Sahri khany ki Fazilat by Syed Zaheer Hussain Shah Refai.سحری کھانے کی فضیلت سید ظہیر حسین شاہ رفاعی
سحری اور نماز کے درمیان وقفہ
حَدَّثَنَا
عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ
تَسَحَّرُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامُوا
إِلَی الصَّلَاةِ قُلْتُ کَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ قَدْرُ خَمْسِينَ أَوْ سِتِّينَ
يَعْنِي آيَةً
انس (رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ زید بن ثابت نے مجھ سے بیان کیا کہ
صحابہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ سحری کھائی اس کے بعد نماز کے
لیے کھڑے ہوگئے میں نے پوچھا کہ ان دونوں میں کتنا فصل تھا ؟ زید نے کہا پچاس یا
ساٹھ آیت کی تلاوت کے اندازے پر۔ بخاری
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کا سحری جلد
ی کرنا
حَدَّثَنَا
إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ أَخِيهِ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي
حَازِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ کُنْتُ أَتَسَحَّرُ فِي
أَهْلِي ثُمَّ يَکُونُ سُرْعَةٌ بِي أَنْ أُدْرِکَ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ
اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سہل بن سعدرضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں اپنے گھر کے لوگوں میں بیٹھ
کر سحری کھایا کرتا تھا پھر مجھے اس بات کی جلدی پڑجاتی تھی کہ کسی طرح میں فجر کی
نماز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ پڑھ لوں۔بخاری
سحری کھانا برکت
حَدَّثَنَا
آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ
صُهَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ
النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ
بَرَکَةً
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں انھوں نے بیان کیا کہ نبی
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سحری کھاؤ اس لیے کہ سحری کھانے میں برکت
ہوتی ہے۔ بخاری
مسلمانوں اور اہل کتاب میں سحری کھانے کا
فرق
حَدَّثَنَا
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَيٍّ عَنْ أَبِيهِ
عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَصْلُ مَا بَيْنَ
صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْکِتَابِ أَکْلَةُ السَّحَرِ
حضرت عمر بن العاص (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہمارے روزے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان سحری کھانے
کا فرق ہے۔ مسلم
سحری کے کھانے پر دعوت
حَدَّثَنَا
عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ عَنْ الْحَارِثِ
بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي رُهْمٍ عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ دَعَانِي
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی السَّحُورِ فِي
رَمَضَانَ فَقَالَ هَلُمَّ إِلَی الْغَدَائِ الْمُبَارَکِ
حضرت عرباض بن ساریہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ کو رمضان میں سحری کے کھانے پر مدعو کیا تو فرمایا بابرکت
کھانا کھالے۔ ابوداؤد
مومن کی بہترین سحری کھجور
حَدَّثَنَا
عُمَرُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي
الْوَزِيرِ أَبُو الْمُطَرِّفِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى عَنْ سَعِيدٍ
الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ نِعْمَ سَحُورُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ
حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے
ہیں کہ آپ نے فرمایا :" مومن کی بہترین سحری کھجور ہے "۔ ابوداؤد
نماز وتر اور سحری
أَخْبَرَنَا
إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ
أَبِي حَصِينٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ وَثَّابٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ
أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ
وَآخِرِهِ وَأَوْسَطِهِ وَانْتَهَی وِتْرُهُ إِلَی السَّحَرِ
مسروق وحضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ
عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات کے ابتداء
حصے آخری حصے اور درمیانی حصے سب وقتوں میں وتر پڑھے۔ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) کے وتر ادا کرنے کا آخری وقت سحری (کے قریب کا) وقت ہوتا تھا۔ نسائی
سحری میں تاخیر کرنا
أَخْبَرَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا
شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ قُلْتُ
لِعَائِشَةَ فِينَا رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ وَالْآخَرُ
يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ السُّحُورَ قَالَتْ أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ
الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ قُلْتُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
قَالَتْ هَکَذَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
يَصْنَعُ
ابوعطیہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ میں نے عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا)
سے کہا کہ ہمارے درمیان رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے دو
حضرات ہیں ایک تو روزہ جلدی افطار کرتا ہے اور سحری دیر میں کھاتا ہے (وقت فجر کے
نزدیک) اور دوسرے روزہ دیر میں افطار کرتا ہے انھوں نے کہا وہ کون شخص ہے جو افطار
جلدی کرتا ہے اور تاخیر سے سحری کھاتا ہے ؟ میں نے عرض کیا عبداللہ بن مسعود۔
انھوں نے جواب دیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طریقہ سے کرتے تھے۔ نسائی
سحری کو مت چھوڑو
أَخْبَرَنَا
إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا
شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ
اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ فَقَالَ إِنَّهَا بَرَکَةٌ أَعْطَاکُمْ
اللَّهُ إِيَّاهَا فَلَا تَدَعُوهُ
عبداللہ بن حارث (رضی اللہ عنہ) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے
ایک صحابی سے روایت ہے کہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں
حاضر ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سحری تناول فرما رہے تھے آپ (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یہ برکت ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو عطا فرمائی ہے
تو تم لوگ اس کو نہ چھوڑو۔ نسائی
سحری کا کھانا مبارک کھانا
أَخْبَرَنَا
شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ بَصْرِيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ
مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ
عَنْ أَبِي رُهْمٍ عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ
اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو إِلَی السَّحُورِ فِي
شَهْرِ رَمَضَانَ وَقَالَ هَلُمُّوا إِلَی الْغَدَائِ الْمُبَارَکِ
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ ماہ رمضان میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سحری کھانے
کے واسطے لوگوں کو دعوت دیتے تو ارشاد فرماتے تم لوگ صبح کے مبارک کھانے کے واسطے
آجاؤ۔ نسائی
سحری کا کھانا لازم کرلو
أَخْبَرَنَا
سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ بَقِيَّةَ بْنِ
الْوَلِيدِ قَالَ أَخْبَرَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ
عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يکَرِبَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ عَلَيْکُمْ بِغَدَائِ السُّحُورِ فَإِنَّهُ هُوَ الْغَدَائُ
الْمُبَارَکُ
مقدام بن معدی کرب (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم لوگ اپنے اوپر سحری کا کھانا لازم کرو اس لیے کہ وہ
صبح کا مبارک کھانا ہے۔ نسائی
سحری کے وقت کی خواب
حَدَّثَنَا
قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ دَرَّاجٍ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ
أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَصْدَقُ
الرُّؤْيَا بِالْأَسْحَارِ
حضرت ابوسعید (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
نے فرمایا سحری کے وقت دیکھی جانے والی خوابیں زیادہ صحیح ہوتی ہیں ۔ترمذی
سحری کے کھانے سے مدد لو
حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ
صَالِحٍ عَنْ سَلَمَةَ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ
صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْتَعِينُوا بِطَعَامِ السَّحَرِ عَلَی
صِيَامِ النَّهَارِ وَبِالْقَيْلُولَةِ عَلَی قِيَامِ اللَّيْلِ
حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عنہ سے روایت ہے
کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سحری کے کھانے سے دن کے روزے میں اور
دوپہر کو سو کر تہجد کی نماز میں مدد حاصل کرو۔ ابن ماجہ
سحری کا مخصوص وقت اور حضرت علی رضی اللہ
عنہ
حَدَّثَنَا
أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا
عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْعُكْلِيِّ عَنْ
أَبِي زُرْعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ كَانَتْ لِي
سَاعَةٌ مِنْ السَّحَرِ أَدْخُلُ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ كَانَ قَائِمًا يُصَلِّي سَبَّحَ بِي فَكَانَ ذَاكَ
إِذْنُهُ لِي وَإِنْ لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي أَذِنَ لِي
حضرت علی (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ سحری کے وقت ایک مخصوص گھڑی ہوتی
