ عورت حاملہ ہوگئی (جس کے نتیجہ میں) اس عورت کے ہاں ایک لڑکے کی ولادت ہوئی تو اس
عورت سے پوچھا گیا کہ یہ لڑکا کہاں سے لائی ہے اس عورت نے کہا اس عبادت خانہ میں جو
رہتا ہے یہ اس کا لڑکا ہے (یہ سنتے ہی اس گاؤں کے لوگ) پھاؤڑے لے کر آئے اور انہیں
(جریج کو) آواز دی وہ نماز میں تھے انہوں نے کوئی بات نہ کی تو لوگوں نے اس کا عبادت
خانہ گرانا شروع کردیا جب جریج نے یہ ماجرا دیکھا تو وہ اترا لوگوں نے اس سے کہا کہ
اس عورت سے پوچھ یہ کیا کہتی ہے جریج ہنسا اور پھر اس نے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور
اس نے کہا تیرا باپ کون ہے؟ اس بچے نے کہا میرا باپ بھیڑوں کا چراوہا ہے جب لوگوں نے
اس بچے کی آواز سنی تو وہ کہنے لگے کہ ہم نے آپ کا جتنا عبادت خانہ گرایا ہے ہم اس
کے بدلے میں سونے اور چاندی کا عبادت خانہ بنا دیتے ہیں جریج نے کہا نہیں بلکہ تم اسے
پہلے کی طرح مٹی ہی کا بنادو اور پھر ابن جریج اوپر چلے گئے۔مسلم
باپ کے دوست
کے ساتھ حسن سلوک کرنا
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ
الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ
اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَعْرَابِ لَقِيَهُ بِطَرِيقِ مَکَّةَ
فَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ وَحَمَلَهُ عَلَی حِمَارٍ کَانَ يَرْکَبُهُ وَأَعْطَاهُ
عِمَامَةً کَانَتْ عَلَی رَأْسِهِ فَقَالَ ابْنُ دِينَارٍ فَقُلْنَا لَهُ
أَصْلَحَکَ اللَّهُ إِنَّهُمْ الْأَعْرَابُ وَإِنَّهُمْ يَرْضَوْنَ بِالْيَسِيرِ
فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ أَبَا هَذَا کَانَ وُدًّا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ
إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْوَلَدِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آدمی مکہ مکرمہ کے راستے میں ان سے ملا۔
حضرت عبداللہ نے اس دیہاتی پر سلام کیا اور اسے اپنے گدھے پر سوار کرلیا جس پر وہ سوار
تھے اور اسے عمامہ عطا کیا جو ان کے اپنے سر پر تھا حضرت ابن دینار نے کہا ہم نے ان
سے کہا اللہ آپ کو بہتر بدلہ عطا فرمائے وہ دیہاتی لوگ ہیں جو تھوڑی سی چیز پر راضی
ہوجاتے ہیں حضرت عبداللہ نے فرمایا اس دیہاتی کا باپ حضرت عمر بن خطاب کا دوست تھا
اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرماتے ہیں بیٹے کی نیکیوں میں سے سب سے بڑی
نیکی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے۔مسلم
نیکیوں میں
سے سب سے بڑی نیکی
دَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ
إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ جَمِيعًا عَنْ
يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ
بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَی مَکَّةَ کَانَ
لَهُ حِمَارٌ يَتَرَوَّحُ عَلَيْهِ إِذَا مَلَّ رُکُوبَ الرَّاحِلَةِ وَعِمَامَةٌ
يَشُدُّ بِهَا رَأْسَهُ فَبَيْنَا هُوَ يَوْمًا عَلَی ذَلِکَ الْحِمَارِ إِذْ
مَرَّ بِهِ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ أَلَسْتَ ابْنَ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ قَالَ بَلَی
فَأَعْطَاهُ الْحِمَارَ وَقَالَ ارْکَبْ هَذَا وَالْعِمَامَةَ قَالَ اشْدُدْ بِهَا
رَأْسَکَ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ أَعْطَيْتَ هَذَا
الْأَعْرَابِيَّ حِمَارًا کُنْتَ تَرَوَّحُ عَلَيْهِ وَعِمَامَةً کُنْتَ تَشُدُّ
بِهَا رَأْسَکَ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَبَرِّ الْبِرِّ صِلَةَ الرَّجُلِ أَهْلَ وُدِّ
أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ وَإِنَّ أَبَاهُ کَانَ صَدِيقًا لِعُمَرَ
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ کی طرف جاتے تو اپنے گدھے کو آسانی
کے لئے ساتھ رکھتے تھے جب اونٹ کی سواری سے اکتا جاتے تو گدھے پر سوار ہوجاتے اور اپنے
سر پر عمامہ باندھتے تھے ایک دن حضرت ابن عمر ؓ اپنے اسی گدھے پر سوار تھے اس کے پاس
سے ایک دیہاتی آدمی گزرا تو حضرت ابن عمر ؓ نے اس دیہاتی سے فرمایا کیا تو فلاں بن
فلاں کا بیٹا نہیں ہے؟ اس نے عرض کیا کیوں نہیں آپ نے اس دیہاتی کو اپنا گدھا دے دیا
اور اسے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجا اور اسے عمامہ دے کر فرمایا کہ اسے اپنے سر پر باندھ
لے تو آپ سے آپ کے بعض ساتھیوں نے کہا: اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، آپ نے اس دیہاتی آدمی
کو گدھا عطا کردیا حالانکہ آپ نے اسے اپنی سہولت کے لئے رکھا ہوا تھا اور عمامہ جسے
آپ اپنے سر پر باندھتے تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ
ﷺ فرماتے تھے کہ نیکیوں میں سب سے بڑی نیکی آدمی کا اپنے باپ کی وفات کے بعد اس کے
دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے اور اس دیہاتی کا باپ حضرت عمر ؓ کا دوست تھا۔مسلم
جہاد اور
والدین کی خدمت
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ
وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا
السَّمْحِ حَدَّثَهُ، عَنْأَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ
الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْيَمَنِ فَقَالَ: هَلْ لَكَ أَحَدٌ بِالْيَمَنِ،
قَالَ: أَبَوَايَ، قَالَ: أَذِنَا لَكَ، قَالَ:
لَا، قَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَاسْتَأْذِنْهُمَا، فَإِنْ
أَذِنَا لَكَ فَجَاهِدْ وَإِلَّا فَبِرَّهُمَا.
