افطاری کی فضیلت #aftari#iftari ki fazilat سید ظہیر حسین شاہ رفاعی Syed Zaheer Hussain Shah Refai




بسم اللہ الرحمن الرحیم 

اللہم صلی علی محمد و علی آلہ وصحبہ وسلم

افطاری کی فضیلت

کے حوالے سے  قرآن و احادیث  کی روشنی میں یہ کتاب عارضی طورپرنشر کی جار ہی ہے۔اگر آپ اس کتاب میں   کسی بھی

کسی بھی 

 قسم کی غلطی دیکھیں مہربانی فرماکر 03044653433 نمبر پر وٹس ایپ فرمائیں۔تاکہ ہارڈ کاپی میں وہ غلطی شامل نہ ہو۔پروف ریڈنگ کے فرائض سر انجام دے کر آپ بھی اپنے لیے صدقہ جاریہ کا دروازہ کھولیں۔اس کتاب کو خو د بھی پڑھیں ۔اپنے عزیزواقارب دوست احباب و دیگر گروپس میں صدقہ جاریہ کے طور پر اس کتاب کو شئیر فرمائیں

سید ظہیر حسین شاہ رفاعی

رفاعی اسلامک ریسرچ سینٹر


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَی اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَی اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ وَکَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَيَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا

عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ  سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرورضی اللہ  نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز داؤد (علیہ السلام) کی نماز ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ روزہ داؤد (علیہ السلام) کا روزہ ہے وہ نصف رات سوتے تھے تہائی رات جاگتے تھے اور چھٹا حصہ سوتے اور ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے۔ بخاری

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ وَإِذَا کَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِکُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْکِ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ

ابوصالح زیات ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انسان کے ہر عمل کا بدلہ ہے، مگر روزہ کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں اور روزہ ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو، تو نہ شور مچائے اور نہ فحش باتیں کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں روزہ دار آدمی ہوں اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوتی ہیں، جب افطار کرتا ہے۔ تو خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو روزہ کے سبب سے خوش ہوگا۔ بخاری

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَا هُنَا وَغَرَبَتْ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ

عاصم بن خطاب حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب رات اس طرف سے آجائے اور دن اس طرف چلا جائے اور آفتاب ڈوب جائے تو روزہ دار کے افطار کا وقت آگیا۔ بخاری

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ

سہل بن سعد (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لوگ ہمیشہ بھلائی کے ساتھ رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کریں گے۔ بخاری

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَأَکْلَهُ وَشُرْبَهُ مِنْ أَجْلِي وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَی رَبَّهُ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْکِ

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، میری وجہ سے وہ اپنی خواہش کو اور کھانے اور پینے کو چھوڑتا ہے اور روزہ ڈھال ہے اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی جس وقت روزہ افطار کرتا ہے اور ایک خوشی جس وقت اپنے رب سے ملاقات کرے گا اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ اچھی معلوم ہوتی ہے۔ بخاری

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَی عَائِشَةَ فَقُلْنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ قَالَتْ أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ قَالَ قُلْنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَتْ کَذَلِکَ کَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَادَ أَبُو کُرَيْبٍ وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَی

حضرت ابوعطیہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں اور مسروق دونوں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ام المومنین ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ہیں ان میں سے ایک افطاری میں جلدی کرتا ہے اور نماز میں بھی جلدی کرتا ہے دوسرا ساتھی افطاری میں تاخیر کرتا ہے اور نماز میں بھی تاخیر کرتا ہے ؟ حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) نے فرمایا کہ ان میں سے وہ کون ہیں جو افطاری میں جلدی کرتے ہیں اور نماز بھی جلدی پڑھتے ہیں حضرت ابوعطیہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ وہ حضرت عبداللہ (رضی اللہ عنہ) ہیں یعنی ابن مسعود، حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اسی طرح کیا کرتے تھے اب کریب کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ دوسرے ساتھی حضرت ابوموسی (رضی اللہ عنہ) ہیں۔ مسلم

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ لِأَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَی يُؤَخِّرُونَ