تھی جس میں، میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اگر نبی
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہوتے تو سبحان اللہ کہہ
دیتے یہ اس بات کی علامت ہوتی کہ مجھے اندر آنے کی اجازت ہے اور اگر آپ (صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم) اس وقت نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو یوں ہی اجازت دے دیتے ( اور سبحان
اللہ کہنے کی ضرورت نہ رہتی) ۔مسند احمد
سحری اور ثرید میں برکت
حَدَّثَنَا
عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطَاءٍ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ فِي السَّحُورِ وَالثَّرِيدِ
حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) نے سحری اور ثرید میں برکت کی دعا فرمائی ہے۔ (ثرید اس کھانے کو کہتے
ہیں جس میں روٹیوں کو ٹکڑے کرکے شوربے میں بھگو دیتے ہیں ) ۔مسنداحمد
ایک ہی سحری سے مسلسل روزے
حَدَّثَنَا
عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ سَمِعْتُ
أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ
إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ مَرَّتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ
اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَسْتُ فِي ذَلِكَ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي
رَبِّي وَيَسْقِينِي فَلَا تُكَلِّفُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ الْعَمَلِ مَا لَيْسَ
لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ
حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مرتبہ فرمائی صحابہ کرام (رضوان اللہ
علیہم اجمعین) نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں
؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح
نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا
ہے اس لیے تم اپنی جانوں کو ایسے عمل میں مت تکلیف دو جس کی برداشت کی تم میں طاقت
نہ ہو۔ مسند احمد
سحری کرنے والوں پر رحمتوں کا نزول
حَدَّثَنَا
إِسْمَاعِيلُ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي
كَثِيرٍ عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّحُورُ أَكْلُهُ بَرَكَةٌ
فَلَا تَدَعُوهُ وَلَوْ أَنْ يَجْرَعَ أَحَدُكُمْ جُرْعَةً مِنْ مَاءٍ فَإِنَّ
اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ
حضرت ابوسعید خدری (رضی اللہ عنہ) مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) نے فرمایا سحری کھانا باعث برکت ہے، اس لیے اسے ترک نہ کیا کرو، خواہ پانی
کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو، کیونکہ اللہ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں کے لیے
اپنے اپنے انداز میں رحمت کا سبب بنتے ہیں۔ مسند احمد
سحری میں تاخیر امت کے لیے خیر
حَدَّثَنَا
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ عَنْ
سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الْحِمْصِيِّ عَنْ
أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا
تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْإِفْطَارَ وَأَخَّرُوا السُّحُورَ
حضرت ابوذر (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) نے فرمایا میری امت اس وقت تک خیر پر قائم رہے گی جب تک وہ افطاری میں جلدی
اور سحری میں تاخیر کرتی رہے گی۔ مسند احمد
سحری کے وقت گھوڑوں کی عجیب و غریب دعا
حَدَّثَنَا
حَجَّاجٌ وَهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي
حَبِيبٍ عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ حُدَيْجٍ مَرَّ عَلَى أَبِي
ذَرٍّ وَهُوَ قَائِمٌ عِنْدَ فَرَسٍ لَهُ فَسَأَلَهُ مَا تُعَالِجُ مِنْ فَرَسِكَ
هَذَا فَقَالَ إِنِّي أَظُنُّ أَنَّ هَذَا الْفَرَسَ قَدْ اسْتُجِيبَ لَهُ
دَعْوَتُهُ قَالَ وَمَا دُعَاءُ الْبَهِيمَةِ مِنْ الْبَهَائِمِ قَالَ وَالَّذِي
نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ فَرَسٍ إِلَّا وَهُوَ يَدْعُو كُلَّ سَحَرٍ فَيَقُولُ
اللَّهُمَّ أَنْتَ خَوَّلْتَنِي عَبْدًا مِنْ عِبَادِكَ وَجَعَلْتَ رِزْقِي
بِيَدِهِ فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ قَالَ
أَبِي وَوَافَقَهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ
معاویہ بن حدیج ایک مرتبہ حضرت ابوذر (رضی اللہ عنہ) کے پاس سے گذرے جو
اپنے گھوڑے کے پاس کھڑے ہوئے تھے انھوں نے پوچھا کہ آپ اپنے گھوڑے کی اتنی دیکھ
بھال کیوں کرتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ اس گھوڑے کی دعاء قبول
ہوگئی ہے انھوں نے ان سے پوچھا کہ جانور کی دعاء کا کیا مطلب ؟ حضرت ابوذر (رضی
اللہ عنہ) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کوئی گھوڑا
ایسا نہیں ہے جو روزانہ سحری کے وقت یہ دعاء نہ کرتا ہو اے اللہ آپ نے اپنے بندوں