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی
رسول اللہ ﷺ کے پاس یمن سے ہجرت کر کے آیا، آپ نے اس سے فرمایا: کیا یمن میں تمہارا کوئی ہے؟ اس نے کہا: ہاں، میرے ماں باپ ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: انہوں نے تمہیں اجازت دی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ان کے پاس واپس جاؤ اور اجازت لو، اگر وہ اجازت
دیں تو جہاد کرو ورنہ ان دونوں کی خدمت کرو۔ابوداؤد
والد کے
احسانات کا بدلہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ:
حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا
فَيَشْتَرِيَهُ، فَيُعْتِقَهُ.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیٹا اپنے والد کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا
سوائے اس کے کہ وہ اسے غلام پائے پھر اسے خرید کر آزاد کر دے ۔ ابوداؤد
والدین کے
حقوق میں سے ماں کا درجہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ
بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبَرُّ ؟ قَالَ: أُمَّكَ،
ثُمَّ أُمَّكَ، ثُمَّ أُمَّكَ، ثُمَّ أَبَاكَ، ثُمَّ
الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَسْأَلُ رَجُلٌ مَوْلَاهُ مِنْ فَضْلٍ هُوَ
عِنْدَهُ، فَيَمْنَعُهُ إِيَّاهُ إِلَّا دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
فَضْلُهُ الَّذِي مَنَعَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ:
الْأَقْرَعُ: الَّذِي ذَهَبَ شَعْرُ رَأْسِهِ مِنَ السُّمِّ.
معاویہ بن حیدہ قشیری ؓ کہتے ہیں کہ میں
نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی
ماں کے ساتھ، پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر جو قریبی رشتہ دار ہوں ان کے ساتھ، پھر جو
اس کے بعد قریب ہوں ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جو شخص اپنے غلام سے وہ مال مانگے، جو اس کی حاجت سے زیادہ ہو اور وہ اسے نہ
دے تو قیامت کے دن اس کا وہ فاضل مال جس کے دینے سے اس نے انکار کیا ایک گنجے سانپ
کی صورت میں اس کے سامنے لایا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: أقرع سے وہ سانپ مراد ہے
جس کے سر کے بال زہر کی تیزی کے سبب جھڑ گئے ہوں۔ ابوداؤد
رشتے داروں
میں ماں کے ساتھ حسن سلوک مقدم رکھنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ،
حَدَّثَنَا كُلَيْبُ بْنُ مَنْفَعَةَ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ
أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا
رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبَرُّ ؟ قَالَ: أُمَّكَ، وَأَبَاكَ،
وَأُخْتَكَ، وَأَخَاكَ، وَمَوْلَاكَ الَّذِي يَلِي، ذَاكَ
حَقٌّ وَاجِبٌ، وَرَحِمٌ مَوْصُولَةٌ.
بکر بن حارث (کلیب کے دادا) ؓ کہتے ہیں کہ
وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کس کے
ساتھ حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: اپنی ماں،
اور اپنے باپ، اور اپنی بہن اور اپنے بھائی کے ساتھ، اور ان کے بعد اپنے غلام کے ساتھ،
یہ ایک واجب حق ہے، اور ایک جوڑنے والی (رحم) قرابت داری ہے ۔ ابوداؤد
مرحوم
والدین کے حقوق
دَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي
شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ الْمَعْنَى، قَالُوا:
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ
سُلَيْمَانَ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ مَوْلَى بَنِي
سَاعِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ
السَّاعِدِيِّ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ،
فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ
شَيْءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا ؟ قَالَ: نَعَمْ،
الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا، وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا،
وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا، وَصِلَةُ الرَّحِمِ
الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا.
ابواسید مالک بن ربیعہ ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران بنو سلمہ کا
ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ کے مرجانے کے بعد بھی
ان کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہے، ان کے لیے دعا اور استغفار
کرنا، ان کے بعد ان کی وصیت و اقرار کو نافذ کرنا، جو رشتے انہیں کی وجہ سے جڑتے ہیں،
انہیں جوڑے رکھنا، ان کے دوستوں کی خاطر مدارات کرنا (ان حسن سلوک کی یہ مختلف صورتیں ہیں) ۔ ابوداؤد
رضاعی ماں
کے حقوق
دَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ،
قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ
ثَوْبَانَ، أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ، أَنَّأَبَا
الطُّفَيْلِ أَخْبَرَهُ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لَحْمًا بِالْجِعِرَّانَةِ، قَالَ أَبُو
الطُّفَيْلِ: وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ أَحْمِلُ عَظْمَ الْجَزُورِ،
إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ حَتَّى دَنَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَسَطَ لَهَا رِدَاءَهُ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ،
فَقُلْتُ: مَنْ هِيَ ؟ فَقَالُوا: هَذِهِ أُمُّهُ الَّتِي
أَرْضَعَتْهُ.
ابوالطفیل ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جعرانہ
میں گوشت تقسیم کرتے دیکھا، ان دنوں میں لڑکا تھا، اور اونٹ کی ہڈیاں ڈھو رہا تھا،
کہ اتنے میں ایک عورت آئی، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے قریب
ہوگئی، آپ نے اس کے لیے اپنی چادر بچھا دی، جس پر وہ بیٹھ گئی، ابوطفیل کہتے ہیں: میں
نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: یہ آپ کی رضاعی ماں ہیں، جنہوں نے آپ کو دودھ
پلایا ہے۔ ابوداؤد
رضاعی باپ
کے حقوق
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ
وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عُمَرَ
بْنَ السَّائِبِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ جَالِسًا، فَأَقْبَلَ أَبُوهُ مِنَ
الرَّضَاعَةِ فَوَضَعَ لَهُ بَعْضَ ثَوْبِهِ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ
أَقْبَلَتْ أُمُّهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَوَضَعَ لَهَا شِقَّ ثَوْبِهِ مِنْ
جَانِبِهِ الْآخَرِ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ أَخُوهُ مِنَ
الرَّضَاعَةِ، فَقَامَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ.
عمر بن سائب کا بیان ہے کہ انہیں یہ بات
پہنچی ہے کہ (ایک دن) رسول اللہ
ﷺ تشریف فرما تھے کہ اتنے میں آپ کے
رضاعی باپ آئے، آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا ایک کونہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئے،
پھر آپ کی رضاعی ماں آئیں آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا دوسرا کنارہ بچھا دیا، وہ اس
پر بیٹھ گئیں، پھر آپ کے رضاعی بھائی آئے تو آپ کھڑے ہوگئے اور انہیں اپنے سامنے بٹھایا۔ابوداؤد
باپ کی
ناراضگی میں اللہ کی ناراضگی
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ
الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قَالَ: رِضَا الرَّبِّ فِي رِضَا
الْوَالِدِ، وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ ،
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی
اکرم ﷺ
نے فرمایا: رب کی رضا والد کی رضا میں
ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے ۔ ترمذی
خالہ مثل
ماں کے ہے
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ إِسْرَائِيلَ. ح
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ وَهُوَ ابْنُ مَدُّوَيْهِ،
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، وَاللَّفْظُ
لِحَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ
الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قَالَ: الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ
الْأُمِّ ، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ، وَهَذَا حَدِيثٌ
صَحِيحٌ.
براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خالہ ماں کے درجہ میں ہے ، اس حدیث میں ایک طویل
قصہ ہے۔ ترمذی
چچا مثل باپ
کے ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو
عَوَانَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ
الْمُطَّلِبِ أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ دَخَلَ عَلَی رَسُولِ
اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالَ
مَا أَغْضَبَکَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ إِذَا
تَلَاقَوْا بَيْنَهُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبْشَرَةٍ وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا
بِغَيْرِ ذَلِکَ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ حَتَّی احْمَرَّ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا
يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّی يُحِبَّکُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ
ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ آذَی عَمِّي فَقَدْ آذَانِي فَإِنَّمَا
عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ
حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب
فرماتے ہیں کہ حضرت عباس نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس غضبناک حالت
میں آئے میں بھی وہاں موجود تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (کیا بات
ہے) کیوں غصہ میں ہیں ؟ عرض کیا یا رسول اللہ ! قریش کو ہم سے کیا دشمنی ہے کہ جب
وہ آپس میں ملتے ہیں تو خوش ہو کر ملتے ہیں۔ اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اور طرح
ملتے ہیں۔ اس پر نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی غصہ آگیا، یہاں تک کہ
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ انور سرخ ہوگیا۔ پھر فرمایا اس ذات کی قسم
جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تم میں سے کسی شخص کے دل میں ایمان اس وقت تک
داخل نہیں ہوسکتا جب تک وہ تمہیں، اللہ اور اس کے رسول کے لیے محبوب نہ رکھے۔ پھر
فرمایا اے لوگو ! جس نے میرے چچا کو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی،
کیونکہ چچا باپ
کی طرح ہوتا ہے۔ترمذی
باپ کے
احسانات کا بدلہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ
سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدًا إِلَّا أَنْ
يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى:
هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلِ بْنِ
أَبِي صَالِحٍ، وَقَدْ رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُ
وَاحِدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ هَذَا الْحَدِيثَ.
بوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی لڑکا اپنے باپ کا احسان نہیں چکا سکتا ہے سوائے
اس کے کہ اسے (یعنی باپ کو) غلام پائے اور خرید کر آزاد کر دے۔ترمذی
باپ کی طرف
سے حج عمرہ کرنا
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا
وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ
عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهُ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ کَبِيرٌ لَا
يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ قَالَ حُجَّ عَنْ أَبِيکَ
وَاعْتَمِرْ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَإِنَّمَا ذُکِرَتْ
الْعُمْرَةُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
أَنْ يَعْتَمِرَ الرَّجُلُ عَنْ غَيْرِهِ وَأَبُو رَزِينٍ الْعُقَيْلِيُّ اسْمُهُ
لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ
حضرت ابورزین عقیلی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی
اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے والد بہت بوڑھے ہیں نہ حج کرسکتے ہیں نہ عمرہ اور
نہ سواری پر بیٹھنے کے قابل ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اپنے باپ کی طرف سے
حج اور عمرہ کرلو۔ترمذی
باپ کی بیوی سے شادی کرنے پر عتاب
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ
الْبَرَائِ قَالَ مَرَّ بِي خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ وَمَعَهُ لِوَائٌ
فَقُلْتُ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ إِلَی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ آتِيَهُ بِرَأْسِهِ
حضرت براء (رض) روایت ہے کہ میرے ماموں ابوبردہ بن
نیار میرے پاس سے گزرے تو ان کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا میں نے پوچھا کہاں جا رہے
ہو انھوں نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایک ایسے آدمی کا
سر لانے کا حکم دیا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلی ہے۔ترمذی
باپ کی قسم کھانے سے ممانعت
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ
عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَکَ عُمَرَ وَهُوَ فِي رَکْبٍ
وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاکُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِکُمْ لِيَحْلِفْ
حَالِفٌ بِاللَّهِ أَوْ لِيَسْکُتْ
ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کو ایک قافلے میں باپ کی قسم کھاتے ہوئے پایا تو
فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباء کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے اگر کوئی قسم
کھانا چاہے تو اللہ ہی کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔ترمذی
باپ کی
بددعاسے بچو
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا
إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ يَحْيَی بْنِ
أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا
شَکَّ فِيهِنَّ دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَدَعْوَةُ
الْوَالِدِ عَلَی وَلَدِهِ
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین دعائیں مقبول ہوتی ہیں ان میں کوئی شک نہیں
ہے: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور بیٹے کے اوپر باپ کی بد دعا۔ترمذی
باپ جنت کا
درمیانی دروازہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ
عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي
الدَّرْدَاءِ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
يَقُولُ: الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، فَأَضِعْ ذَلِكَ
الْبَابَ أَوِ احْفَظْهُ.
ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی
اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: باپ جنت کا درمیانی
دروازہ ہے، چاہے تم اس دروازے کو ضائع کر دو، یا اس کی حفاظت کرو۔ابن ماجہ
والدین کو صدقہ
دینا جائز نہیں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ
: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا السَّکَنُ بْنُ أَبِی السَّکَنِ حَدَّثَنَا
عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُخْتَارِ قَالَ قَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ
اللَّہُ عَنْہُ : لَیْسَ لِوَلَدٍ وَلاَ لِوَالِدٍ حَقٌّ فِی صَدَقَۃٍ مَفْرُوضَۃٍ
