روزہ اور رمضان تالیف و تحقیق سید ظہیر حسین شاہ رفاعی Roza ar Ramzan by Syed Zaheer Hussain Shah Refai


 




يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ   ١٨٣؁

 اے ایمان والو ! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزے رکھنا فرض کیا گیا تھا تاکہ تم متقی بن جاؤ ۔(البقرہ آیت 183 ترجمہ تبیان القرآن)

اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ۭ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ

اَ يَّامٍ اُخَرَ  ۭ وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ ۭ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ  ۭ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ   ١٨٤؁

گنتی کے دن ہیں ۔ تو تم میں جو کوئی بیمار یا سفر میں ہو۔ تو اتنے روزے اور دنوں میں اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا ۔ پھر جو اپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے ۔تو وہ اس کے لیے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمہارے لیے زیادہ بھلا ہے اگر تم جانو (البقرہ۔آیت 184۔ترجمہ کنزالایمان)

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ  ۭ وَمَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ  ۭ يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ ۡ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰي مَا ھَدٰىكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ   ١٨٥؁

 رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا ۔لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں۔ تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ، ضرور اس کے روزے رکھے ۔اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں۔ اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے۔ اور تم پر دشواری نہیں چاہتا۔ اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کرو ۔اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی ۔اور کہیں تم حق گزار ہو۔(البقرہ۔آیت 185۔ترجمہ کنزالایمان)

ایک روزہ رکھنے کی فضیلت

 1۔رسول اللہﷺ  نے ارشاد فرمایا جو بندہ بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس دن کی وجہ سے اس کے چہرے کو دوزخ کی آگ سے ستر سال کی دوری کے برابر کر دے گا۔( مسلم)

ماہ رمضان گناہوں کا کفارہ

2۔حضور ﷺنے فرمایا۔پانچوںنمازیںاورجمعہ اگلے جمعے تک اورماہ رمضان اگلےماہ رمضان تک گناہوں کاکفارہ ہیں۔جب تک کہ کبیرہ گناہوںسے بچا جائے۔(مسلم)

ساری عمر کے روزے رمضان کے ایک روزے برابر نہیں

3۔رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کی دی ہوئی رخصت کے بغیر رمضان میں روزہ نہ رکھا تو ساری عمر کے روزے اس کی کمی کو پورا نہ کرسکیں گے ۔(ابو داود)

مکہ میں ماہ رمضان ایک لاکھ رمضان برابر ثواب

4۔اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا۔ جو مکہ میں ماہ رمضان پائے۔ پھر روزے رکھے اور جتنا اس سے ہوسکے رات کو قیام کرے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے مکہ کے علاوہ دیگر شہروں کے ایک لاکھ رمضانوں کا ثواب لکھے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر دن کے بدلہ ایک غلام آزاد کرنے کا ۔اور ہر دن کے بدلہ اللہ کے راستہ میں گھوڑے پر (مجاہد کو) سوار کرنے کا ثواب لکھتاہے ۔اور ہر روز ایک نیکی اور ہر رات ایک نیکی لکھتاہے۔ (ابن ماجہ)

استقبال رمضان اور جنت کی زیب و زینت

5۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ رمضان کے استقبال کے لیے جنت شروع سال سے آخر سال تک اپنی زیب وزینت کرتی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا۔ چنانچہ جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے۔ تو عرش کے نیچے جنت کے درختوں کے پتوں سے حور عین کے سر پر ہوا چلتی ہے۔ پھر حوریں کہتی ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! اپنے بندوں میں سے ہمارے لیے شوہر بنا دے۔ کہ ان سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔اور ان کی آنکھیں ہمارے دیدار و وصل سے ٹھنڈک پائیں۔(مشکوۃ )

رمضان میں شیاطین کا قید ہونا

6۔ حضور نبی اکرم ﷺ  نے فرمایا۔جب رمضان کا مہینہ آتا ہے۔ تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں ۔اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔( متفق علیہ )

رمضان میں جنت کے دروازے کھلنا

7۔ حضور نبی اکرم ﷺ  نے فرمایا۔جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے۔(مسلم ، نسائی )

اے خیر کے طالب اے شر کے طلبگار

8۔نبی اکرمﷺنےفرمایا۔جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے۔ شیطانوں اور سرکش جنوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں۔ اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ اور ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا، اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ پس ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ ایک ندا دینے والا پکارتا ہے۔اے طالب خیر! آگے آ، اے شر کے متلاشی! رک جا، اور اللہ تعالیٰ کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔ ماہ رمضان کی ہر رات یونہی ہوتا رہتا ہے۔(ترمذی و ابن ماجہ)

رمضان میں بخشش نہ ہوئی تو کب ہوگی!!!!

9۔حضرت انس ؄ فرماتے ہیں۔ میںنے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔رمضان المبارک کا مقدس مہینہ آگیا ہے۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔ اس میں شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ وہ شخص بڑا ہی بد نصیب ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا لیکن اس کی بخشش نہ ہوئی۔ اگر اس کی اس  مہینہ میں بھی بخشش نہ ہوئی تو (پھر) کب ہو گی؟(ابن شیبہ وطبرانی)

رمضان گناہوں کا کفارہ

10۔ رسولﷺ نے فرمایا۔ پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے لے کر دوسرا جمعہ پڑھنا۔ اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان کے روزے رکھنا، ان کے درمیان واقع ہونے والے گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتے ہیں۔ جب تک کہ انسان گناہ کبیرہ نہ کرے۔(مسلم۔ترمذی۔ابن ماجہ)

کاش سارا سال ہی رمضان ہوتا

11۔حضرت ابو مسعود غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رمضان کا مہینہ شروع ہوچکا تھا کہ ایک دن میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔ اگر لوگوں کو رمضان کی رحمتوں اور برکتوں کا پتہ ہوتا ۔تو وہ خواہش کرتے کہ پورا سال رمضان ہی ہو۔(بیہقی۔ابن خزیمہ)

ماہ رمضان میں امت کوکونسے پانچ تحفے ملے

12۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا۔ میری اُمت کو ماہ رمضان میں پانچ تحفے ملے ہیں ۔جو اس سے پہلے کسی نبی کو نہیں ملے۔

 پہلا یہ ہے کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے۔ توا ﷲ تعالیٰ ان کی طرف نظرِ التفات فرماتا ہے۔ اور جس پر اُس کی نظرِ رحمت پڑجائے اسے کبھی عذاب نہیں دے گا۔

 دوسرا یہ ہے کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو اﷲ تعالیٰ کو کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ اچھی لگتی ہے۔

تیسرا یہ ہے کہ فرشتے ہر دن اور ہر رات ان کے لیے بخشش کی دعا کرتے رہتے ہیں۔

چوتھا یہ ہے کہ اللہ اپنی جنت کو حکم دیتاہے۔ کہ میرے بندوں کے لیے تیاری کرلے اور مزین ہو جا، تاکہ وہ دنیا کی تھکاوٹ سے میرے گھر اور میرے دارِ رحمت میں پہنچ کر آرام حاصل کریں۔

