#الآداب والأحكام عن العطس والتثاؤب والجشاء#چھینک جمائی ڈکار کے آداب اور احکامات۔سید ظہیر حسین شاہ رفاعی#Chink Jmai Dakar k aadab ar aihkamat #Syed Zaheer Hussain Shah Refai

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہم صلی علی محمد و علی آلہ وصحبہ وسلم

الآداب    والاحکام عن العطس والتثاؤب والجشاء

چھینک جمائی ڈکار کے آداب و احکامات کے حوالے سے یہ مختصر سی کتاب عارضی طور پر نشر کی جا رہی ہے۔اگر آپ دوران مطالعہ اس میں کسی بھی جگہ لفظی یا معنوی غلطی پائیں ۔تو صدقہ جاریہ کے طور پر اس کی 03044653433 وٹس ایپ نمبر پر نشاندہی فرمائیں۔

رفاعی اسلامک ریسرچ سینٹر

سید ظہیر حسین شاہ رفاعی

سب سے پہلی چھینک کسے اور کیوں آئی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَنَفَخَ فِيهِ الرُّوحَ عَطَسَ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ فَحَمِدَ اللَّهَ بِإِذْنِهِ فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ يَرْحَمُکَ اللَّهُ يَا آدَمُ اذْهَبْ إِلَی أُولَئِکَ الْمَلَائِکَةِ إِلَی مَلَإٍ مِنْهُمْ جُلُوسٍ فَقُلْ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ قَالُوا وَعَلَيْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی رَبِّهِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ تَحِيَّتُکَ وَتَحِيَّةُ بَنِيکَ بَيْنَهُمْ فَقَالَ اللَّهُ لَهُ وَيَدَاهُ مَقْبُوضَتَانِ اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ قَالَ اخْتَرْتُ يَمِينَ رَبِّي وَکِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ مُبَارَکَةٌ ثُمَّ بَسَطَهَا فَإِذَا فِيهَا آدَمُ وَذُرِّيَّتُهُ فَقَالَ أَيْ رَبِّ مَا هَؤُلَائِ فَقَالَ هَؤُلَائِ ذُرِّيَّتُکَ فَإِذَا کُلُّ إِنْسَانٍ مَکْتُوبٌ عُمْرُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ فَإِذَا فِيهِمْ رَجُلٌ أَضْوَؤُهُمْ أَوْ مِنْ أَضْوَئِهِمْ قَالَ يَا رَبِّ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا ابْنُکَ دَاوُدُ قَدْ کَتَبْتُ لَهُ عُمْرَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ يَا رَبِّ زِدْهُ فِي عُمْرِهِ قَالَ ذَاکَ الَّذِي کَتَبْتُ لَهُ قَالَ أَيْ رَبِّ فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُ لَهُ مِنْ عُمْرِي سِتِّينَ سَنَةً قَالَ أَنْتَ وَذَاکَ قَالَ ثُمَّ أُسْکِنَ الْجَنَّةَ مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ أُهْبِطَ مِنْهَا فَکَانَ آدَمُ يَعُدُّ لِنَفْسِهِ قَالَ فَأَتَاهُ مَلَکُ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ قَدْ عَجَّلْتَ قَدْ کُتِبَ لِي أَلْفُ سَنَةٍ قَالَ بَلَی وَلَکِنَّکَ جَعَلْتَ لِابْنِکِ دَاوُدَ سِتِّينَ سَنَةً فَجَحَدَ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ وَنَسِيَ فَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهُ قَالَ فَمِنْ يَوْمِئِذٍ أُمِرَ بِالْکِتَابِ وَالشُّهُودِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رِوَايَةِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا اور ان میں روح پھونکی تو انھیں چھینک آئی۔ انھوں نے کہا الْحَمْدُ لِلَّهِ ۔ چنانچہ انھوں نے اللہ کے حکم سے الْحَمْدُ لِلَّهِ کہا۔ جس کے جواب میں ان کے رب نے فرمایا يَرْحَمُکَ اللَّهُ (اللہ تم پر رحم کرے) اے آدم ان فرشتوں کے پاس جاؤ جو بیٹھے ہوئے ہیں اور انھیں سلام کرو۔ انھوں نے جواب دیا کہ وَعَلَيْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ۔ وہ پھر اپنے رب کی طرف لوٹے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تمہاری اور تمہاری اولاد کی آپس میں دعا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی دونوں مٹھیاں بند کر کے فرمایا ان میں سے جسے چاہو اختیار کرلو۔ انھوں نے عرض کیا میں نے اپنے رب کا دایاں ہاتھ اختیار کیا اور میرے رب کے دونوں ہاتھ ہی داہنے اور برکت والے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہاتھ کھولا تو اس میں آدم اور ان کی ذریت (اولاد) تھی۔ پوچھنے لگے کہ یا رب یہ کون ہیں ؟ فرمایا یہ تمہاری اولاد ہے اور ان سب کی پیشانیوں پر ان کی عمریں لکھی ہوئی تھیں۔ ان میں ایک شخص سب سے زیادہ روشن چہرے والا تھا۔ پوچھا یہ کون ہے ؟ فرمایا یہ آپ کے بیٹھے داؤد ہیں۔ میں نے ان کی عمر چالیس سال لکھی ہے۔ عرض کیا اے رب ان کی عمر زیادہ کر دیجئے۔ فرمایا اتنی ہی ہے جتنی لکھی جاچکی ہے۔ عرض کیا ! اللہ میں نے اپنی عمر سے اسے ساٹھ سال دیدیئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم اور ایسی سخاوت۔ پھر وہ اللہ کی مشیت کے مطابق جنت میں رہے۔ پھر وہاں سے اتارے گئے اور پھر اپنی عمر گننے لگے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں پھر ان کے (آدم (علیہ السلام) کے) پاس موت کا فرشتہ آیا۔ تو آدم (علیہ السلام) ان سے کہنے لگے کہ تم جلدی آگئے میری عمر ہزار سال ہے۔ فرشتے نے عرض کیا کیوں نہیں۔ لیکن آپ نے اس میں سے ساٹھ سال اپنے بیٹے داؤد (علیہ السلام) کو دے دیئے تھے۔ اس پر آدم (علیہ السلام) نے انکار کردیا۔ چنانچہ ان کی اولاد بھی منکر ہوگئی اور آدم سے بھول ہوئی چنانچہ ان کی اولاد بھی بھولنے لگی۔ نبی اکرم نے فرمایا کہ اس دن سے لکھنے اور گواہ مقرر کرنے کا حکم ہوا۔ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے اور کئی سندوں سے ابوہریرہ (رض) سے مرفوعاً منقول ہے۔ ترمذی