وَمَنْ کَانَ لَہُ وَلَدٌ أَوْ وَالِدٌ فَلَمْ یَصِلْہُ فَہُوَ عَاقٌّ۔
علی بن ابو طالب ؓ فرماتے ہیں کہ کسی
اولاد یا والد کا فرضی صدقے میں حق نہیں ہے اور جس کی اولاد ہو یا والد ہو وہ صلہ رحمی
نہیں کرتا تو وہ نافرمان ہے۔سنن کبری بیہقی
والدین کی
خدمت بھی اللہ کا راستہ
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو
الطَّیِّبِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّعِیرِیُّ حَدَّثَنَا مَحْمِشُ
بْنُ عِصَامٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ
طَہْمَانَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ صُہَیْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ
اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- تَبُوکًا
فَمَرَّ بِنَا شَابٌّ نَشِیطٌ یَسُوقُ غُنَیْمَۃً لَہُ فَقُلْنَا : لَوْ کَانَ
شَبَابُ ہَذَا وَنَشَاطُہُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ کَانَ خَیْرًا لَہُ مِنْہَا
فَانْتَہَی قَوْلُنَا حَتَّی بَلَغَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : مَا قُلْتُمْ؟
قُلْنَا: کَذَا وَکَذَا۔ قَالَ: أَمَا إِنَّہُ إِنْ کَانَ یَسْعَی عَلَی
وَالِدَیْہِ أَوْ أَحَدِہِمَا فَہُوَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَإِنْ کَانَ یَسْعَی
عَلَی عِیَالٍ یَکْفِیہِمْ فَہُوَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَإِنْ کَانَ یَسْعَی عَلَی
نَفْسِہِ فَہُوَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ (مل کر) غزوہ تبوک لڑا ہمارے
ساتھ سے ایک پھرتیلا نوجوان گزرا۔ اس کے ساتھ اس کی بکریاں تھیں۔ ہم نے کہا: کاش اس
کی جوانی اور اس کی بہادری اللہ کے راستے میں ہوتی۔ یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہوتا۔
ہماری بات ختم ہوئی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا۔ آپ نے فرمایا: تم نے کیا کہا: ہم
نے کہا: ہم نے اس طرح اس طرح کہا۔ آپ نے فرمایا: اگر یہ اپنے والدین یا ان میں سے کسی
ایک (کی خدمت) پر کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے۔ اگر یہ اپنے اہل و عیال
کی کفالت کے لیے کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے۔ اگر یہ اپنے نفس پر (قابو
پانے کی ) کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے۔ سنن کبریٰ للبیہقی
اولاد کی کمائی
پر باپ کا حق
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا
عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ عُمَارَۃَ
بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ أُمِّہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ
النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ کَسْبِہِ مِنْ أَطْیَبِ کَسْبِہِ
فَکُلُوا مِنْ أَمْوَالِہِمْ
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا بیٹا اس کی کمائی میں سے ہے اس
کی زیادہ پاکیزہ کمائی میں سے ہے۔ تم ان کے مالوں میں سے کھاؤ۔
اگر باپ
اولاد کا مال لینا چاہے تو
خْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا
أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْخُرَاسَانِیِّ حَدَّثَنَا
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ
سَعِیدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ الأَخْنَسِ عَنْ عَمْرِو
بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَتَی رَسُولَ
اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ إِنَّ أَبِی یُرِیدُ أَنْ یَجْتَاحَ مَالِی۔ قَالَ :
أَنْتَ وَمَالُکَ لِوَالِدِکَ إِنَّ أَطْیَبَ مَا أَکَلْتُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ
فَکُلُوہُ ہَنِیئًا ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول
اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ اس نے کہا: میرا باپ میرے مال کو لینا چاہتا ہے۔ آپ نے فرمایا:
تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے اور زیادہ پاک جو تم کھاتے ہو تمہاری کمائی ہے۔ تم
اس کو آسانی کے ساتھ کھاؤ۔
نماز
کے بعد محبوب ترین عمل
الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ أَخْبَرَنِي
قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ يَقُولُ حَدَّثَنَا صَاحِبُ هَذِهِ
الدَّارِ وَأَشَارَ إِلَی دَارِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّی
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللَّهِ قَالَ
الصَّلَاةُ عَلَی وَقْتِهَا قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ
قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ
وَلَوْ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي
ابوعمر شیبانی نے عبداللہ بن مسعود (رض) کے
گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سے اس گھر کے مالک نے بیان کیا کہ میں نے
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک کون سا عمل زیادہ محبوب
ہے ؟ آپ نے فرمایا اپنے وقت میں نماز پڑھنا، ابن مسعود (رض) نے کہا کہ اس کے بعد
کون (سا عمل محبوب ہے) آپ نے فرمایا اس کے بعد والدین کی اطاعت کرنا، ابن مسعود نے کہا کہ اس کے بعد کون (سا
عمل محبوب ہے) آپ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، ابن مسعود کہتے ہیں کہ
آپ نے مجھ سے اسی قدر بیان فرمایا : اور اگر میں آپ سے زیادہ پوچھتا تو (امید تھی
کہ) آپ زیادہ بیان فرما دیتے۔۔بخاری
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ أَوْ الْعَمَلِ
الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ
عبداللہ سے روایت ہے کہ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اعمال یا عمل میں سب سے افضل عمل
نماز اپنے وقت پر پڑھنا اور
والدین کے ساتھ نیکی کرنا ہے۔ مسلم
والدین کی خدمت اللہ کی بارگاہ میں بطور وسیلہ
أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ
عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
يَقُولُ انْطَلَقَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حَتَّی أَوَوْا
الْمَبِيتَ إِلَی غَارٍ فَدَخَلُوهُ فَانْحَدَرَتْ صَخْرَةٌ مِنْ الْجَبَلِ
فَسَدَّتْ عَلَيْهِمْ الْغَارَ فَقَالُوا إِنَّهُ لَا يُنْجِيکُمْ مِنْ هَذِهِ
الصَّخْرَةِ إِلَّا أَنْ تَدْعُوا اللَّهَ بِصَالِحِ أَعْمَالِکُمْ فَقَالَ رَجُلٌ
مِنْهُمْ اللَّهُمَّ کَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ کَبِيرَانِ وَکُنْتُ لَا
أَغْبِقُ قَبْلَهُمَا أَهْلًا وَلَا مَالًا فَنَأَی بِي فِي طَلَبِ شَيْئٍ يَوْمًا
فَلَمْ أُرِحْ عَلَيْهِمَا حَتَّی نَامَا فَحَلَبْتُ لَهُمَا غَبُوقَهُمَا
فَوَجَدْتُهُمَا نَائِمَيْنِ وَکَرِهْتُ أَنْ أَغْبِقَ قَبْلَهُمَا أَهْلًا أَوْ
مَالًا فَلَبِثْتُ وَالْقَدَحُ عَلَی يَدَيَّ أَنْتَظِرُ اسْتِيقَاظَهُمَا حَتَّی
بَرَقَ الْفَجْرُ فَاسْتَيْقَظَا فَشَرِبَا غَبُوقَهُمَا اللَّهُمَّ إِنْ کُنْتُ
فَعَلْتُ ذَلِکَ ابْتِغَائَ وَجْهِکَ فَفَرِّجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ مِنْ
هَذِهِ الصَّخْرَةِ فَانْفَرَجَتْ شَيْئًا لَا يَسْتَطِيعُونَ الْخُرُوجَ قَالَ
النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الْآخَرُ اللَّهُمَّ