 پانچواں یہ ہے کہ جب (رمضان کی) آخری رات ہوتی ہے۔ ان سب کو بخش دیا جاتا ہے۔ ایک صحابی نے عرض کیا۔کیا یہ شب قدر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ نہیں۔ کیا تم جانتے نہیں ہو کہ جب مزدور اپنے کام سے فارغ ہو جاتے ہیں ۔تو انہیں پوری پوری مزدوری دی جاتی ہے۔( بیہقی)

ماہ رمضان میں ذکر کرنے کی فضیلت

13۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔ ماہِ رمضان میں اﷲ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا بخش دیا جاتا ہے ۔اور اس ماہ میں اﷲ تعالیٰ سے مانگنے والے کو نامراد نہیں کیا جاتا۔(طبرانی۔بیہقی)

روزے کی جزا

14۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ کہ ابن آدم کا ہر عمل اُسی کے لیے ہے ۔سوائے روزے کے، کیونکہ روزہ میرے لیے ہے۔ اور اُس کی جزاء میں ہی دیتا ہوں۔روزہ ڈھال ہے اور جس روز تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو نہ فحش باتیں کرے اور نہ جھگڑے۔ اگر اُسے کوئی گالی دے یا لڑے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضے میں محمد مصطفی ﷺ کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پیاری ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے اُسے فرحت ہوتی ہے۔ جب افطار کرے تو خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کے(عظیم اجر کے) باعث خوش ہو گا۔( متفق علیہ)

ایمان اور ثواب کی نیت پر پچھلے تمام گناہ معاف

15۔رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جو شخص رمضان میں ایمان کے ساتھ حصول ثواب کی نیت سے عبادت کرے گا ۔تو اس کے پچھلے تمام کئے گئے گناہ (اللہ عزوجل) بخش دے گا۔(النسائی)

روزے داروں کے لیے جنت کا دروازہ ریان

 16۔رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ۔جنت میں ایک دروازہ ہے۔ جسے ریان کہا جاتا ہے۔ اس دروازےسے قیامت کے دن روزہ رکھنے والے ہی داخل ہوں گے ۔ان کے علاوہ کوئی اور داخل نہیں ہوگا کہا جائے گا۔ کہ روزہ رکھنے والے کہاں ہیں ؟ پھر وہ اس دروازے سے داخل ہوں گے۔ اور جب روزہ رکھنے والوں میں آخری داخل ہوجائے گا۔ تو وہ دروازہ بند ہوجائے گا۔ اور پھر کوئی اس دروازہ سے داخل نہیں ہوگا۔( مسلم)

روزہ  کےبرابر کوئی دوسرا عمل نہیں

17۔حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! مجھے کسی عمل کے کرنے کا حکم فرمائیے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ روزہ ! اس کے برابر کوئی دوسرا عمل نہیں۔ میں نے دوبارہ عرض کیا۔ یا رسول اللہ! مجھے کسی عمل کے کرنے کا حکم فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔روزہ رکھو، اس کے برابر کوئی دوسرا عمل نہیں ہے۔( نسائی، عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ احمد)

جسم کی زکوۃ روزہ

18۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ہر چیز کی کوئی نہ کوئی زکوٰۃ ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے۔محرز نے اپنی روایت میں یہ اِضافہ کیا ہے کہ حضور ﷺ  نے فرمایا: روزہ آدھا صبر ہے۔( ابن ماجہ۔ طبرانی )

روزہ دوزخ کی آگ سے ڈھال

19۔حضرت عثمان ابن ابی العاص؄ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا۔ جیسے تم میدانِ جنگ میں ڈھال استعمال کرتے ہو ایسے ہی روزہ دوزخ سے ڈھال ہے۔ بہتر (طریقہ) ہر ماہ تین دن روزہ رکھنا ہے۔(ابن خزیمہ)

روزے اور قرآن کا شفاعت کرنا

20۔رسول اﷲ ﷺ  نے فرمایا۔ روزہ اور قرآن بندے کے لیے قیامت کے دن شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا۔ اے میرے رب! میں نے اسے کھانے پینے اور خواہش نفس سے روکے رکھا۔لہٰذا اس کے لیے میری شفاعت قبول فرما اورقرآن کہے گا۔ اے میرے رب! میں نے اسے رات کے وقت نیند سے روکے رکھا۔لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ رسول اﷲ ﷺ  نے فرمایا۔ دونوں کی شفاعت قبول کر لی جائے گی۔(احمد، طبرانی ،حاکم)

ماہ رمضان میں نماز اور دعا کی کثرت

21۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ کہ انہوں نے فرمایا کہ جب ماہِ رمضان شروع ہوتا ۔تو آپﷺ کا رنگ مبارک متغیر ہو جاتا ۔اور آپﷺ  نمازوں کی کثرت کر دیتے ۔اور اﷲ تعالیٰ سے عاجزی و گڑ گڑاکر دعا کرتے اور اس ماہ میں نہایت محتاط رہتے۔( بیہقی )

روزے دار کے لیے ستر ہزار فرشتوں کا مغفرت کی دعا کرنا

22۔حضور ﷺنے فرمایا۔جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو آسمانوں کے  دروازے کھول دیئے جا تے ہیں۔ اور آخری رات تک بندنہیں ہوتے۔ جو کوئی بندہ اس ماہ کی کسی بھی رات میں نماز پڑھتا ہے تواللہ اس کے ہر سجدے کے  بدلےاس کے  لئے پندرہ سو نیکیاں لکھتا ہے۔ اور اُس کے لئے جنت میں سرخ یاقوت کاگھر بناتا ہے۔پس جو کوئی رمضان کا پہلا روزہ رکھتا ہے۔ تو اُس کے  سابقہ گناہ معاف کر دیئے جا تے ہیں ۔اور اُس کیلئے صبح سے شام تک سترہزارفرشتے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں ۔ رات اور دن میں جب بھی وہ سجدہ کرتاہے۔ اُس کے ہر سجدے کے بدلے اُسے (جنت میں ) ایک ایسا درخت عطا کیا جا تاہے۔ کہ اس کے سائے میں سوار پانچ سو برس تک چلتا رہے۔(شعب الایمان)

ہے کوئی سوالی !!!ہے کوئی مغفرت توبہ کا طلبگار!!!

23۔آپﷺ نے فرمایابیشک رمضان المبارک میں رات کے پہلے تیسرے پہر کے بعد یا آخری تیسرے پہر کے بعد ایک ندا کرنے والا ندا کرتا ہے۔ہے کوئی سوال کرنے والا!کہ وہ سوال کرے تو اسے عطا کیا جائے۔ کیا ہے کوئی مغفرت کا طلبگار !کہ وہ مغفرت طلب کرے تو اسے بخش دیا جائے! کیا ہے کوئی توبہ کرنے والا !کہ وہ توبہ کرے تو ﷲ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے۔(بیہقی )

حضور ﷺ بستر پر تشریف نہ لاتے

24۔حضرت عائشہ؅ نے فرمایا۔ جب ماہِ رمضان شروع ہو جاتا تو حضور نبی اکرم ﷺ اپنا کمرِ ہمت کس لیتے ۔پھر آپﷺ اپنے بستر پر تشریف نہیں لاتے تھے۔ یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا۔(ابن خزیمہ)

رمضان میں ہر سجدے کے بدلے پندرہ سو نیکیاں

 25۔حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا۔جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے۔ تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا ۔یہاں تک کہ رمضان کی آخری رات ہوتی ہے۔ اور کوئی شخص ایسا نہیں جو رمضان کی کسی رات میں نماز ادا کرتا ہے ۔مگر اﷲ تعالیٰ اس کے لیے اس کے ہر سجدے کے بدلے میں پندرہ سو نیکیاں لکھ دیتا ہے۔( بیہقی )