چھینک اللہ کو پسند

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَکْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَإِذَا تَثَائَبَ أَحَدُکُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ وَلَا يَقُلْ هَاهْ هَاهْ فَإِنَّمَا ذَلِکُمْ مِنْ الشَّيْطَانِ يَضْحَکُ مِنْهُ

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتے ہیں اور جمائی لے تو حتی الامکان اسے روکے اور ہاہ ہاہ نہ کرے۔ ابوداؤد

مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ خَمْسٌ و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ تَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَی أَخِيهِ رَدُّ السَّلَامِ وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ کَانَ مَعْمَرٌ يُرْسِلُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَأَسْنَدَهُ مَرَّةً عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا مسلمان کے پانچ حق ایسے ہیں جو اس کے بھائی پر واجب ہیں سلام کا جواب دینا، چھینکنے والے کے جواب میں یَرحَمُکَ اللہ کہنا، دعوت قبول کرنا، مریض کی عیادت کرنا اور جنازوں کے ساتھ جانا۔ مسلم

مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ سِتٌّ قِيلَ مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَإِذَا دَعَاکَ فَأَجِبْهُ وَإِذَا اسْتَنْصَحَکَ فَانْصَحْ لَهُ وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول وہ کیا ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تو اس سے ملے تو اسے سلام کر جب وہ تجھے دعوت دے تو قبول کر اور جب وہ تجھ سے خیر خواہی طلب کرے تو تو اس کی خیر خواہی کر جب وہ چھینکے اور اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کہے تو تم دعا دو یعنی یَرحَمُکَ اللہ کہو جب وہ بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہوجائے تو اس کے جنازہ میں شرکت کرو۔ مسلم