کَانَتْ لِي بِنْتُ عَمٍّ کَانَتْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ فَأَرَدْتُهَا عَنْ
نَفْسِهَا فَامْتَنَعَتْ مِنِّي حَتَّی أَلَمَّتْ بِهَا سَنَةٌ مِنْ السِّنِينَ
فَجَائَتْنِي فَأَعْطَيْتُهَا عِشْرِينَ وَمِائَةَ دِينَارٍ عَلَی أَنْ تُخَلِّيَ
بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِهَا فَفَعَلَتْ حَتَّی إِذَا قَدَرْتُ عَلَيْهَا قَالَتْ
لَا أُحِلُّ لَکَ أَنْ تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ فَتَحَرَّجْتُ مِنْ
الْوُقُوعِ عَلَيْهَا فَانْصَرَفْتُ عَنْهَا وَهِيَ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ وَتَرَکْتُ
الذَّهَبَ الَّذِي أَعْطَيْتُهَا اللَّهُمَّ إِنْ کُنْتُ فَعَلْتُ ابْتِغَائَ
وَجْهِکَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ فَانْفَرَجَتْ الصَّخْرَةُ غَيْرَ
أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ الْخُرُوجَ مِنْهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الثَّالِثُ اللَّهُمَّ إِنِّي اسْتَأْجَرْتُ أُجَرَائَ
فَأَعْطَيْتُهُمْ أَجْرَهُمْ غَيْرَ رَجُلٍ وَاحِدٍ تَرَکَ الَّذِي لَهُ وَذَهَبَ
فَثَمَّرْتُ أَجْرَهُ حَتَّی کَثُرَتْ مِنْهُ الْأَمْوَالُ فَجَائَنِي بَعْدَ
حِينٍ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَدِّ إِلَيَّ أَجْرِي فَقُلْتُ لَهُ کُلُّ مَا
تَرَی مِنْ أَجْرِکَ مِنْ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ وَالرَّقِيقِ فَقَالَ
يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَسْتَهْزِئُ بِي فَقُلْتُ إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ بِکَ
فَأَخَذَهُ کُلَّهُ فَاسْتَاقَهُ فَلَمْ يَتْرُکْ مِنْهُ شَيْئًا اللَّهُمَّ
فَإِنْ کُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِکَ ابْتِغَائَ وَجْهِکَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ
فِيهِ فَانْفَرَجَتْ الصَّخْرَةُ فَخَرَجُوا يَمْشُونَ
عبداللہ بن عمر نے کہا کہ
میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم سے پہلی امت
میں سے تین آدمی راستہ چل رہے تھے یہاں تک کہ ایک غار میں رات کو پناہ لینے کے لیے
داخل ہوئے پہاڑ سے ایک چٹان آکر گری جس نے غار کا منہ بند کردیا ان لوگوں نے آپس
میں کہنا شروع کیا کہ تم اس چٹان سے نجات نہیں پاسکتے بجز اس صورت کے کہ اللہ سے
اپنے بہترین عمل کے واسطہ سے دعا کرو اس میں سے ایک آدمی نہ کہا کہ اے اللہ میرے والدین بہت بوڑھے تھے اور
میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا نہ بیوی بچوں کو اور نہ لونڈی غلاموں کو
ایک دن کسی چیز کی تلاش میں میں بہت دور چلا گیا میں ان کے پاس اس وقت واپس ہوا کہ
دونوں سو چکے تھے میں نے ان دونوں کے لیے دودھ دوہا تو میں نے ان کو سویا ہوا پایا
اور مجھے ناپسند تھا کہ ان سے پہلے بیوی بچوں یا لونڈی غلاموں کو پلاؤں چنانچہ میں
ٹھہرا رہا اور پیالہ میرے ہاتھ میں تھا میں ان کے جاگنے کا انتظار کررہا تھا یہاں
تک کہ صبح ہوگئی تو وہ بیدار ہوئے اور دودھ پیا اے میرے اللہ اگر میں نے یہ صرف
تیری رضا کی خاطر کیا ہے تو ہم سے اس مصیبت کو دور کر دے جس میں اس چٹان کے سبب سے
ہم گرفتار ہیں وہ چٹان کچھ ہٹ گئی لیکن وہ نکل نہیں سکتے تھے نبی (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) نے فرمایا اور دوسرے نے کہا اے میرے اللہ میری ایک چچا زاد بہن تھی وہ
مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب تھی میں نے اس سے برا کام چاہا لیکن وہ رکی رہی
یعنی راضی نہ ہوئی یہاں تک کہ ایک سال سخت ضرورت سے دوچار ہوئی تو وہ میرے پاس آئی
میں نے اسے ایک سو بیس دینار دئیے اس شرط پر کہ وہ میرے اور اپنی ذات کے درمیان
حائل نہ ہو یعنی ہم بستر ہونے دے وہ راضی ہوگئی یہاں تک کہ جب میں اس پر قادر ہوا
تو اس نے کہا کہ میں تجھے اس کی اجازت نہیں دیتی کہ تو مہر کو ناحق توڑے چنانچہ
میں نے اس سے ہم بستر ہونے کو گناہ سمجھا اور اس سے الگ ہوگیا حالانکہ وہ مجھ کو
تمام لوگوں سے پیاری تھی اور میں نے وہ سونا بھی چھوڑ دیا جو اس کو میں نے دیا تھا
اے میرے معبود اگر میں نے یہ صرف تیری رضا کے لیے کیا ہے تو ہم سے اس مصیبت کو دور
کر جس میں ہم مبتلا ہیں تو چٹان کچھ ہٹ گئی لیکن باہر نہیں نکل سکتے تھے نبی (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور تیسرے آدمی نے کہا کہ اے میرے اللہ میں نے چند
مزدور کام پر لگائے تھے میں نے ان کو ان کی مزدوری دی مگر ایک شخص اپنی مزدوری
چھوڑ کر چلا گیا میں نے اس کی مزدوری کو بڑھانا شروع کیا یہاں تک کہ اس سے بہت
زیادہ مال حاصل ہوا ایک مدت کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے بندے مجھے
میری مزدوری دے میں نے کہا کہ یہ اونٹ گائے بکری اور غلام جو کچھ تو دیکھ رہا ہے
یہ سب تیرے ہیں اس نے کہا اے اللہ کے بندے تو مجھ سے مذاق نہ کر میں نے کہا میں
تجھ سے مذاق نہیں کرتا چنانچہ اس نے ساری چیزیں لے لیں اور چلا گیا اس میں سے کچھ بھی
نہ چھوڑا اے میرے اللہ اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضا کی خاطر کیا تھا تو ہم سے
اس مصیبت کو دور کر جس میں ہم مبتلا ہیں چنانچہ وہ چٹان ہٹ گئی اور وہ لوگ باہر
نکل کر چلنے لگے۔ بخاری
والدین
کی نا فرمانی کبیر ہ گناہ
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ
النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْکَبَائِرِ قَالَ
الْإِشْرَاکُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَشَهَادَةُ
الزُّورِ تَابَعَهُ غُنْدَرٌ وَأَبُو عَامِرٍ وَبَهْزٌ وَعَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ
شُعْبَةَ
حضرت انس (رض) سے روایت
کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کبائر کے متعلق دریافت کیا گیا تو
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا اور والدین کی نافرمانی کرنا کسی
آدمی کا قتل کرنا جھوٹی گواہی دینا غندر ابوعامر بہز اور عبدالصمد نے بھی شعبہ سے
اس کی متابعت میں روایت کی ہے۔بخاری
أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْکَبَائِرُ ح و
حَدَّثَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ابْنِ أَبِي
بَکْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ أَکْبَرُ الْکَبَائِرِ الْإِشْرَاکُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ
وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَوْلُ الزُّورِ أَوْ قَالَ وَشَهَادَةُ الزُّورِ
حضرت انس (رض) سے روایت
کرتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ کبیرہ گناہ (یہ ہیں)
(دوسری سند) عمر، شعبہ، ابن ابی بکر، حضرت انس بن مالک (رض) روایت کرتے ہیں نبی
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں،
اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا اور جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا۔ یا
فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا۔ بخاری
والدین
کی خدمت اور جہاد
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ
بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
أُجَاهِدُ قَالَ لَکَ أَبَوَانِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے
ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کیا میں جہاد کروں، آپ
نے پوچھا کہ تیرے والدین ہیں،
اس نے جواب دیا ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو ان دونوں میں
جہاد کر (یعنی خدمت کر) ۔ بخاری
اپنے
والدین پر لعنت کرنا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ
اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
إِنَّ مِنْ أَکْبَرِ الْکَبَائِرِ أَنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قِيلَ يَا
رَسُولَ اللَّهِ وَکَيْفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ يَسُبُّ الرَّجُلُ
أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے
ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ
کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت کرے،
کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آدمی اپنے ماں باپ پر کس طرح لعنت کرسکتا ہے، آپ
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ایک آدمی دوسرے کے باپ کو گالی دے تو وہ
اس کے ماں اور باپ کو گالی دے گا۔ بخاری
حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ
قَالَ کُنْتُ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ مَا
کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَيْکَ قَالَ
فَغَضِبَ وَقَالَ مَا کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ
إِلَيَّ شَيْئًا يَکْتُمُهُ النَّاسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ حَدَّثَنِي بِکَلِمَاتٍ
أَرْبَعٍ قَالَ فَقَالَ مَا هُنَّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ قَالَ لَعَنَ
اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ
وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَی مُحْدِثًا وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ
الْأَرْضِ
حضرت ابوالطفیل عامر بن
واثلہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی (رض) بن ابی طالب کے پاس تھا کہ ایک آدمی
آیا اور اس نے عرض کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو چھپا کر کیا بتاتے تھے
؟ حضرت علی (رض) غصہ میں آگئے اور فرمایا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے
مخفی طور پر کوئی ایسی چیز نہیں بتائی تھی کہ جو دوسرے لوگوں کو نہ بتائی ہو سوائے
اس کے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے چار باتیں ارشاد فرمائی ہیں اس
آدمی نے عرض کیا اے امیر المومنین وہ کیا ہیں ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا ایسے آدمی
پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے کہ جو آدمی اپنے والدین پر لعنت کرتا ہے ایسے آدمی پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے کہ
جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی تعظیم کے لیے ذبح کرے اور ایسے آدمی پر بھی
اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے کہ جو کسی بدعتی آدمی کو پناہ دیتا ہے اور ایسے آدمی
پر بھی اللہ کی لعنت ہوتی ہے کہ جو آدمی زمین کی حدبندی کے نشانات کو مٹاتا ہے۔مسلم
اللہ
کی نافرمانی میں والدین کی اطاعت نہیں
حَدَّثَنَا سِمَاکُ
بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ نَزَلَتْ فِيهِ
آيَاتٌ مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ حَلَفَتْ أُمُّ سَعْدٍ أَنْ لَا تُکَلِّمَهُ أَبَدًا
حَتَّی يَکْفُرَ بِدِينِهِ وَلَا تَأْکُلَ وَلَا تَشْرَبَ قَالَتْ زَعَمْتَ أَنَّ
اللَّهَ وَصَّاکَ بِوَالِدَيْکَ وَأَنَا أُمُّکَ وَأَنَا آمُرُکَ بِهَذَا قَالَ
مَکَثَتْ ثَلَاثًا حَتَّی غُشِيَ عَلَيْهَا مِنْ الْجَهْدِ فَقَامَ ابْنٌ لَهَا
يُقَالُ لَهُ عُمَارَةُ فَسَقَاهَا فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَی سَعْدٍ فَأَنْزَلَ
اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ هَذِهِ الْآيَةَ وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ
بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاکَ عَلَی أَنْ تُشْرِکَ بِي وَفِيهَا
وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا
سماک بن حرب، حضرت مصعب بن
سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن مجید میں
سے کچھ آیات کریمہ نازل ہوئیں۔ راوی کہتے ہیں کہ ان کی والدہ نے قسم کھائی کہ وہ
اس سے کبھی بات نہیں کرے گی یہاں تک کہ وہ اپنے دین کا انکار کریں اور وہ نہ کھائے
گی اور نہ پئے گی وہ کہنے لگی اللہ نے تجھے اپنے والدین کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے اور میں تیری والدہ ہوں
اور میں تجھے اس بات کا حکم دیتی ہوں راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ تین دن تک اسی طرح
رہی یہاں تک کہ اس پر غشی طاری ہوگئی تو اس کا ایک بیٹا کھڑا ہوا جسے عمارہ کہا
جاتا ہے اس نے اپنی والدہ کو پانی پلایا تو حضرت سعد کو بد دعا دینے لگی تو اللہ
تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ اچھا
سلوک کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اگر وہ تجھ سے اس بات پر جھگڑا کریں کہ تو میرے ساتھ
اس کو شریک کرے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر۔مسلم
والدین کی خدمت پر ہجرت اور جہاد کا ثواب
أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ
الْعَاصِ قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَی نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ فَقَالَ أُبَايِعُکَ عَلَی الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ أَبْتَغِي
الْأَجْرَ مِنْ اللَّهِ قَالَ فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْکَ أَحَدٌ حَيٌّ قَالَ نَعَمْ
بَلْ کِلَاهُمَا قَالَ فَتَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنْ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ
فَارْجِعْ إِلَی وَالِدَيْکَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا
حضرت عبداللہ بن عمرو بن
العاص (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت
میں آیا اور اس نے عرض کیا میں ہجرت اور جہاد کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کے
ہاتھ پر) بیعت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر چاہتا ہوں آپ (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تیرے
والدین میں سے کوئی زندہ ہے اس نے عرض کیا جی ہاں بلکہ دونوں زندہ ہیں آپ
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم اللہ سے اس کا اجر چاہتے ہو اس نے عرض
کیا جی ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنے والدین کی طرف جا اور ان دونوں سے اچھا سلوک
کر۔ مسلم
والدین
پا کر بھی جنت حاصل نہ کر پانا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ
أَنْفُ قِيلَ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَنْ أَدْرَکَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ
الْکِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ کِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلْ الْجَنَّةَ
حضرت ابویوہرہ سے روایت ہے
کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ناک خاک آلود ہوگئی پھر ناک خاک آلود