رمضان میں حضور ﷺ  کی سخاوت

26۔رسول اللہﷺ سب سے زیادہ سخی تھے۔ اور خاص طور پر رمضان میں جب جبرائیل آپ ﷺ سے ملتے تو آپ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی ہوتے تھے۔ اور جبرائیل آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے۔ اور قرآن کا دور کرتے، نبی ﷺ بھلائی پہنچانے میں ٹھنڈی ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے۔ (بخاری)

رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ثواب

27۔ رسول اللہ ﷺ  نے انصار کی ایک عورت سے فرمایا ۔کہ تمہیں میرے ساتھ حج کرنے سے کس چیز نے روکا ؟ اس نے کہا کہ میرے پاس ایک پانی بھرنے والا اونٹ تھا ۔جس پر اس کا بیٹا اور فلاں شخص (یعنی اس کا شوہر) سوار ہو کر چلے گئے ۔اور صرف ایک اونٹ چھوڑ گئے، جس پرہم پانی لادتے ہیں، آپ نے فرمایاکہ جب رمضان کا مہینہ آئے۔ تو اس مہینہ میں عمرہ کرلے۔ اس لیے کہ رمضان میں عمرہ کرنا ایک حج کے برابر ہے ۔یا اسی کے مثل کچھ فرمایا۔ (بخاری)

رمضان میں عمرہ کرنا نبی  ﷺ کے ساتھ حج کرنے جیسا

 28۔جب نبی ﷺ  اپنے حج سے واپس ہو رہے تھے تو ام سنان انصاریہ سے فرمایا تم کو حج سے کس چیز نے باز رکھا ؟ اس نے جواب دیا کہ فلاں کے باپ یعنی میرے شوہر نے اس کے پانی لادنے کے دو اونٹ تھے، ان میں سے ایک پر وہ حج کرنے گیا اور دوسرا ہماری زمین میں پانی پہنچاتا ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا رمضان میں عمرہ کرنا ایک حج کے برابر یا میرے ساتھ حج کے برابر ہے۔ (بخاری)

حج کا بدل

29۔ام معقل؅ نے کہا یا رسول اللہﷺ میں ایک بیمار اور بوڑھی عورت ہوں۔ کوئی کام ایسا بتا دیجئے ۔جو حج کا بدل بن جائے۔ آپﷺ نے فرمایا ۔ماہ رمضان میں ایک عمرہ کرنا حج کا بدل ہوسکتا ہے۔( ابو داود)

رمضان سے ایک دو دن قبل روزہ رکھنا

30۔ آپﷺ نے فرمایاکہ تم میں سے کوئی رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھے۔ مگر وہ شخص جو اس دن برابر روزہ رکھتا تھا۔ تو وہ اس دن روزہ رکھ لے۔ (بخاری)

حضور ﷺکی زندگی میں انتیس تاریخ کے رمضان زیادہ

3131۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ نے کہا ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ کئی رمضان گزارے۔ ان میں انتیس تاریخ کے رمضان زیادہ اور تیس تاریخ والے کم تھے۔ (ابو داود)

شعبان اور رمضان کے روزوں کی کثرت

 32۔رسول کریمﷺ کبھی دو ماہ مسلسل روزے نہ رکھتے ۔ماہ شعبان اور ماہ رمضان المبارک کےعلاوہ ۔( نسائی)

شعبان میں روزوں کی کثرت

33۔نبیﷺ روزہ رکھتے جاتے۔ یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب افطار نہ کریںگے۔ اور افطار کرتے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب روزہ نہ رکھیں گے۔ اور میں نے نہیں دیکھا ۔کہ نبی ﷺ نے رمضان کے سوا کسی مہینہ پورے روزے رکھے ہوں ۔اور نہ شعبان کے مہینہ سے زیادہ کسی مہینہ میں آپ کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھا۔( بخاری)

شعبان کی تاریخیں دیکھنے کا اہتمام کرنا

34۔رسول اللہﷺ شعبان کی تاریخوں کو جس قدر اہتمام سے یاد رکھتے تھے۔ اتنا کسی اور مہینہ کی تاریخوں کو یاد نہیں رکھتے تھے۔ پھر جب رمضان کا چاند ہوتا تو روزے رکھتے ۔اور اگر اس دن مطلع صاف نہ ہوتا ۔تو شعبان کے تیس دن پورے کرتے اور پھر روزے رکھتے (یوم الشک میں روزہ نہ رکھتے) ۔(ابوداود)

نصف شعبان نفلی روزے کی فضیلت

35۔رسول اللہﷺ نے فرمایا ۔جب نصف شعبان کی رات ہو تو رات کو عبادت کرو ۔اور آئندہ دن روزہ رکھو۔ اس لیے کہ اس میں غروب شمس سے فجر طلوع ہونے تک آسمان دنیا پر اللہ تعالیٰ نزول فرماتاہے۔اور یہ فرماتا ہے۔ہے کوئی مغفرت کا طلبگار !کہ میں اس کی مغفرت کروں۔ ہےکوئی روزی کا طلبگار کہ میں اس کو روزی دوں! ہے کوئی بیمار کہ میں اس کو بیماری سے عافیت دوں! ہے کوئی ایسا ہے کوئی !!یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔(ابن ماجہ)

عرفہ کے دن روزہ رکھنے کی فضیلت

36۔میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے سنا۔ جس نے عرفہ کے دن روزہ رکھا اس کے ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔( ابن ماجہ)

محرم کے روزے

 37۔رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا رمضان کے بعد افضل ترین روزےاللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔ اور فرض نماز کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے۔( نسائی)

سفر میں روزہ رکھنا

38۔حضرت انس؄ سے روایت ہے۔ کہ ہم نے رمضان میں رسول اللہ  ﷺ کے ساتھ سفر کیا ۔پس ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا۔ اور کچھ لوگوں نے نہیں رکھا۔ لیکن نہ تو کسی روزہ رکھنے والےنےروزہ نہ رکھنے والے پر اعتراض کیا ۔اور نہ ہی کسی روزہ نہ رکھنے والے نے روزہ دار پر ۔(ابو داود)

شوال کے چھ روزوں کی فضیلت

 39۔رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد چھ روزے شوال کے رکھے گویا اس نے ہمیشہ روزے رکھے۔ (ابو داود)

عاشورہ (دس محرم)کا روزہ

40۔حضرت عائشہ؅ سے روایت ہے کہ عاشورہ (دس محرم) وہ دن ہے جس میں زمانہ جاہلیت میں قریش کے لوگ روزہ رکھا کرتے تھے اس زمانہ میں آپﷺ بھی روزہ رکھتے تھے۔ جب آپﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺنے اس دن روزہ رکھا اور دوسرے لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو رمضان کے روزے تو فرض رہے اور عاشورہ کا روزہ آپﷺ  نے چھوڑ دیا۔ اب اختیار ہے جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔ (ابو داود)

روزے کی حالت میں بھول چوک کر کھانا پینا

41۔رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ۔جو آدمی روزے کی حالت میں بھول جائے اور کھا پی لے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرلے کیونکہ اس کو یہ اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔( مسلم)