 

چھینک والے کی چھینک کا جواب دینا

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَشْعَثِ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَنَهَانَا عَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالْقَسِّيِّ وَالْإِسْتَبْرَقِ

مقرن، براء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم لوگوں کو سات چیزوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا : جنازے کے پیچھے چلنے کا، مریض کی عیادت کرنے کا اور پکارنے والے کو جواب دینے کا، دعوت قبول کرنے کا، مظلوم کی مدد، قسم کے پورا کرنے کا، سلام کا جواب دینے کا اور چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دینے کا ہمیں حکم دیا اور چاندی کے برتن، سونے کی انگوٹھی، حریر، و دیباج، قسی اور استبرق کے استعمال سے ہمیں منع فرمایا۔بخاری

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدٍ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ فَذَکَرَ عِيَادَةَ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعَ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيتَ الْعَاطِسِ وَرَدَّ السَّلَامِ وَنَصْرَ الْمَظْلُومِ وَإِجَابَةَ الدَّاعِي وَإِبْرَارَ الْمُقْسِمِ

معاویہ بن سوید، براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو حکم دیا سات باتوں کا۔ اور سات باتوں سے منع فرمایا پھر مریض کی عیادت، جنازہ کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کا جواب دینا اور مظلوم کی مدد کرنا اور دعوت قبول کرنا اور قسم پوری کرنے کا تذکرہ کیا۔ بخاری

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي کَبْشَةَ السَّلُولِيِّ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُونَ خَصْلَةً أَعْلَاهُنَّ مَنِيحَةُ الْعَنْزِ مَا مِنْ عَامِلٍ يَعْمَلُ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا رَجَائَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ قَالَ حَسَّانُ فَعَدَدْنَا مَا دُونَ مَنِيحَةِ الْعَنْزِ مِنْ رَدِّ السَّلَامِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِمَاطَةِ الْأَذَی عَنْ الطَّرِيقِ وَنَحْوِهِ فَمَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نَبْلُغَ خَمْسَ عَشْرَةَ خَصْلَةً

ابوکبشہ سلولی عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ چالیس خصلتیں ہیں جن میں سب سے بہتر بکریوں کا کسی کو عطا کرنا ہے جو شخص ان میں سے کسی ایک خصلت پر بھی بغرض ثواب اور اللہ کے وعدے کو سچا سمجھ کر عمل کرے گا۔ تو اللہ اس کو جنت میں داخل کرے گا حسان کا بیان ہے کہ ہم بکری کے عطیہ کے علاوہ جن خصائل کا شمار کرسکے وہ یہ ہیں سلام کا جواب دینا چھینک کا جواب دینا راستہ سے تکلیف دہ چیزوں کا دور کردینا وغیرہ وغیرہ ہم پندرہ خصلتوں سے زیادہ شمار نہیں کرسکے۔بخاری

چھینک آنے پر دعا پڑھنا اور سن کر دعا دینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتْ الْآخَرَ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ وَهَذَا لَمْ يَحْمَدْ

سلیمان انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی ان میں سے ایک کو آپ نے یرحمک اللہ کہا اور دوسرے کو نہیں کہا آپ سے کسی نے پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس نے اللہ کی حمد کی اور دوسرے نے اللہ کی حمد نہیں کی۔بخاری

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتْ الْآخَرَ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَمَّتَّ هَذَا وَلَمْ تُشَمِّتْنِي قَالَ إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ وَلَمْ تَحْمَدْ اللَّهَ

سلیمان تیمی حضرت انس (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ دو آدمیوں کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چھینک آئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کی چھینک کا جواب دیا لیکن دوسرے کی چھینک کا جواب نہیں دیا۔ ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے اس کی چھینک کا جواب دیا لیکن میری چھینک کا جواب نہیں دیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس نے الحمد للہ کہا اور تو نے نہیں کہا۔ بخاری