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دین غالب رہے گا جب تک کہ لوگ روزہ جلدی افطار کیا کریں گے کیونکہ یہود اور نصاری روزہ افطار کرنے میں تاخیر کرتے ہیں۔ابوداؤد

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ الرَّبَابِ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ عَمِّهَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ صَائِمًا فَلْيُفْطِرْ عَلَی التَّمْرِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ التَّمْرَ فَعَلَی الْمَائِ فَإِنَّ الْمَائَ طَهُورٌ

حضرت سلیمان بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے جو شخص روزہ دار ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ کھجور سے افطار کرے اگر کھجور نہ مل پائے تو پھر پانی سے افطار کرلے کیونکہ پانی پاک کرنے والا ہے۔ابوداؤد

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ عَلَی رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ رُطَبَاتٌ فَعَلَی تَمَرَاتٍ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَائٍ

حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)سے  روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تر کھجور سے روزہ افطار کرتے تھے نماز مغرب سے پہلے اگر تر کھجور نہ ہوتی تو خشک کھجور سے افطار کرتے اور اگر یہ بھی نہ ملتی تو پھر چند گھونٹ پانی پی لیتے۔ ابوداؤد

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ سَالِمٍ الْمُقَفَّعَ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقْبِضُ عَلَی لِحْيَتِهِ فَيَقْطَعُ مَا زَادَ عَلَی الْکَفِّ وَقَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتْ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَائَ اللَّهُ

حضرت مروان بن سالم سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنی داڑھی مٹھی میں پکڑتے اور جو اس سے زائد ہوتی اس کو کاٹ ڈالتے اور فرماتے تھے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزہ افطار کرتے تو فرماتے ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتْ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَائَ اللَّهُ (ترجمہ) پاس بجھ گئی رگیں تر ہوگئیں اور اجر ثابت ہوگیا اگر اللہ نے چاہا۔ ابوداؤد

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ زُهْرَةَ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ اللَّهُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلَی رِزْقِکَ أَفْطَرْتُ

حضرت معاذ بن زہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب روزہ افطار کرتے تو فرماتے اللَّهُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلَی رِزْقِکَ أَفْطَرْتُ (ترجمہ) اے اللہ میں نے تیرے ہی لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی دیئے ہوئے رزق سے افطار کیا۔ ابوداؤد

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْمَعْنَی قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ قَالَتْ أَفْطَرْنَا يَوْمًا فِي رَمَضَانَ فِي غَيْمٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ طَلَعَتْ الشَّمْسُ قَالَ أَبُو أُسَامَةَ قُلْتُ لِهِشَامٍ أُمِرُوا بِالْقَضَائِ قَالَ وَبُدٌّ مِنْ ذَلِکَ

حضرت اسماء بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ ایک مر بتہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں رمضان کے دنوں میں افطار کرلیا جب کہ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور پھر سورج نکل آیا۔ ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام سے پوچھا ایسی صورت میں تو قضاء کا حکم ہوگا۔ انھوں نے کہا یہ تو ضروری ہے ۔ابوداؤد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَی رُطَبَاتٍ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ رُطَبَاتٌ فَتُمَيْرَاتٌ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تُمَيْرَاتٌ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَائٍ

انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے روزہ افطار کرتے اگر تازہ کھجور نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے روزہ کھولتے اور اگر یہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ سے افطار کرتے۔ترمذی

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَحَبُّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا

ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے نزدیک محبوب ترین بندہ وہ ہے جو افطار میں جلدی کرتا ہے ۔ترمذی

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا کَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْئًا

خالد، جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جس نے کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرایا اس کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا روزہ دار کو اور روزہ دار کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ترمذی