شوہر کی اجازت بغیر نفلی روزہ رکھنا

42۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر عورت کا شوہر موجود ہو تو رمضان کے روزوں کے علاوہ کوئی نفلی روزہ وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر نہ رکھے اور نہ شوہر کی اجازت ومرضی کے بغیر کسی کو اس کے گھر میں آنے دے۔ (ابوداود)

عید الفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت

 43۔رسول اللہﷺ  نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ایک وہ دن کہ جس دن تم افطار کرتے ہو (عید الفطر) اور دوسرا وہ دن کہ جس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو (یعنی عید الاضحیٰ ) ۔( مسلم)

حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے اور نماز کی کیفیت

44۔رسول اللہﷺ  نے فرمایا کہ روزوں میں سے سب سے پسندیدہ روزے اللہ کے نزدیک حضرت داؤد؈ کے روزے ہیں اور نماز میں اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز حضرت داؤد؈ کی نماز ہے وہ آدھی رات سوتے تھے اور تیسرا حصہ قیام کرتے تھے رات کا چھٹا حصہ سوتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے جبکہ ایک دن افطار کرتے تھے۔( مسلم)

پیر اور جمعرات کے روزوں کی فضیلت

45۔نبی ﷺ سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ آپﷺ سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھتے ہیں ؟ فرمایا سوموار اور جمعرات کو اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کی بخشش فرما دیتاہے۔ سوائے دو قطع کلامی کرنے والوں کے۔ فرماتے ہیں کہ ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ صلح کرلیں۔ (ابن ماجہ)

نامہ اعمال کا پیر اور جمعرات کے دن اللہ کے سامنے پیش ہونا

46۔رسول اللہ ﷺ  پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے ایک مرتبہ لوگوں نے آپ ﷺ  سے ان دنوں میں روزہ رکھنے کے متعلق دریافت کیا تو آپﷺ  نے فرمایا پیر اور جمعرات کے دن بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔ (ابوداؤد )

روزے دار کے سامنے کھانا کھایا جا نا

47۔ام عمارہ بنت کعب ؅فرماتی ہیں ۔حضور ﷺ میرے یہاں تشریف لائے، میں نے کھاناپیش کیا تو ارشاد فرمایا۔ تم بھی کھاؤ۔میں نے عرض کی۔ میں  روزے سے ہوں ۔ تو فرمایا۔جب تک روزے دار کے سامنے کھانا کھایا جا تا ہے فرشتے اُس روزہ دار کے  لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں ۔(ترمذی )

 ہڈ یوں کا تسبیح کرنا

48۔حضور ﷺ  نے بلال ؄ سے فرمایا۔ اے بلال؄!آؤناشتہ کریں ۔ توبلال؄نے عرض کی۔میں روزے سے ہوں ۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا۔ہم اپنا رِزق کھا رہے ہیں اور بلال کا رِزق جنت میں بڑھ رہا ہے۔ پھر فرمایا۔ اے بلال؄ ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ جتنی دیر تک روزہ دار کے سامنے کچھ کھایا جا ئے تب تک اُس کی ہڈیاں تسبیح کرتی ہیں ۔اسے فرشتے دُعائیں دیتے ہیں ۔ ( ابن ماجہ)

عبادت و ریاضت میں اعتدال کا حکم

49۔حضرت ابن عمرو بن عاص ؄ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہﷺ  نے مجھ سے فرمایا کہ کیا مجھے خبر نہیں دی گئی کہ تو رات بھر قیام کرتا ہے اور دن کو روزہ رکھتا ہے ؟ حضرت عبداللہ؄  نے عرض کیا میں اسی طرح کرتا ہوں آپﷺ نے فرمایا کہ جب تو اس طرح کرے گا تو تیری آنکھیں خراب ہوجائیں گی اور تیرا نفس کمزور ہوجائے گا تیری آنکھوں کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے گھر والوں کا بھی تجھ پر حق ہے تو قیام بھی کر اور نیند بھی کر اور روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر۔ (مسلم )

حقیقی محروم کون

50۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔ تمہارے پاس ماہ رمضان آیا۔ یہ مبارک مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں۔ اس میں آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور بڑے شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں۔ اس (مہینہ) میںا ﷲ تعالیٰ کی ایک ایسی رات (بھی) ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو اس کے ثواب سے محروم ہوگیا سو وہ محروم ہو گیا۔(ابن شیبہ)

رمضان منافقین کے لیے بد ترین مہینہ

51۔ رسول اللہ ﷺ نے حلفاً فرمایا۔ تم پر ایسا مہینہ سایہ فگن ہوگیا ہے کہ مسلمانوں پر اِس سے بہترمہینہ اور منافقین پر اس سے بڑھ کر برا مہینہ کبھی نہیں آیا۔ پھر دوبارہ رسول اللہ ﷺ نے حلفاً ارشاد فرمایا۔اﷲ تعالیٰ اس مہینے کاثواب اور اس کی نفلی عبادت اس کے آنے سے پہلے لکھ دیتا ہے۔ اور اس کی بدبختی اور گناہ بھی اس کے آنے سے پہلے لکھ دیتا ہے، کیونکہ مومن اس میں انفاق کے ذریعے قوت حاصل کر کے عبادت کرنے کی تیاری کرتا ہے ۔اور منافق مومنوں کی غفلتوں اور ان کے عیب تلاش کرنے کی تیاری کرتا ہے۔(ابن خزیمہ۔احمد۔بیہقی)

رمضان پا کر بھی بد قسمت کون

52۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ منبر کے پاس آجاؤ، ہم آ گئے۔ جب ایک درجہ چڑھے تو فرمایا ’’آمین‘‘جب دوسرا چڑھے تو فرمایا: ’’آمین‘‘ اور جب تیسرا چڑھے تو فرمایا’’آمین‘‘۔جب اترے تو ہم نے عرض کیا۔یا رسول اﷲﷺ! ہم نے آج آپ ﷺسے ایک ایسی چیز سنی ہے ۔جو پہلے نہیں سنا کرتے تھے۔ آپ ﷺ  نے فرمایا جبرائیل؈ میرے پاس آئے۔ اور کہاجسے رمضان ملا لیکن اسے بخشا نہ گیا وہ بدقسمت ہوگیا۔ میں نے کہا۔ آمین۔ جب میں دوسرے درجے پر چڑھا۔ تو انہوں نے کہا۔جس کے سامنے آپ کا نام لیا گیا۔ اور اس نے درود نہ بھیجا وہ بھی بد قسمت ہوگیا۔ میں نے کہا۔ آمین۔ جب میں تیسرے درجے پر چڑھا ۔تو انہوں نے کہا۔جس شخص کی زندگی میں اس کے ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک بوڑھا ہوگیا اور انہوں نے اسے (خدمت و اِطاعت کے باعث) جنت میں داخل نہ کیا۔وہ بھیبدقسمتہوگیا۔میںنےکہا۔آمین۔(حاکم۔ابن حبان۔ابن خزیمہ۔بیہقی۔ابن شیبہ۔)

ماہ رمضان میں گھر والوں کوجگانا

53۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؅نے فرمایا۔ جب (آخری) عشرہ شروع ہوتا تو حضور نبی اکرم ﷺ کمربستہ ہوجاتے، اس کی راتوں کو زندہ رکھتے (یعنی شب بیدار رہتے)اور گھر والوں کو جگایا کرتے۔(متفق علیہ )