 

حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُکُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَلْيَقُلْ لَهُ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُ يَرْحَمُکَ اللَّهُ فَإِذَا قَالَ لَهُ يَرْحَمُکَ اللَّهُ فَلْيَقُلْ يَهْدِيکُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَکُمْ بالکم شانکم

عبداللہ بن دینار ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص چھینکے تو الحمد للہ کہے اور اس کا بھائی یا ساتھی یرحمک اللہ کہے تو اور جب اس نے يَرْحَمُکَ اللَّهُ کہا (تو چھینکنے والا) َيَهْدِيکُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَکُمْ بالکم (یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت کرے اور تمہارے دل کی اصلاح کرے) کہے۔ بخاری

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ کُنَّا مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ فَقَالَ سَالِمٌ وَعَلَيْکَ وَعَلَی أُمِّکَ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ لَعَلَّکَ وَجَدْتَ مِمَّا قُلْتُ لَکَ قَالَ لَوَدِدْتُ أَنَّکَ لَمْ تَذْکُرْ أُمِّي بِخَيْرٍ وَلَا بِشَرٍّ قَالَ إِنَّمَا قُلْتُ لَکَ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْکَ وَعَلَی أُمِّکَ ثُمَّ قَالَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُکُمْ فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ قَالَ فَذَکَرَ بَعْضَ الْمَحَامِدِ وَلْيَقُلْ لَهُ مَنْ عِنْدَهُ يَرْحَمُکَ اللَّهُ وَلْيَرُدَّ يَعْنِي عَلَيْهِمْ يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَکُمْ

حضرت ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ایک بار ہم سلام بن عبید (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ سفر میں تھے لوگوں میں سے ایک شخص چھینکا اور کہا السلام علیکم تو سالم نے کہا کہ تجھ پر اور تیری والدہ پر بھی سلام ہو پھر بعد میں کہا کہ شاید تجھے میری بات ناگوار گزری ہے اس نے کہا میں تو یہ چاہتا تھا کہ آپ میری والدہ کا ذکر ہی نہ کرتے نہ نیکی کے ساتھ اور نہ برائی کے ساتھ۔ سالم نے کہا کہ میں نے تو وہی کہا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ ایک بار ہم آپ کے پاس تھے کہ ایک آدمی کو چھینک آئی اس نے کہا السلام علیکم تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تجھ پر اور تیری والدہ پر بھی پھر آپ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ الحمدللہ کہے پھر آپ نے اللہ کی تعریف کے بعض کلمات ذکر کئے اَلحَمدُ لِلّٰہ رَبِّ العَالَمِین۔ اَلحَمدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَال یا صرف اَلحَمدُ لِلّٰہ اور چاہیے کہ چھینکنے والے کے قریب بیٹھا ہوا شخص کہے یَرحَمُکَ اللہ۔ اور پھر چھینکنے والا اسے جواب دے کہ یَغفِرُاللہُ لَنَا وَلَکُم۔ ابوداؤد

 

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُکُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَی کُلِّ حَالٍ وَلْيَقُلْ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُ يَرْحَمُکَ اللَّهُ وَيَقُولُ هُوَ يَهْدِيکُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَکُمْ

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی چھینکے تو الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَی کُلِّ حَالٍ کہے اور اس کا بھائی یا ساتھی کہے يَرْحَمُکَ اللَّهُ اور پھر وہ دوبارہ کہے يَهْدِيکُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَکُمْ ۔ ابوداؤد

زکام کی چھینک کا حکم

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ عَنْ أَبِيهِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُ يَرْحَمُکَ اللَّهُ ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَی فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ مَزْکُومٌ

حضرت ایاس بن سلمہ بن اکوع (رضی اللہ عنہ) بیان فرماتے ہیں کہ ان کے باپ نے بیان فرمایا کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ ایک آدمی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چھینکا تو آپ نے اس کے لیے دعا فرمائی یرحمک اللہ پھر اس آدمی نے دوسری مرتبہ چھینکا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا اسے تو زکام ہے۔مسلم