میں سے ایک بندے کو میرا مالک بنایا ہے اور میرا رزق اس کے ہاتھ میں رکھا ہے لہٰذا
مجھے اس کی نظروں میں اس کے اہل خانہ اور مال و اولاد سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔ مسند
احمد
گھر میں نماز کی جگہ پر سحری کرنا
حَدَّثَنَا
وَكِيعٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ شَدَّادٍ مَوْلَى عِيَاضِ بْنِ
عَامِرٍ عَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَوَجَدَهُ يَتَسَحَّرُ فِي مَسْجِدِ بَيْتِهِ
حضرت بلال (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز کی اطلاع دینے
کے لیے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھر
کی مسجد میں سحری کرتے ہوئے پایا۔ مسند احمد
سحری کا ایک نام فلاح بھی ہے
(۷۷۷۸) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ ، قَالَ
: حدَّثَنِی نُعَیْمُ بْنُ زِیَادٍ أَبُو طَلْحَۃَ الأَنْمَارِیُّ ، قَالَ :
سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ عَلَی مِنْبَرِ حِمْصَ یَقُولُ : قُمْنَا مَعَ
رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃَ ثَلاَثٍ وَعِشْرِینَ
إلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ الأَوَّلِ ، وَقُمْنَا مَعَہُ لَیْلَۃَ خَمْسٍ وَعِشْرِینَ
إلَی نِصْفِ اللَّیْلِ ، وَقُمْنَا مَعَہُ لَیْلَۃَ سَابِعَۃٍ وَعِشْرِینَ حَتَّی
ظَنَنَّا أَنَّہُ یَفُوتُنَا الْفَلاَحُ وَکُنَّا نَعُدُّہُ السَّحُورَ۔ (احمد ۴/۲۷۲۔ ابن خزیمۃ ۲۲۰۴)
حضرت نعیم بن زیاد ابو طلحہ انمار ی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر
کو حمص کے منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ ہم نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
کے ساتھ رمضان کی تیئسویں رات کو رات کے پہلے تہائی حصے تک نماز پڑھتے رہے، پھر ہم
آپ کے ساتھ پچیسویں رات کو آدھی رات تک نماز پڑھتے رہے اور ستائیسویں رات کو ہم
اتنی دیر نماز پڑھتے رہے کہ ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں فلاح فوت نہ ہوجائے، ہم سحری کو
فلاح کہا کرتے تھے۔( ابن ابی شیبہ)
روزہ رکھنے والا سحری بھی کرے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ ، عَنْ شَرِیکٍ ،
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِیِّ
صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَرَادَ أَنْ یَصُومَ
فَلْیَتَسَحَّرْ ، وَلَوْ بِشَیْئٍ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو روزہ رکھنا چاہے
اسے سحری بھی کھانی چاہیے خواہ تھوڑی سی کھائے۔ابن ابی شیبہ
سحری کھاو چاہے ایک گھونٹ ہی
حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ
بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ
عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تَسَحَّرُوا وَلَوْ حَسْوَۃً مِنْ مَائٍ
ایک صحابی فرماتے ہیں کہ سحری کھاؤ خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی کیوں نہ پیو۔ابن
ابی شیبہ
مؤذن سحریوں کے امین
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ
الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی بِبَغْدَادَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ
عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ
حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی مَحْذُورَۃَ وَہُوَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ
الْعَزِیزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی مَحْذُورَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ
جَدِّہِ عَنْ أَبِی مَحْذُورَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- :
((أُمَنَائُ الْمُسْلِمِینَ عَلَی صَلاَتِہِمْ وَسُحُورِہِمُ الْمُؤَذِّنُونَ))۔
سیدنا ابو محذورہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مسلمانوں کے امین جو ان کی نمازوں اور سحریوں کی حفاظت
کرتے ہیں مؤذن ہیں۔سنن کبری للبیہقی
سحری تاخیر سے کرنا انبیاء علیہم السلام
کی سنت
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ
الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ
عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ «
إِنَّا مَعْشَرَ الأَنْبِيَاءِ أُمِرْنَا أَنْ نُؤَخِّرَ السُّحُورَ وَنُعَجِّلَ
الإِفْطَارَ وَأَنْ نَمْسِكَ بِأَيْمَانِنَا عَلَى شَمَائِلِنَا فِى الصَّلاَةِ ».
حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہ) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ہم انبیاء کرام کو یہ حکم دیا گیا ہے ہم سحری تاخیر سے
کریں افطاری جلدی کریں اور نماز کے دوران اپنے دائیں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھیں۔سنن
دار قطنی
Masha Allah bohat ala tareef k qabil.... Elam me ezafa hwa
ReplyDelete