شب قدر امت محمدیہ ﷺ کا امتیازی شرف

 54۔حضور نبی اکرمﷺ  نے فرمایا۔بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر میری امت ہی کو عطا کی ہے۔ ان سے پہلے کسی امت کو یہ نہیں ملی۔ (دیلمی )

آخری عشرے میں عبادت میں کثرت کرنا

55۔حضرت عائشہ صدیقہ؅ بیان کرتی ہیں۔ کہ حضور نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں باقی دنوں کی بہ نسبت عبادت میں زیادہ جدوجہد کرتے تھے۔(مسلم، ترمذی ،ابن ماجہ )

آخری عشرے میں الگ ہو کر عبادت کرنا

56۔حضرت عائشہ؅ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا۔جب رمضان کے (آخری عشرہ) کے دس دن باقی رہ جاتے تو آپ ﷺ اپنا کمر بندکس لیتے اور اپنے اہل خانہ سے الگ ہو (کر عبادت و ریاضت میں مشغول ہو) جاتے۔(احمد بن حنبل )

ماہ رمضان کی راتوں میں قیام کی فضیلت

57۔رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا۔ جس نے رمضان میں بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے قیام کیا ۔تو اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیئے گئے۔  (متفق علیہ )

ایمان و اخلاص کے ساتھ قیام کرنا

 58۔رسول اﷲ ﷺ نے رمضان کی دوسرے مہینوں پر فضلیت بیان کرتے ہوئے فرمایا۔جو شخص رمضان المبارک میں ایمان و اخلاص کے ساتھ قیام کرتا ہے وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جس طرح آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہو۔(نسائی، ابن ماجہ۔بیہقی )

باب ریان سے روزے داروں کا داخلہ

59۔آپ ﷺ نے فرمایا ۔کہ جنت میں ایک دروازہ ہے ۔جس کو ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازے سے روزے دار ہی داخل ہوں گے۔ کوئی دوسرا داخل نہ ہوگا، کہا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہیں ؟ وہ لوگ کھڑے ہوں گے۔ اس دروازےسے ان کے سوا کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب وہ داخل ہوجائیں گے تو وہ دروازہ بند ہوجائے گا۔ اور اس میں کوئی داخل نہ ہوگا۔(بخاری)

رات کا قیام سابقہ صالحین کا طریقہ

60۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔رات کا قیام اپنے اوپر لازم کر لو کہ وہ تم سے پہلے کے نیک لوگوں کا طریقہ ہے اور تمہارے لیے قربِ خداوندی کا باعث ہے، برائیوں کو مٹانے والا اور گناہوں سے روکنے والا ہے۔(ترمذی ۔حاکم احمد ،بیہقی )

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو قیام اللیل کی وصیت

61۔حضرت عبد اللہ بن ابی قیس کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ؅ نے مجھے نصیحت کی کہ قیام اللیل نہ چھوڑنا، کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺ  اسے نہیں چھوڑا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ بیمار ہو جاتے یا کمزور ہو جاتے تو (نماز)بیٹھ کر پڑھ لیتے۔(ابو داود  احمد بن حنبل)

سحری کے کھانے میں برکت

۔حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا: سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ (متفق علیہ 62

بہترین سحری کھجور

۔حضورﷺ نے فرمایا۔مومن کے لیے سحری کا بہترین کھانا کھجور ہے۔ ( ابوداؤد 63

مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان فرق

64۔حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں صرف سحری کھانے کا فرق ہے۔ (مسلم، ترمذی اور ابو داود )

سحری اور نماز کے درمیان وقفہ

65۔ حضور ﷺ اور حضرت زید بن ثابت؄ نے سحری کھائی۔ جب دونوں اپنی سحری سے فارغ ہوئے تو حضور نبی اکرم ﷺ  نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور نماز پڑھی۔ ہم نے حضرت انس؄ سے کہا کہ ان کے سحری سے فارغ ہونے اور نماز میں شامل ہونے میں کتنا وقفہ تھا؟ فرمایا کہ جتنی دیر میں کوئی آدمی پچاس آیتیں پڑھے۔ (بخاری،احمد ،بیہقی )

حضور ﷺکے ساتھ نماز کا اشتیاق

66۔ابو حازم نے حضرت سہیل بن سعد؄ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں اپنے گھر والوں میں سحری کھایا کرتا تھا۔ پھر جلدی کرتا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز فجر پڑھ سکوں۔ (بخاری، ابو یعلی ،طبرانی (

سحری مبارک کھانا

6767۔حضرت عرباض بن ساریہ؄ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے رمضان میں سحری کھانے کے لئے بلایا تو فرمایا۔ صبح کے مبارک کھانے کی طرف آؤ۔( ابو داود ،احمد بن حنبل )

سحری اللہ کی دی ہوئی برکت

68۔عبد اﷲ بن حارث حضور نبی اکرم ﷺ کے ایک صحابی ؄ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا۔ میںحضور ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سحری تناول فرما رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ یہ اللہ کی دی ہوئی برکت ہے، تم اسے ترک نہ کیا کرو۔( نسائی )

سحری کرنے والوں پر اللہ کی رحمت

69۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سحری کرنا سراپا برکت ہے، لہٰذا اسے نہ چھوڑو، اگرچہ پانی کے ایک گھونٹ کے ذریعے ہی ہو۔ اللہ اور فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔(فرشتوں کا رحمت بھیجنے سے مراد رحمت کی دعاکرناہے)( احمد)

سحری اور دوپہر کی نیند سے مدد لینا

70۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ سحری کے کھانے کے ذریعے دن کے روزہ (کو پورا کرنے) کے لئے مدد لو اور قیلولہ (دوپہر کو کچھ دیر کی نیند) کے ذریعے رات کے قیام کے لئے مدد لو۔( ابن ماجہ، ابن خزیمہ، حاکم)

سحری کے کھانے کی دعوت

 71۔رسول اللہﷺ نے مجھ کو رمضان میں سحری کے کھانے پر مدعو کیا ۔تو فرمایا صبح کا  بابرکت کھانا کھالے۔ (ابو داؤد)

تین چیزوں میں برکت ہے

۔آپ ﷺنے فرمایا ۔تین چیزوں میں برکت ہے۔جماعت اور ثرید اور سحری میں۔(المعجم الکبیر72

افطاری کے وقت دوزخ سے آزادی

73۔ حضور نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ہر افطار کے وقت اور ہر رات میں لوگوں کو دوزخ سے آزاد کیا جاتا ہے۔( ابن ماجہ، احمد بن حنبل )

تین آدمیوں کے کھانے کا حساب نہیں

74۔حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تین آدمیوں کے کھانے کا کوئی حساب نہیں ہوگا بشرطیکہ (ان کا کھانا) حلال ہو۔ روزہ دار کا، سحری کرنے والے کا، مجاہد کا۔(طبرانی )

افطاری میں ستاروں کا انتظار نہ کرنا

75۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔میری اُمت اس وقت تک میری سنت پر قائم رہے گی جب تک افطاری کرنے کے لیے ستاروں (کے نظر آنے) کا انتظار نہیں کرے گی۔(ابن حبان )

افطاری میں جلدی کا حکم

76۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے۔ (متفق علیہ )