کتنی بار چھینک کا جواب دے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ شَمِّتْ أَخَاکَ ثَلَاثًا فَمَا زَادَ فَهُوَ زُکَامٌ

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ اپنے بھائی کو تین بار چھینک کا جواب دو ۔ اور جو اس سے زیادہ چھینکیں ہوں تو وہ زکام کی وجہ سے ہیں لہٰذا ان کا جواب ضروری نہیں۔ ابوداؤد

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَحْيَی بْنِ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أُمِّهِ حُمَيْدَةَ أَوْ عُبَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِيهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُشَمِّتُ الْعَاطِسَ ثَلَاثًا فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُشَمِّتَهُ فَشَمِّتْهُ وَإِنْ شِئْتَ فَکُفَّ

حمیدہ یا عبیدہ بنت عبید بن رفاعہ الزرقی سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ چھینکنے والے کو تین بار جواب دو اس کے بعد اگر چاہو تو جواب دو اور چاہو تو رک جاؤ۔ ابوداؤد

جمائی شیطان کی طرف سے ہے

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَکْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَحَقٌّ عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ أَنْ يُشَمِّتَهُ وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنْ الشَّيْطَانِ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِذَا قَالَ هَا ضَحِکَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتا ہے اور جمائی کو ناپسند فرماتا ہے جب کوئی شخص چھینکے اور الحمدللہ کہے تو ہر مسلمان پر جو اس کو سنے واجب ہے کہ اس کا جواب دے (یعنی یرحمک اللہ کہے) اور جمائی شیطان کی طرف سے ہے جہاں تک ممکن ہو اس کو روکے جب کوئی شخص ہا کی آواز نکالتا ہے تو اس سے شیطان ہنستا ہے۔ بخاری

جمائی آے تو انسان کیا کرے

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَکْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَإِذَا عَطَسَ أَحَدُکُمْ وَحَمِدَ اللَّهَ کَانَ حَقًّا عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ لَهُ يَرْحَمُکَ اللَّهُ وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَائَبَ أَحَدُکُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا تَثَائَبَ ضَحِکَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ

سعید مقربی مقربی کے والد ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتا ہے اور جمائی کو برا سمجھتا ہے جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہے تو ہر سننے والے مسلمان پر واجب ہے کہ اس کو يَرْحَمُکَ اللَّهُ کہے اور جمائی شیطان کی طرف سے ہے جب تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے تو اس کو جہاں تک ممکن ہو دفع کرنا چاہیے اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی شخص جمائی لیتا ہے تو شیطان اس سے ہنستا ہے۔بخاری

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُطَاسُ مِنْ اللَّهِ وَالتَّثَاؤُبُ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَائَبَ أَحَدُکُمْ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَی فِيهِ وَإِذَا قَالَ آهْ آهْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَکُ مِنْ جَوْفِهِ وَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَکْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ آهْ آهْ إِذَا تَثَائَبَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَکُ فِي جَوْفِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا چھینک اللہ کی طرف سے اور جمائی شیطان کی طرف سے ہے۔ اگر کسی کو جمائی آئے تو اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لے اس لیے کہ جب جمائی لینے والا آہ، آہ کہتا ہے تو شیطان اس کے منہ کے اندر ہنستا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے۔ لہٰذا جب کوئی جمائی لیتے وقت آہ، آہ کہتا ہے تو شیطان اس کے منہ کے اندر سے ہنستا ہے۔ یہ حدیث حسن ہے۔ترمذی