ہوگئی پھر ناک خاک آلود ہوگئی عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول وہ کون آدمی ہے آپ (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس آدمی نے اپنے والدین میں سے ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا اور (ان کی
خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوا۔ مسلم
جو
والدین کو رلاے وہ والدین کو ہنسائے
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ جَائَ
رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ جِئْتُ
أُبَايِعُکَ عَلَی الْهِجْرَةِ وَتَرَکْتُ أَبَوَيَّ يَبْکِيَانِ فَقَالَ ارْجِعْ
عَلَيْهِمَا فَأَضْحِکْهُمَا کَمَا أَبْکَيْتَهُمَا
حضرت عبداللہ بن عمرو سے
روایت ہے کہ ایک شخص جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر
ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) سے ہجرت پر بیعت کرنے کی نیت سے حاضر ہوا ہوں اور میں نے اپنے والدین کو روتے ہوئے
چھوڑا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جا ان کے پاس واپس جا اور ان کو
ہنسا جس طرح تو نے ان کو رلایا۔ ابوداود
اپنے
باپ یا اپنی ماں پر لعنت کرنا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَکْبَرِ
الْکَبَائِرِ أَنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ
کَيْفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ يَلْعَنُ أَبَا الرَّجُلِ فَيَلْعَنُ
أَبَاهُ وَيَلْعَنُ أُمَّهُ فَيَلْعَنُ أُمَّهُ
حضرت عبداللہ بن عمر
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کبائر میں سب سے
بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ انسان اپنے والدین پر لعنت کرے۔ آپ سے کہا گیا یا رسول اللہ۔ آدمی اپنے والدین پر لعنت
کرتا ہے ؟ یہ کیسے ؟ فرمایا کہ انسان کسی آدمی کے باپ پر لعنت کرتا ہے وہ
اس کے باپ کو لعنت کرتا ہے اور جب کسی ماں کی لعنت کرتا ہے تو جواباً وہ اس کی ماں
پر لعنت کرتا ہے۔ ابوداود
والدین
کی وفات کے بعد ان کے ساتھ حسن سلوک کی صورت
عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِکِ بْنِ رَبِيعَةَ
السَّاعِدِيِّ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَائَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ
اللَّهِ هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْئٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ
مَوْتِهِمَا قَالَ نَعَمْ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا
وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ
إِلَّا بِهِمَا وَإِکْرَامُ صَدِيقِهِمَا
حضرت ابوسید مالک بن ربیعہ
الساعدی فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ
اس دوران بنی سلمہ کا ایک شخص آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) کیا میرے والدین کے ساتھ
حسن سلوک کوئی صورت باقی ہے کہ میں ان کی موت کے بعد ان کے ساتھ حسن سلوک کروں ؟
فرمایا کہ ہاں ان کے لیے دعا کرنا، استغفار کرنا اور ان کے بعد ان کی وصیت یا عہد
کو پورا کرنا اور ان کے متعلقین کے ساتھ صلہ رحمی کرنا جو انہی سے جڑے تھے اور ان
کے دوست کا اکرام کرنا۔ ابوداود
والدین
کے نافرمان سے اللہ کا ناراض ہونا
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ
أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ
لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْعَاقُّ
لِوَالِدَيْهِ وَالْمَرْأَةُ الْمُتَرَجِّلَةُ وَالدَّيُّوثُ وَثَلَاثَةٌ لَا
يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ وَالْمُدْمِنُ عَلَی الْخَمْرِ
وَالْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَی
سالم بن عبداللہ، عبداللہ
بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا
تین انسانوں کی جانب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہیں دیکھے گا۔ ایک تو وہ شخص جو والدین کی نافرمانی کرے
اور دوسرے وہ عورت جو کہ مردوں کا حلیہ بنائے اور تیسرے وہ دیوث شخص جو کہ بیوی کو
دوسرے کے پاس لے کر جائے اور تین انسان جنت میں داخل نہیں ہوں گے ایک تو نافرمانی
کرنے والا شخص یعنی والدین کی نافرمانی
کرنے والا شخص اور دوسرے ہمیشہ شراب پینے والا مسلمان اور تیسرے احسان کر کے
جتلانے والا ۔نسائی
حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت والدین کی محبت پر مقدم رکھنا
عَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا
يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ
أَحَدُکُمْ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ
أَجْمَعِينَ
قتادہ، انس سے روایت ہے کہ
رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوتا جس وقت تک کہ اس
کو میری محبت اپنی اولاد اور اپنے والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ نہ ہو۔ نسائی
صحابہ
رضوان اللہ علیہم اجمعین کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنے والدین قربان
کرنا
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ
لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ يَا جَابِرُ
قُلْتُ وَمَاذَا أَقْرَأُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ
اقْرَأْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ
فَقَرَأْتُهُمَا فَقَالَ اقْرَأْ بِهِمَا وَلَنْ تَقْرَأَ بِمِثْلِهِمَا
جابر بن عبداللہ سے روایت
ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے جابر ! پڑھو۔ میں نے عرض
کیا کیا پڑھوں ؟ میرے والدین آپ (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فدا ہوں یا رسول اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے
فرمایا۔ قُلْ
أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھو۔ میں نے ان دونوں کو
پڑھا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پڑھو تم ان جیسی (سورت) ہرگز نہ
پڑھو گے۔ نسائی
والدین
یا تو جنت یا تو دوزخ
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا
رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْوَالِدَيْنِ عَلَی وَلَدِهِمَا قَالَ هُمَا
جَنَّتُکَ وَنَارُکَ
حضرت ابوامامہ (رض) سے
روایت ہے کہ ایک مرد نے عرض کیا اے اللہ کے رسول والدین کا اولاد کے ذمہ کیا حق ہے ؟ فرمایا وہ تمہاری جنت ہیں
(یا) دوزخ ہیں۔ ابن ماجہ
والدین
کی قبر پر مغفرت کی دعا
وعن محمد بن النعمان
يرفع الحديث إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : " من زار قبر أبويه أو
أحدهما في كل جمعة غفر له وكتب برا
حضرت محمد بن نعمان یہ
حدیث نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہچاتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) نے فرمایا جو شخص ہر جمعہ کے روز یا ہفتہ میں کسی بھی دن اپنے ماں باپ یا ان
میں سے کسی ایک کی قبر پر جائے اور وہاں ان کے لیے دعائے مغفرت و ایصال ثواب کرے
تو اس کی مغفرت کی جاتی ہے اور اسے نامہ اعمال میں اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے والا لکھا جاتا
ہے۔مشکوۃ
اگر
نافرمان شخص کے والدین وفات پا جائیں
وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم
إن العبد ليموت والداه أو أحدهما وإنه لهما لعاق فلا يزال يدعو لهما ويستغفر لهما