افطاری میں تاخیر یہود و نصاریٰ کا طریقہ

77۔حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا۔دین ہمیشہ غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاریٰ دیر کیا کرتے ہیں۔( ابو داود اور ابن ابی شیبہ )

افطاری کروانے کا ثواب

78۔ رسول اللہﷺ نے شعبان کے آخری دن ہمیں خطاب کیا اور فرمایا۔اے لوگو! تم پر ایک عظیم الشان اور بابرکت مہینہ سایہ فگن ہو گیا ہے۔ اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزوں کو فرض کیا ہے ۔اور راتوں کے قیام کو نفل۔ جو شخص اس میں قرب الٰہی کی نیت سے کوئی نیکی کرتا ہے اسے دیگر مہینوں میں ایک فرض ادا کرنے کے برابر سمجھا جاتا ہے اور جو شخص اس میں ایک فرض ادا کرتا ہے گویا اس نے باقی مہینوں میں ستر فرائض ادا کیے۔ یہ صبر کا مہینہ اور صبر کا ثواب جنت ہی ہے۔ یہ غم خواری کا مہینہ ہے، اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو شخص کسی روزہ دار کی افطاری کراتا ہے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اسے دوزخ سے آزاد کر دیا جاتا ہے۔ نیز اسے اس (روزہ دار) کے برابر ثواب ملتا ہے۔ اس سے اس کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ صحابہنے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! ہم میں سے ہر ایک روزہ افطار کرانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ رسول اللہ ﷺ  نے فرمایا۔ یہ ثواب اللہ تعالیٰ ایک کھجور کھلانے یا پانی پلانے یا دودھ کا ایک گھونٹ پلا کر افطاری کرانے والے کو بھی دے دیتا ہے۔ اس مہینے کا ابتدائی حصہ رحمت ہے۔ درمیانہ حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ دوزخ سے آزادی ہے۔ جو شخص اس مہینے میں اپنے ملازم پر تخفیف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے اور اسے دوزخ سے آزاد کر دیتا ہے۔ اس میں چار کام زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کرو۔ دو کاموں کے ذریعے تم اپنے رب کو راضی کروگے اور دو کاموں کے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ کار نہیں۔ جن دو کاموں کے ذریعے تم اپنے رب کو راضی کروگے ان میں سے ایک لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا ہے اور دوسرا اس سے بخشش طلب کرنا ہے۔ جن دو کاموں کے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ نہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور دوسرا یہ ہے کہ دوزخ سے پناہ مانگو۔ جو شخص روزہ دار کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے میرے حوض سے پانی پلائے گا۔ اسے جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی۔(ابن خزیمہ و بیہقی)

اللہ کے پسندیدہ بندے

79۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ میرے سب سے پسندیدہ بندے وہ ہیں، جو روزہ جلد افطار کرتے ہیں۔ (ترمذی اور احمد بن حنبل)

تازہ یا خشک کھجوروں یا پانی سے افطار ی کرنا

80۔ حضور نبی اکرم ﷺ (مغرب کی) نماز سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے روزہ کھولتے، اگر یہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔ (ترمذی ،ابوداود )

افطاری کروانے کا ثواب

81۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔جس نے حلال کھانے یا پانی سے روزہ افطار کرایا۔فرشتے ماہ رمضان کے اوقات میں اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔اور جبریل ؈ شب قدر میں اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔(المعجم الکبیر)

پیاس بجھ گئی رگیں تر ہوگیں

82۔جب رسول اللہﷺ روزہ افطار کرتے تو فرماتے ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتْ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَائَ اللَّهُ (ترجمہ) پیاس بجھ گئی رگیں تر ہوگئیں اور اجر ثابت ہوگیا اگر اللہ نے چاہا۔(ابو داود)

افطاری کی دعا

83۔رسول اللہﷺ جب روزہ افطار کرتے تو فرماتے اللَّهُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلَی رِزْقِکَ أَفْطَرْتُ (ترجمہ) اے اللہ میں نے تیرے ہی لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی دیئے ہوئے رزق سے افطار کیا۔ (ابوداؤد)

روزہ رکھ کر جھوٹ بولنا

84۔ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جو شخص (بحالتِ روزہ) جھوٹ بولنا اور اس پر(برے) عمل کرنا ترک نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے۔ (بخاری ،ترمذی )

بعض روزے داروں کو بھوک اور جاگنے کے سوا کچھ نہیں ملتا

85۔ حضور نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا۔کتنے ہی روزے دار ایسے ہیں کہ انہیں اپنے روزے سے سوائے بھوک کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، اور (اسی طرح)کتنے ہی راتوں کو جاگنے والے ایسے ہیں کہ انہیں اپنے قیام سے سوائے جاگنے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ (ابن ماجہ، نسائی)

آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا

86۔حضرت عائشہ؅ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ رمضان المبارک کے آخری دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کے حکم سے آپ ﷺ کا وصال ہو گیا۔ پھر آپﷺ کے بعد آپ کی ازواج مطہراتنے بھی اعتکاف کیا ہے۔(متفق علیہ)

دس دن کا اعتکاف

 87۔نبی اکرمﷺ ہر رمضان میں دس دن اعتکاف فرماتے تھے لیکن جس سال آپ ﷺ کا انتقال ہوا اس سال آپ نے بیس دن اعتکاف کیا۔ (ابو داود)

معتکف کے لیے تمام نیکیاں لکھی جانا

88۔حضرت عبد اﷲ بن عباس ؆سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے معتکف کے بارے میں فرمایا۔ وہ گناہوں سے رکا رہتا ہے۔ اس کے لئے ایسی نیکیاں لکھی جاتی ہیں جو تمام نیک عمل کرنے والوں کے لئے لکھی جاتی ہیں۔( ابن ماجہ )

ایک دن اعتکاف کی فضیلت

89۔ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا۔ جو شخص اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک دن اعتکاف بیٹھے ۔اﷲ تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کر دیتا ہے، ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلہ سے زیادہ لمبی ہے۔( طبرانی )

دس دن اعتکاف کی فضیلت

 90۔رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا۔جو شخص رمضان المبارک میں دس دن اعتکاف کرتا ہے اس کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے۔ (طبرانی ،بیہقی)

 شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرنا

91۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو۔  (متفق علیہ )

شب قدر میں قیام کرنے کی فضیلت

 92۔حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔جس نے شب قدر میں حالت ایمان میں ثواب کی غرض سے قیام کیا ۔اُس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔اور جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی غرض سے رمضان کے روزے رکھے۔ اُس کے بھی سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ (متفق علیہ )

شب قدر کی دعا

93۔حضرت عائشہ؅ سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہﷺ! بتائیے اگر مجھے شب قدر معلوم ہو جائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ آپ ﷺنے فرمایا۔کہو۔ ’’اَللّٰهُمَّ إِنَّکَ عُفُوٌّکَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي‘‘ (یا اللہ! تو بہت معاف فرمانے والا کریم ہے، عفو و درگزر کو پسند کرتا ہے پس مجھے معاف فرما دے۔( ترمذی، احمد اور نسائی )