اگر نما زمیں چھینک آے یا کسی کی چھینک سنے

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَرْحَمُکَ اللَّهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ وَا ثُکْلَ أُمِّيَاهْ مَا شَأْنُکُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَی أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي لَکِنِّي سَکَتُّ فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ فَوَاللَّهِ مَا کَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي قَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْئٌ مِنْ کَلَامِ النَّاسِ إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّکْبِيرُ وَقِرَائَةُ الْقُرْآنِ أَوْ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَقَدْ جَائَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَأْتُونَ الْکُهَّانَ قَالَ فَلَا تَأْتِهِمْ قَالَ وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ قَالَ ذَاکَ شَيْئٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ فَلَا يَصُدَّنَّکُمْ قَالَ قُلْتُ وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ قَالَ کَانَ نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَائِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاکَ قَالَ وَکَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَی غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّيبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ کَمَا يَأْسَفُونَ لَکِنِّي صَکَکْتُهَا صَکَّةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَظَّمَ ذَلِکَ عَلَيَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُعْتِقُهَا قَالَ ائْتِنِي بِهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ لَهَا أَيْنَ اللَّهُ قَالَتْ فِي السَّمَائِ قَالَ مَنْ أَنَا قَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ

معاویہ ابن حکم سلمی (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران جماعت میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے (یَرحَمُکَ اللہ) کہہ دیا تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کردیا میں نے کہا کاش کہ میری ماں مجھ پر رو چکی ہوتی تم مجھے کیوں گھور رہے ہو یہ سن کر وہ لوگ اپنی رانوں پر اپنے ہاتھ مارنے لگے پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ لوگ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوگئے میرا باپ اور میری ماں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے نہ ہی آپ کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہتر کوئی سکھانے والا دیکھا اللہ کی قسم نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے جھڑکا اور نہ ہی مجھے مارا اور نہ ہی مجھے گالی دی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ نماز میں لوگوں سے باتیں کرنی درست نہیں بلکہ نماز میں تو تسبیح اور تکبیر اور قرآن کی تلاوت کرنی چاہیے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے زمانہ جاہلیت پایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی دولت سے نوازا ہے ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ان کے پاس نہ جاؤ میں نے عرض کیا ہم میں سے کچھ لوگ برا شگون لیتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو وہ لوگ اپنے دل میں پاتے ہیں تم اس طرح نہ کرو پھر میں نے عرض کیا ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انبیاء کرام میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھیچتے تھے تو جس آدمی کا لکیر کھینچھنا اس کے مطابق ہو وہ صحیح ہے۔ (لیکن اس طرح لکیر کھینچنا کسی کو معلوم نہیں اس لیے حرام ہے) راوی معاویہ کہتے ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے علاقوں میں میری بکریاں چرایا کرتی تھی ایک دن میں وہاں گیا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا میری ایک بکری کو اٹھا کرلے گیا ہے آخر میں بھی بنی آدم سے ہوں مجھے بھی غصہ آتا ہے جس طرح کہ دوسرے لوگوں کو غصہ آجاتا ہے میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا مجھ پر یہ بڑا گراں گزرا اور میں نے عرض کیا کیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے میرے پاس لاؤ میں اسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے اس لونڈی نے کہا آسمان میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا میں کون ہوں اس لونڈی نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس لونڈی کے مالک سے فرمایا اسے آزاد کر دے کیونکہ یہ لونڈی مومنہ ہے۔مسلم

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا شَرِيکٌ عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَفَعَهُ قَالَ الْعُطَاسُ وَالنُّعَاسُ وَالتَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ وَالْحَيْضُ وَالْقَيْئُ وَالرُّعَافُ مِنْ الشَّيْطَانِ

حضرت عدی بن ثابت اپنے والد اور وہ ان کے داد سے مرفوعاً نقل کرتے ہیں کہ نماز کے دوران چھینک، اونگھ، حیض، قے اور نکسیر پھوٹنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ترمذی

چھینک لینے کے مسنون آداب

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ وَضَعَ يَدَهُ أَوْ ثَوْبَهُ عَلَی فِيهِ وَخَفَضَ أَوْ غَضَّ بِهَا صَوْتَهُ شَکَّ يَحْيَی

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب چھینک لیتے تو اپنا دست مبارک یا اپنا کپڑا اپنے منہ پر رکھ لیتے اور اپنی آواز پست اور نیچی رکھتے۔ابوداؤد