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ سَعْدَانَ الْقُمِّيِّ عَنْ أَبِي مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مُدِلَّةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ الصَّائِمُ حَتَّی يُفْطِرَ وَالْإِمَامُ الْعَادِلُ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُهَا اللَّهُ فَوْقَ الْغَمَامِ وَيَفْتَحُ لَهَا أَبْوَابَ السَّمَائِ وَيَقُولُ الرَّبُّ وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّکِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تین آدمیوں کی دعائیں رد نہیں ہوتیں۔ روزہ دار کی افطار کے وقت، عادل حاکم کی اور مظلوم کی دعا۔ اللہ تعالیٰ مظلوم کی بد دعا کو بادلوں سے بھی اوپر اٹھاتا ہے اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری عزت کی قسم ! میں ضرور تمہاری مدد کروں گا اگرچہ تھوڑے عرصہ کے بعد کروں۔ترمذی

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ عِنْدَ کُلِّ فِطْرٍ عُتَقَائَ وَذَلِکَ فِي کُلِّ لَيْلَةٍ

حضرت جابر (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر افطاری کے وقت اللہ تعالیٰ بہت سوں کو دوزخ سے آزاد فرماتے ہیں اور ایسا ہر شب ہوتا ہے۔ ابن ماجہ

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَدَنِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْکَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِهِ لَدَعْوَةً مَا تُرَدُّ قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ إِذَا أَفْطَرَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتِي وَسِعَتْ کُلَّ شَيْئٍ أَنْ تَغْفِرَ لِي

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا افطار کے وقت روزہ دار کی دعا رد نہیں ہوتی۔ حضرت ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو (رض) کو افطار کے وقت یہ دعا مانگتے سنا اے اللہ ! میں آپ کو آپ کی رحمت کا واسطہ دے کر جو ہر چیز کو شامل ہے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری بخشش فرما دیجئے۔ ابن ماجہ

وعن معاذ بن زهرة قال : إن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا أفطر قال : " اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت

حضرت معاذ بن زہرہ (تابعی) کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب افطار کرتے تو یہ فرماتے۔ اے اللہ میں نے تیرے ہی لیے روزہ رکھا اور اب تیرے ہی رزق سے افطار کرتا ہوں۔مشکوۃ

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ عِنْدَ أُنَاسٍ قَالَ أَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ

حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی کے ہاں افطار کرتے تو یہ دعا دیتے تھے تمہارے ہاں روزہ داروں نے افطاری کی ہے تمہارے کھانا نیک لوگوں نے کھایا ہے اور تم پر فرشتے رحمت لے کر نازل ہوئے ہیں۔ سنن دارمی

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أُمِّ هِلَالٍ ابْنَةِ وَكِيعٍ عَنْ نَائِلَةَ بِنْتِ الْفَرَافِصَةِ امْرَأَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ نَعَسَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ فَأَغْفَى فَاسْتَيْقَظَ فَقَالَ لَيَقْتُلَنَّنِي الْقَوْمُ قُلْتُ كَلَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَبْلُغْ ذَاكَ إِنَّ رَعِيَّتَكَ اسْتَعْتَبُوكَ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِي وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالُوا تُفْطِرُ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ

حضرت عثمان غنی (رضی اللہ عنہ) کی اہلیہ محترمہ نائلہ بنت فرافصہ (رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) کو اونگھ آئی اور وہ ہلکے سے سوگئے، ذرا دیر بعد ہوشیار ہوئے تو فرمایا کہ یہ لوگ مجھے قتل کر کے رہیں گے، میں نے انھیں تسلی دیتے ہوئے کہ انشاء اللہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا بات ابھی اس حد تک نہیں پہنچی، آپ کی رعایا آپ سے محض معمولی سی ناراض ہے، فرمایا نہیں ! میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرات شیخین کو خواب میں دیکھا ہے وہ مجھے بتا رہے تھے کہ آج رات تم روزہ ہمارے پاس آکر افطار کروگے۔مسند احمد

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


Comments

Popular posts from this blog

#Fitna#Dajjal فتنہ دجال

شرح تعبیر و خواب(سید ظہیر حسین شاہ رفاعی) Sharah Tabeer o Khawab by Syed Zaheer Hussain Shah Refai

Shab E Barat ar Shaban ki Fazilat by Syed Zaheer Hussain Refai.شب برات اور شعبان کی فضیلت سید ظہیر حسین شاہ رفاعی