امت کو شب قدر کیوں عطا ہوئی

۔94۔حضرت امام مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے ثقہ (یعنی قابل اعتماد) اہل علم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کو سابقہ امتوں کی عمریں دکھائی گئیں ۔یا اس بارے میں جو اﷲ تعالیٰ نے چاہا دکھایا۔ تو آپﷺ نے اپنی امت کی عمروں کو چھوٹا خیال فرمایا ۔کہ وہ کم عمروں کی وجہ سے اس قدر کثیر اعمال نہ کر سکیں گے ۔جس قدر دیگر امتوں کے افراد اپنی لمبی عمروںکی وجہ سے کر پائیں گے ۔تو اﷲ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو شب قدر عطا فرما دی ۔جو ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے۔(امام مالک ، بیہقی )

شب قدر میں جبریل ؈کا سلام بھیجنا

 95۔حضورﷺنے فرمایا۔جب شب قدر ہوتی ہے۔ تو جبریل؈ فرشتوں کی جماعت میں اترتے ہیں، اور ہر اس کھڑے بیٹھے بندے پر جو اللہ کا ذکر کرتا ہے، سلام بھیجتے ہیں۔جب ان کی عید کا دن ہوتا ہے یعنی عید الفطر کا دن تو اﷲ ان بندوں سے اپنے فرشتوں پر فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ اے میرے فرشتو! اُس مزدور کی اُجرت کیا ہونی چاہیے جو اپنا کام پورا کر دے؟ وہ عرض کرتے ہیں۔ الٰہی! اس کی اُجرت یہ ہے کہ اسے پورا پورا اجر دیا جائے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے فرشتو! میرے بندے اور بندیوں نے میرا وہ فریضہ پورا کر دیا جو ان پر تھا۔ پھر وہ دعا میں دست طلب دراز کرتے ہوئے نکل پڑے۔(اﷲ تعالیٰ نے فرمایا) مجھے اپنی عزت، اپنے جلال، اپنے کرم، اپنی بلندی اور رفعتِ مکانی کی قسم! میں ان کی دعا ضرور قبول کروں گا۔ پھر ( اپنے بندوں سے) فرماتا ہے۔لوٹ جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا۔ فرمایا۔پھر یہ لوگ بخشے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔( بیہقی )

پانچ راتوں کی عبادت پر جنت واجب ہونا

96۔حضرت معاذ بن جبل ؄ نے بیان کیا ۔کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔ جس نے پانچ راتوں کو زندہ رکھا اس کے لئے جنت واجب ہوگئی وہ پانچ راتیں یہ ہیں۔ (1) آٹھویں ذی الحجہ کی شب، (2) نوویں ذی الحجہ کی شب، (3) عید الاضحی کی رات، (4) عید الفطر کی رات، (5) پندرہویں شعبان کی رات۔‘‘ بقول منذری اس کو امام اصبہانی نے روایت کیا ہے۔

روزہ توڑنے کا کفارہ

 97۔نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو حکم فرمایا جس آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ لیا تھا اسے چاہیے کہ وہ ایک غلام آزاد کرے یا دو مہینے کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ (مسلم)

روزے کی حالت میں قے کا حکم

98۔رسول کریمﷺ نے فرمایا جس شخص پر قے غالب آجائے (یعنی خود بخود قے آئے) اور وہ روزہ سے ہو تو اس پر قضا نہیں ہے اور جو شخص (حلق میں انگلی وغیرہ ڈال کر) جان بوجھ کرقے کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے روزے کی قضا کرے ۔(مشکوۃ)

بے اثر روزے بے اثر عبادت

99۔رسول کریم ﷺنے فرمایا بہت سے روزہ دار ایسے ہوتے ہیں۔ جنہیں ان کے روزے سے سوائے پیاسا رہنے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔اور رات میں عبادت میں مشغول رہنے والے بہت سے ایسے ہیں۔ جنہیں ان کی عبادت سے سوائے بےخوابی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ (مشکوۃ۔دارمی)

سفر میں روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کی اجازت

100۔حضرت ابوسعید ؄ فرماتے ہیں کہ ہم رسول کریمﷺ کے ہمراہ جہاد کے لیے روانہ ہوئے۔ تو رمضان کی سولہویں تاریخ تھی ۔ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ۔اور کچھ لوگوں نے روزہ نہ رکھا ۔چنانچہ نہ تو روزہ داروں نے روزہ نہ رکھنے والوں کو برا جانا ۔کیونکہ انہوں نے رخصت یعنی اجازت پر عمل کیا تھا ۔اور نہ روزہ نہ رکھنے والوں نے روزہ داروں کوبرا سمجھا (مسلم۔مشکوۃ)

مسافر روزے داروں کی خدمت کرنا

 101۔ایک مرتبہ ہم نبی کریم ﷺ کے ہمراہ سفر میں تھے ۔ہم میں سے کچھ لوگ تو روزہ دار تھے۔ اور کچھ لوگ بغیر روزہ کے تھے، جب ہم ایک منزل پر اترے تو گرمی کا دن تھا۔ جو لوگ روزہ سے تھے ۔وہ تو گرپڑے ( یعنی ضعف و نا تو انی کی وجہ سے کسی کام کے لائق نہیں رہے) ۔اور جو لوگ روزہ سے نہیں تھے وہ مستعد رہے (یعنی اپنے کام کاج میں مشغول ہوگئے) چنانچہ انہوں نے خیمے کھڑے کئے اور اونٹوں کو پانی پلایا آنحضرت ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا۔ کہ روزہ نہ رکھنے والوں نے آج ثواب کا میدان جیت لیا۔ (بخاری ومسلم۔مشکوۃ)

افطاری سے پہلے روزہ افطار کرنے کا عذاب

102۔حضور ﷺفرماتے ہیں ۔میںسو رہا تھا، دوشخص حاضر ہوئے۔اور میرے بازو پکڑکرایک پہاڑ کے پاس لے گئے اور مجھ سے کہا چڑھیے۔ میںنے کہا۔مجھ میں اس کی طاقت نہیں ، انہوں نے کہا۔ ہم سہل کر دیں گے۔میںچڑھ گیا، جب بیچ پہاڑپر پہنچا توسخت آوازیں سنائی دیں ۔میں نے کہا۔یہ کیسی آوازیں ہیں ؟ انہوں  نے کہا۔ یہ جہنمیوںکی آوازیںہیں۔پھر مجھے آگے لے گئے، میںنے ایک قوم کو دیکھاکہ وہ لوگ اُلٹے لٹکائے گئے ہیں ۔اور اُ ن کی باچھیں چیری جا رہی ہیں ۔جن سے خون بہتا ہے۔ میں نے کہا۔یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا۔یہ وہ لوگ ہیں۔کہ وقت سےپہلےروزہ افطارکردیتےہیں ۔(ابن خزیمہ)

نوٹ:(اگر یہ عذاب افطاری کے وقت سے پہلے روزہ افطار کرلینے کا ہے۔تو روزہ نہ رکھنے کا عذاب کس قدر بڑا ہوگا)

روزے کی حالت میں مسواک کرنا

103۔عامر بن ربیعہ؄فرماتےہیں۔کہ میںنےبےشمارمرتبہ نبیﷺ کوروزے کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا۔(ترمذی)

روزے کی حالت میں سرمہ لگانا

104۔ایک شخص نے نبیﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی ۔میری آنکھ میں مرض ہے۔کیا روزہ کی حالت میں سرمہ لگائوں۔فرمایا ہاں۔(ترمذی)