اگر کسی غیر مسلم کو چھینک لیتے سنے تو کیا کہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَکِيمِ بْنِ الدَّيْلَمِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَتْ الْيَهُودُ تَعَاطَسُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَائَ أَنْ يَقُولَ لَهَا يَرْحَمُکُمْ اللَّهُ فَکَانَ يَقُولُ يَهْدِيکُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَکُمْ

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انھوں نے فرمایا کہ یہودی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر چھینکتے اس امید پر کہ آپ انھیں يَرْحَمُکُمْ اللَّهُ کہیں گے لیکن آپ انھیں يَهْدِيکُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَکُمْ کہتے۔ ابوداؤد

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ التَّثَاؤُبُ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَائَبَ أَحَدُکُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا قَالَ هَا ضَحِکَ الشَّيْطَانُ

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جمائی لینا شیطان کی طرف سے ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو حتیٰ الامکان اس کو روکے کیونکہ جب جمائی لیتے وقت کوئی ہا کہتا ہے تو شیطان ہنستا ہے۔ بخاری

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ مَالِکُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنًا لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يُحَدِّثُ أَبِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَثَاوَبَ أَحَدُکُمْ فَلْيُمْسِکْ بِيَدِهِ عَلَی فِيهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ

حضرت ابوسعید (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کسی آدمی کو جمائی آئے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے روکے کیونکہ شیطان اندر داخل ہوجاتا ہے۔مسلم

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ التَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَائَبَ أَحَدُکُمْ فَلْيَکْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَجَدِّ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ کَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ التَّثَاؤُبَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ إِبْرَاهِيمُ إِنِّي لَأَرُدُّ التَّثَاؤُبَ بِالتَّنَحْنُحِ

علاء بن عبدالرحمن ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جمائی لینا نماز میں شیطان کی طرف سے ہے پس اگر تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے منہ بند کرکے روکنے کی کوشش کرے اس باب میں ابوسعید خدری اور عدی بن ثابت کے دادا سے بھی روایت ہے امام ابوعیسیٰ ترمذی (رح) فرماتے ہیں کہ حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے اور اہل علم کی ایک جماعت نے نماز میں جمائی لینے کو مکروہ کہا ہے ابراہیم کہتے ہیں میں کنگھار کے ذریعے جمائی کو لوٹا دیتا ہوں ۔ترمذی

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيُبْغِضُ أَوْ يَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَإِذَا قَالَ أَحَدُهُمْ هَا هَا فَإِنَّمَا ذَلِكَ الشَّيْطَانُ يَضْحَكُ مِنْ جَوْفِهِ

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی سے نفرت کرتا ہے۔ جب کوئی آدمی جمائی لینے کے لیے منہ کھول کر ہاہا کرتا ہے تو وہ شیطان ہوتا ہے جو اس کے پیٹ میں سے ہنس رہا ہوتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمائی سے محفوظ

حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی فَزَارَۃَ الْعَبْسِیِّ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ الأَصَمِّ ، قَالَ : مَا تَثَائَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی صَلاَۃ قَطُّ۔

حضرت یزید بن اصم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی نماز میں جمائی نہیں لی۔ابن ابی شیبہ

جمائی آے تو کیا کرنا چاہیے

حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَِسَافٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: إذَا تَثَائَبَ أَحَدُکُمْ فِی الصَّلاَۃ فَلْیَضَعْ یَدَہُ عَلَی فِیہِ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں جمائی آئے تو اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھے۔ابن ابی شیبہ

نماز میں جمائی آنا اور وعظ و نصیحت کے دوران چھینک آنا

حَدَّثَنَا عَبْدَۃَُ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ خِلاَسٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : التَّثَاؤُبُ فِی الصَّلاَۃ مِنَ الشَّیْطَانِ وَشِدَّۃُ الْعُطَاسِ وَالنُّعَاسُ عِنْدَ الْمَوْعِظَۃِ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں جمائی آنا اور موعظت کے وقت زیادہ چھینکیں اور نیندآنا شیطان کی طرف سے ہے۔ ابن ابی شیبہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : التَّثَاؤُبُ فِی الصَّلاَۃ وَالْعُطَاسُ مِنَ الشَّیْطَانِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّہِ مِنْہُ۔