حتى يكتبه الله بارا
حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب کسی ایسے بندے کے ماں باپ
مرجاتے ہیں یا ان دونوں میں سے کوئی ایک مرتا ہے جو ان کی نافرمانی کیا کرتا تھا
اور پھر ان کی موت کے بعد وہ ان کے لیے برابر دعا و استغفار کرتا ہے تو اللہ
تعالیٰ اس کو نیکوکار لکھ دیتا ہے۔مشکوۃ
والدین
کے نافرمان کو دنیا میں ہی سزا
وعن أبي بكرة رضي الله عنه قال قال رسول الله
صلى الله عليه وسلم كل الذنوب يغفر الله منها ما شاء إلا عقوق الوالدين فإنه يعجل
لصاحبه في الحياة قبل الممات
حضرت ابوبکرہ (رض) کہتے
ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شرک کے علاوہ تمام گناہ
ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے جس قدر چاہتا ہے بخش دیتا ہے مگر نافرمانی کے
گناہ کو نہیں بخشتا بلکہ اللہ تعالیٰ ماں باپ کی نافرمانی کرنے والے کو موت سے
پہلے اس کی زندگی میں ہی جلد ہی سزا دے دیتا ہے۔مشکوۃ
والدین
کا نافرمان جنت میں نہ جاے گا
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا
مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مُكَذِّبٌ بِقَدَرٍ
حضرت ابودردا سے مروی ہے
کہ نبی نے فرمایا جنت میں والدین
کا کوئی نافرمان، جادو پر ایمان رکھنے والا، عادی شراب خور اور تقدیر کو
جھٹلانے والا داخل نہ ہوگا۔ مسند احمد
قیامت
کے دن والدین کی تاج پوشی
عَنْ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَالَ سُبْحَانَ
اللَّهِ الْعَظِيمِ نَبَتَ لَهُ غَرْسٌ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ
فَأَكْمَلَهُ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ أَلْبَسَ وَالِدَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
تَاجًا هُوَ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتٍ مِنْ بُيُوتِ الدُّنْيَا
لَوْ كَانَتْ فِيهِ فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهِ
حضرت معاذ سے مروی ہے کہ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص سبحان اللہ العظیم کہے اس
کے لیے جنت میں ایک پودا لگادیا
جاتا ہے جو شخص مکمل قرآن کریم پڑھے اور اس پر عمل کر کے اس کے والدین کو قیامت
کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے بھی زیادہ ہوگی جبکہ
وہ کسی کے گھر کے آنگن میں اتر آئے تو اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جس
نے اس قرآن پر عمل کیا ہوگا۔مسند احمد
عمر
میں برکت رزق میں اضافے کا سبب
عَنْ أَنَسِ بْنِ
مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ
سَرَّهُ أَنْ يُمَدَّ لَهُ فِي عُمْرِهِ وَيُزَادَ لَهُ فِي رِزْقِهِ فَلْيَبَرَّ
وَالِدَيْهِ وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
حضرت انس (رض) سے مروی ہے
کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جس شخص کو یہ بات
پسند ہو کہ اس کی عمر میں برکت اور رزق میں اضافہ ہوجائے، اسے چاہیے کہ اپنے والدین کے ساتھ
حسن سلوک کرے اور صلہ رحمی کیا کرے۔ مسند احمد
والدین
کی فرمانبرداری پر چار نسلوں میں برکت
عَنِ ابْنِ مُنَبِّہٍ ، قَالَ : أَوْحَی اللہ
إِلَی عُزَیْرٍ یَا عُزَیْرُ ، لاَ تَحْلِفْ بِی کَاذِبًا فَإِنِّی لاَ أَرْضَی
عَمَّنْ یَحْلِفُ بِی کَاذِبًا ، یَا عُزَیْرُ بِرَّ ، وَالِدَیْک فَإِنَّہُ مَنْ
بَرَّ وَالِدَیْہِ رَضِیت ، وَإِذَا رَضِیت بَارَکْت ، وَإِذَا بَارَکْت بَلَغَت
النَّسْلَ الرَّابِعَ ، یَا عُزَیْرُ ، لاَ تَعُقَّ وَالِدَیْک فَإِنَّہُ مَنْ
یَعُقُّ وَالِدَیْہِ غَضِبْت وَإِذَا غَضِبْت لَعَنْت ، وَإِذَا لَعَنْت بَلَغَت
النَّسْلَ الرَّابِعَ۔
حضرت ابن منبہ سے روایت ہے
وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر کی طرف وحی کی۔ اے عزیر ! تم مجھ پر
جھوٹی قسم نہ کھاؤ۔ کیونکہ جو مجھ پر جھوٹی قسم کھاتا ہے میں اس سے راضی نہیں
ہوتا۔ اے عزیر ! تم اپنے والدین
کی فرمان برداری کرو۔ کیونکہ جو آدمی اپنے والدین کی فرمان برداری کرتا ہے۔ میں اس سے راضی ہوتا ہوں اور
جب میں راضی ہوتا ہوں، برکت دیتا ہوں۔ اور جب میں برکت دیتا ہوں تو چوتھی نسل تک
پہنچتی ہے۔ اے عزیر ! تم اپنے
والدین کی نافرمانی نہ کرنا۔ کیونکہ جو اپنے والدین کی نافرمانی کرتا ہے۔ تو میں (اس سے) ناراض ہوتا ہوں
اور جب میں ناراض ہوتا ہوں تو لعنت کرتا ہوں اور جب میں لعنت کرتا ہوں تو وہ چوتھی
نسل تک جاتی ہے۔ ابن شیبہ
والدین
کی طرف سے حج کرنے کی فضیلت
عَنْ زَيْدِ بْنِ
أَرْقَمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا حَجَّ
الرَّجُلُ عَنْ وَالِدَيْهِ تُقُبِّلَ مِنْهُ وَمِنْهُمَا وَاسْتَبْشَرَتْ
أَرْوَاحُهُمَا فِى السَّمَاءِ وَكُتِبَ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى بَرًّا
حضرت زید بن ارقم (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جب کوئی شخص اپنے والدین کی طرف سے حج کرے گا ‘ تو اس شخص کی
طرف سے اور اس کے والدین کی طرف سے قبول کیا جائے گا اور ان دونوں (یعنی والدین)
کی ارواح کو آسمان میں یہ خوشخبری دی جائے گی اور اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ
میں ”
نیک “
لکھاجائے گا۔ سنن دار قطنی
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم امت کے لیے بمنزلہ باپ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ
النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ
الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِيمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَنَا لَکُمْ
بِمَنْزِلَةِ الْوَالِدِ أُعَلِّمُکُمْ فَإِذَا أَتَی أَحَدُکُمْ الْغَائِطَ فَلَا
يَسْتَقْبِلْ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا وَلَا يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ
وَکَانَ يَأْمُرُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ وَيَنْهَی عَنْ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے
روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں تمہارے حق میں باپ کی طرح ہوں اسی بناء پر میں
تم کو دین وادب کی تعلیم دیتا ہوں پس جب تم بیت الخلاء میں جاؤ تو وہاں جا کر نہ
تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور نہ پشت اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرو۔ اور آپ (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں تین ڈھیلوں سے استنجاء کا حکم فرماتے تھے اور گوبر یا
ہڈی سے استنجاء کرنے کو منع فرماتے تھے۔ ابوداؤد
اپنا
آپ غیر باپ کی طرف منسوب کرنا
حَدَّثَنَا
النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ قَالَ
حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ
سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ ادَّعَی إِلَی غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ
أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ
حضرت سعد بن مالک فرماتے
ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میرے کانوں نے سنا اور میرے قلب نے
محفوظ کیا کہ آپ نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنے آپ کو غیر کے باپ کی طرف منسوب کیا اور وہ جانتا تھا کہ جس
کی طرف منسوب کررہا ہے وہ اس کا باپ نہیں تو جنت اس پر حرام ہے۔ابوداؤد
Comments
Post a Comment