قیدیوں کی رہائی ہر سائل کو عطا

105۔حضرت ابن عباس؄  فرماتے ہیں ۔کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو حضور ﷺ قیدیوںکو رہا فرما دیتے۔اور ہر سائل کو عطا فرماتے۔(شعب الایمان)

حضور ﷺ پیر کا روزہ کیوں رکھتے

106۔ رسول کریم ﷺ سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میںپوچھاگیا۔ تو آپﷺ نے فرمایا کہ اس دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھ پر کتاب کا نزول شروع ہوا۔ (مسلم ۔مشکوۃ)

صوم الدھر (ہمیشہ روزہ رکھنا)

 107۔ایک دن ایک شخص نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔اور پوچھنے لگا کہ آپ ﷺ روزہ کس طرح رکھتے ہیں ؟ یہ سن کر رسول کریم ﷺکے چہرہ مبارک پر غصہ کے آثار ظاہر ہوگئے، حضرت عمر؄  جو اس وقت مجلس میں حاضر تھے ۔جب آپ ﷺ کے غصہ کی یہ کیفیت دیکھی تو فورا بول اٹھے کہ ہم راضی ہوئے۔ اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺکے نبی ہونے پر۔ اور ہم اللہ اور اس کے رسولﷺ کے غضب سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ حضرت عمر؄   یہ جملے بار بار کہتے رہے۔ یہاں تک کہ آپﷺ کا غصہ ٹھنڈا ہوا ۔اس کے بعد حضرت عمر؄ نے پوچھا۔ کہ اس شخص کے بارےمیں کیا حکم ہے جو ہمیشہ روزہ رکھے ؟ آپﷺ نے فرمایا ۔اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ وہ بغیر روزہ رہا۔ یا فرمایا نہ روزہ رکھا اور نہ بغیر روزہ رہا۔ اس موقع پر راوی کو شک ہے کہ آپ نے لا صام ولا افطر یا لم یصم ولم یفطر فرمایا ۔

پھر حضرت عمر؄ نے پوچھا ۔کہ اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے۔ جو دو دن تو روزہ سے رہے۔ اور ایک دن بغیر روزہ رہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے ؟

 پھر حضرت عمر؄ نے پوچھا کہ اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے۔ جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن روزہ نہ رکھے ؟ فرمایا یہ حضرت داؤد؈ کا روزہ ہے۔ اس کے بعد حضرت عمر؄ نے پوچھا کہ اچھا اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو ایک دن تو روزہ رکھے اور دو دن بغیر روزہ کے رہے ؟ آپﷺ نے فرمایا۔ میں اسے پسند کرتا ہوں ۔کہ مجھے اتنی طاقت میسر آجائے (تین بار)۔

 اس کے بعد آپ ﷺنے فرمایا۔ کہ ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک ہر مہینہ کے تین روزے ہمیشہ کے روزے کے برابر ہیں (یعنی ان کا ثواب ہمیشہ روزہ رکھنے کے ثواب کے برابر ہوتا ہے) ۔

اور (غیر حج کی حالت میں) عرفہ کا روزہ تو مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ اس روزہ کی وجہ سے اس سے پہلے سال کے گناہ دور کر دے گا اور اس کے بعد والے سال کے گناہ بھی دور کر دے گا ۔یعنی یا تو اللہ تعالیٰ آئندہ سال گناہوں سے محفوظ رکھے گا یا یہ کہ اگر گناہ سرزد ہوں گے تو معاف کر دئیے جائیں۔

 اور یوم عاشورہ کے روزے کے بارے میں بھی مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ اس روزہ کی بناء پر ایک سال پہلے کے گناہ دور کر دے گا۔ (مسلم۔مشکوۃ)

صوم الوصال رکھنے کی ممانعت

108۔رسول کریم ﷺنے روزہ پر روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ تو ایک شخص نےعرض کیا۔کہ یارسول اللہ!آپﷺ توروزہ پرروزہ رکھتے ہیں ۔آپﷺ نے فرمایا۔ تم میں سے کون شخص میری طرح ہے، میں تو اس طرح رات گزارتا ہوں میرا پروردگار کھلاتا ہے اور میری پیاس بجھاتا ہے۔ (بخاری ومسلم)

رمضان میں موت کی فضیلت

109۔حضرت عبد اللہ ابن مسعود؄ سے روایت ہے۔حضور ﷺنے فرمایا۔ جس کو رمضان کے وقت موت آئی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس کی موت یوم عرفہ (یعنی9ذوالحجہ ) کے وقت آئی وہ بھی جنت میں داخِل ہوگااور جس کی موت صدقہ دینے کی حالت میں آئی وہ بھی داخل جنت ہوگا۔ (حلیۃ الاولیا)

رمضان المبارک میں عذاب کا موقوف ہونا

  110۔حضرت انس بن مالک؄ سے روایت ہے۔ کہ ماہ رمضان میں مردوں سے عذابِ قبر اٹھا لیا جا تا ہے۔ (شرح الصدور)

تا قیامت روزوں کا ثواب

111۔حضورﷺنے فرمایا۔جس کا انتقال روزے کی حالت میں ہوا۔ اللہ اس کوقیامت تک کے روزوں کا ثواب عطا فرماتا ہے۔ (الفردوس بما ثور الخطاب)

 دس لاکھ گنہگاروں کی بخشش

112۔حضور ﷺ نے فرمایا۔ اللہ ماہِ رمضان میں روزانہ اِفطار کے وقت دس لاکھ ایسے گنہگاروں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے جن پر گناہوں کی وجہ سے جہنم واجب ہوچکا تھا، نیز جمعہ کی شب اور جمعہ کے دن ہر ہر گھڑی میں ایسے دس لاکھ گنہگاروں کوجہنم سے آزاد کیا جا تا ہے جو عذاب کے حقدار قرار دئیے جا چکے ہوتے ہیں ۔ (الفردوس بما ثور الخطاب)

روزے میں شفا ہے

113۔حضورﷺنے فرمایا۔بے شک اللہ نے بنی اسرائیل کے ایک نبی کی طرف وحی فرمائی ۔کہ آپ اپنی قوم کو خبر دیجئے کہ جو بھی بندہ میری رضا کیلئے ایک دن کا روزہ رکھتا ہے۔ تو میں اُس کے جسم کو صحت بھی عنایت فرماتا ہوں اور اس کو عظیم اَجر بھی دوں گا۔(شعب الایمان)

114۔حضور ﷺ نے فرمایا روزہ رکھو۔صحت مند ہو جاو گے۔(معجم الاوسط

روزہ رکھ کر کسی کی غیبت کرنا

115۔جوروزہ رکھ کر لوگوں کا گوشت کھاتا رہے(غیبت کرتارہے) گویا اس نے روزہ رکھا ہی نہیں۔(مصنف ابن ابی شیبہ)


Comments

  1. الھم صل علی محمد وعلی الہ وصحبہ وسلم

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

#Fitna#Dajjal فتنہ دجال

شرح تعبیر و خواب(سید ظہیر حسین شاہ رفاعی) Sharah Tabeer o Khawab by Syed Zaheer Hussain Shah Refai

Shab E Barat ar Shaban ki Fazilat by Syed Zaheer Hussain Refai.شب برات اور شعبان کی فضیلت سید ظہیر حسین شاہ رفاعی