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں جمائی اور چھینک آنا شیطان کی طرف سے ہے، اس سے اللہ کی پناہ مانگو۔ ابن ابی شیبہ

دوران تلاوت اگر جمائی آجاے تو

حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : إذَا تَثَائَبَ فِی الصَّلاَۃ فَلْیُمْسِکْ ، عَنِ الْقِرَائَۃِ۔

حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں جمائی آئے تو وہ قراءت سے رک جائے۔ابن ابی شیبہ

جمائی کیسے آتی ہے

حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، قَالَ : نُبِّئْتُ أَنَّ لِلشَّیْطَانِ قَارُورَۃً یُشِمُّہَا الْقَوْمَ فِی الصَّلاَۃ کَیْ یَتَثَائَبُوا۔

حضرت عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ شیطان کے پاس ایک شیشی ہے جسے وہ جمائی لانے کے لیے لوگوں کو سونگھاتا ہے۔ابن ابی شیبہ

جنت میں ڈکار

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْکُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَتْفُلُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ قَالُوا فَمَا بَالُ الطَّعَامِ قَالَ جُشَائٌ وَرَشْحٌ کَرَشْحِ الْمِسْکِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ کَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ

ابی سفیان، حضرت جابر (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ جنت والے جنت میں کھائیں گے اور پئیں گے اور تھوکیں گے نہیں اور نہ ہی پیشاب کریں گے اور نہ ہی پاخانہ کریں گے اور نہ ہی ناک صاف کریں گے صحابہ کرام نے عرض کیا تو پھر کھانا کدھر جائے گا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ڈکار اور پسینہ آئے گا اور پسینہ مشک کی طرح خوشبودار ہوگا اور ان کو تسبیح یعنی سُبْحَانَ اللَّهِ اور تحمید یعنی اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کا الہام ہوگا جس طرح کہ انھیں سانس کا الہام ہوتا ہے۔بخاری

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ قَالَ حَسَنٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْکُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَکِنْ طَعَامُهُمْ ذَاکَ جُشَائٌ کَرَشْحِ الْمِسْکِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالْحَمْدَ کَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ قَالَ وَفِي حَدِيثِ حَجَّاجٍ طَعَامُهُمْ ذَلِکَ

حضرت جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت والے جنت میں کھائیں گے اور پئیں گے لیکن وہ اس میں پاخانہ نہیں کریں گے لیکن ان کا کھانا ایک ڈکار کی صورت میں تحلیل ہوجائے گا جس سے مشک کی طرح خوشبو آئے گی اور ان کو تسبیح وتحمید اس طرح سکھائی جائے گی جس طرح تمہیں سانس لینا سکھایا گیا ہے اور حجاج کی حدیث میں طَعَامُهُمْ ذَلِکَ یعنی ان کا کھانا کے الفاظ ہیں۔ بخاری

اپنی ڈکار ہم سے دور رکھو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی الْبَکَّائُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ تَجَشَّأَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کُفَّ عَنَّا جُشَائَکَ فَإِنَّ أَکْثَرَهُمْ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا أَطْوَلُهُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ

حضرت ابن عمر (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ڈکار لی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنی ڈکار کو ہم سے دور رکھو کیونکہ دنیا میں زیادہ پیٹ بھر کر کھانے والے قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکے رہیں گے۔ترمذی

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Comments

Popular posts from this blog

#Fitna#Dajjal فتنہ دجال

شرح تعبیر و خواب(سید ظہیر حسین شاہ رفاعی) Sharah Tabeer o Khawab by Syed Zaheer Hussain Shah Refai

Shab E Barat ar Shaban ki Fazilat by Syed Zaheer Hussain Refai.شب برات اور شعبان کی فضیلت سید ظہیر حسین شاہ رفاعی